اِنڈیا انگلینڈ پہلے 2ٹیسٹ میچ |جورُوٹ ایشون آن ٹاپ

Ind Vs Eng

4ٹیسٹ میچوں کی سیریز1۔1سے برابر ہو گئی ہے

Arif Jameel عارف‌جمیل جمعہ فروری

Ind Vs Eng
پہلے ٹیسٹ میچ کی اہم خبریں: ﴾ انگلینڈ کے کپتان جو رُوٹ نے اپنے100 ویں ٹیسٹ میچ میں ڈبل سنچری بنا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ ﴾ جورُوٹ پہلے کرکٹر بن گئے جنہوں نے 98،99اور100ویں ٹیسٹ میچ میں مسلسل سنچریاں بنائیں۔ ﴾ اِنڈیا کے فاسٹ باؤلر ایشانت شرما نے ڈین لارنس کو آؤٹ کر کے اپنے98ویں ٹیسٹ میچ میں 300ٹیسٹ وکٹیں مکمل کر لیں۔ دوسرے ٹیسٹ میچ کی اہم خبریں: ﴾ دونوں ٹیموں میں تبدیلیاں ﴾ دوسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ مبصرین کی طرف سے پیچ پر انتہائی تنقید ﴾ اِنڈین سپین باؤلر ایشون کی ٹیسٹ میچ میں سنچری اور 5وکٹیں۔

اِنڈیا اور مہمان ٹیم انگلینڈکے درمیان 4 کرکٹ ٹیسٹ میچوں کی یہ ایک اہم ترین سیریز جاری ہے جس کے بعد آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کی فہرست میں اِنڈیا،آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ترتیب بدلنی ہے۔

(جاری ہے)

لہذا ٹورنامنٹ کی اس 21ویں ٹیسٹ سیریزپر تمام کی نظر ہے کیونکہ آسٹریلیا نے کورونا کویڈ 19کو بنیاد بنا کر مارچ2021ء میں جنوبی افریقہ میں3ٹیسٹ مچوں کی سیریز کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔

اِنڈیا بمقابلہ انگلینڈاس سیریز میں اِنڈیا کی طرف سے ایک دفعہ پھر بیٹی کی پیدائش کے بعد ویرات کوہلی نے کپتانی کی ذمہداری سنبھال لی اور انگلینڈ کے کپتان جو رُوٹ ہیں۔اس سیریز میں کورونا کویڈ 19کی احتیاطی تدبیر کے باوجود شائقین کی ایک مخصوص تعداد کو میچ دیکھنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ اِنڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان پہلے دونوں ٹیسٹ میچ ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم چنئی ، تمل ناڈو ،میں کھیلے گئے۔

یہ اسٹیڈیم پہلے مدرس کرکٹ کلب گراؤنڈ سے مشہور تھا بعد میں اسکا نا م بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن اِنڈیا( بی سی سی آئی)کے سابق صدر ایم۔اے۔ چدمبرم کے نام پر رکھ دیا گیا۔اس کو چیپاک اسٹیڈیم بھی کہا جاتا ہے۔ پہلا پانچ روزہ کرکٹ ٹیسٹ میچ 5ِ فروری اور دوسرا ٹیسٹ میچ 13ِ فروری 2021ء کو کھیلا گیا۔دونوں ٹیسٹ میچوں میں کچھ مشترکہ اور کچھ دِلچسپ باتیں دیکھنے میں آئیں۔

دونوں ٹیسٹ میچ ایک ہی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے۔پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کی اور 227رنز سے ٹیسٹ میچ جیت لیا۔جبکہ دوسرے ٹیسٹ میچ میں اِنڈیا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کو ترجیح دی اور317رنز سے میچ جیت لیا۔دوٹیسٹ میچوں کے بعد سیریز 1۔1ٹیسٹ میچ سے برابر ہو گئی اور ابھی 2ٹیسٹ میچ باقی ہیں۔ پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے کپتان جورُوٹ نے ڈبل سنچری بنا کر اِنڈیا کے باؤلرز کے چھکے چُھوڑا دیئے اور دوسرے ٹیسٹ میچ میں روی چندرن اشون نے اپنی باؤلنگ سے انگلینڈ کو قابو اور بیٹنگ میں سنچری بنا کر نڈھال کر دیا۔

اسطرح دونوں ٹیسٹ میچوں کی جیت میں جہاں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کا ٹیم موریل نظر آیا وہاں جورُوٹ اور اشون کو اپنے اپنے ملک کی طرف سے بہترین کھیل اور جیت میں اہم کارکردگی دکھانے پر مین آف دِی میچ بھی ملا۔ دونو ں ٹیسٹ میچوں میں پیچ زیر ِبحث رہی ۔ پہلے ٹیسٹ میں پیچ کے بارے میں اِنڈین کپتان ویرات کوہلی کی رائے تھی کہ بیٹنگ پیچ ہے جس پر اُنکی ٹیم خود ناکام نظر آئی ۔

یہ کہا جاسکتا ہے پہلے تین روز بیٹنگ وکٹ تھی اور900سے زائد رنز بنے لیکن اگلے 2روز پیچ مکمل طور پر باؤلرز کے حق میں نظر آئی۔جس میں 370رنز بنے اور20وکٹیں گریں ۔دوسرے ٹیسٹ میچ پر انگلینڈ کے ڈھیر ہو نے پر پیچ پر انگلینڈ کے مبصرین کی طرف سے بہت تنقید ہوئی ۔حالانکہ انگلینڈ کی شکست کی وجہ پیچ سے زیادہ دوسرے ٹیسٹ میچ میں ٹیم میں تبدیلیاں ہیں۔

خصوصاً فاسٹ باؤلر جیمز اینڈریسن جو پہلے ٹیسٹ کی کامیابی میں اہم کردار تھے بغیر کسی انجیری کے آرام کا کہہ کر باہر بیٹھا دیا گیا۔اُنکی جگہ اسٹورٹ براڈ کو شامل کیا گیا جنہوں نے پورے ٹیسٹ میچ میں ایک وکٹ بھی نہ لی۔بہرحال انڈین وکٹیں ماضی میں بھی سوالیہ رہیں ہیں۔لیکن ابھی تک دونوں ٹیسٹ میچوں میں ٹیموں کی کارکردگی سے میچوں کا فیصلہ ہو ا ہے نہ کہ پیچ ۔

پہلے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں انگلینڈ کی ٹیم اِنڈیا کی ہوم گراؤنڈ پر 578 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی ۔ جس میں کپتان جورُوٹ نے مسلسل تیسری سنچری بنائی جس میں سے دوڈبل سنچریاں تھیں۔اسکے علاوہ جورُوٹ پہلے کرکٹر بن گئے جنہوں نے اپنے100 ویں ٹیسٹ میچ میں ڈبل سنچری بنا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔یہ اُنکی 5ویں ڈبل سنچری تھی ۔ ساتھ میں پہلے کرکٹر بن گئے جنہوں نے 98،99اور100ویں ٹیسٹ میچ میں مسلسل سنچریاں بنائیں۔

جورُوٹ 218رنز بنا کر آؤ ٹ ہو ئے ۔ اُنکے ساتھ پہلی اننگز میں اوپنر ڈوم سبیلی نے87اور آل راؤنڈر بین اسٹوکس نے 82 رنز کی اننگز کھیلی۔اِنڈیاکے کرکٹ گراؤنڈکی پیچ ہمیشہ ہوم ٹیم کے فائدے کے مطابق بنا ئی جاتی ہے جو چند گھنٹوں کے بعد ہی سپین باؤلرز کیلئے مدد گار ثابت ہو تی ہیں ۔لہذا پہلی اننگز میں جسپریت بمرا اور اشون3،3کھلاڑی آؤٹ کر کے نما یاں رہے۔

کیونکہ گیند سیدھی بھی رہی ۔نیچے بھی اور سپین بھی ہوئی۔ انگلینڈ کے کپتان جورُوٹ نے پیچ کی حالت دیکھ کر سمجھ داری سے کا م لیا اور تیز اور سپین باؤلنگ کا مشترکہ دباؤ ڈال کر اِنڈین بیٹنگ کو پریشان کر دیا ۔پہلے دونوں اوپنر فاسٹ باؤلر جوفرا آرچر نے آؤٹ کر دیئے اور پھر اگلی 6وکٹیں سپنر ڈوم بیس اور جیک لیچ نے 4اور2 کی ترتیب سے حاصل کیں۔جن میں کپتان ویرات کو ہلی صرف11رنز بنا کر ڈوم بیس کا شکار ہو ئے۔

پُچارا 73رنز پر اور وکٹ کیپر ریسابھ پنت نروس 90میں91رنز پر ڈوم بیس کے ہاتھوں ہی آؤٹ ہوئے۔اپنا دوسرا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے واشنگٹن سُندر اعتماد سے کھیلتے رہے اور85رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔آخری دو کھلاڑی جیمز اینڈریسن نے آؤٹ کیئے اور اِنڈیا کی ٹیم کو337کے اسکور پر آل آؤٹ ہو نے کے بعد فالو آن ہو گیا۔ ابھی ٹیسٹ میچ میں تقریباً دو روز باقی تھے لہذا انگلینڈ کے کپتان جورُوٹ نے اِنڈیا کو فالو آن کر نے کے باوجود خود بیٹنگ کرنے کو ترجیح دی اور تیز کھیل کر زیادہ سے زیادہ ہدف دینے کی کوشش کی۔

لیکن اِنڈیا کے کپتان ویرات کوہلی کا سپین باؤلنگ اٹیک اُنکو لے بیٹھا اور دِن کے اختتام سے چند منٹ پہلے انگلینڈ کی آل ٹیم 178کے مجموعی اسکور پر ڈھیر ہو گئی۔بلے بازی میں جورُوٹ نے40رنز بناکر اور باؤلنگ میں اشون6وکٹیں لے کر کے نمایاں رہے۔اس اننگز میں اِنڈیا کے فاسٹ باؤلر اشانت شرما نے ڈین لارنس کو آؤٹ کر کے اپنے98ویں ٹیسٹ میچ میں 300ٹیسٹ وکٹیں مکمل کر لیں۔

آخری چوتھی اننگز میں اِنڈیا کیلئے ایک بڑا ہدف 419رنز کا تھا اور پیچ کی حالت کا اندازہ اُنھیں اپنے سپین باؤلرز سے ہو چکا تھا لہذا آخری دِن اِنڈیا کی کوشش تھی کہ میچ برابر ہو جائے لیکن جو رُوٹ بھی منجھے ہو ئے کپتان تھے ایک طرف سے سپنر جیک لیچ سے اُنکی کمر توڑی اور4وکٹیں گرا دیں اور دوسری طرف سے فاسٹ باؤلر جیمز اینڈریسن نے ایک ایسا باؤلنگ سپیل کر دیا کہ اِنڈیا کا میچ برا بر کرنے کا خواب ٹوٹ گیا۔

اُنھوں نے پہلے اوپنر شوب مین گِل کو50کے انفرادی اسکور پر آؤٹ کر دیا پھر اُسی اوور میں اجنکیا رہانے کو صفر پر ۔تیسری اہم وکٹ اُنھوں نے وکٹ کیپر ریسابھ پنت کی لی جو 11رنز بنا سکے۔ اُنکی ریورس سوئنگ کی دُھوم مچ گئی۔ ابھی آخری اُمید کپتان ویرات کوہلی وکٹ پر کھیل رہے تھے کہ بین اسٹوکس کی ایک سیدھی گیند کو کھیلنے کی کوشش میں وہ اُس وقت کلین بولڈ ہو گئے جب وہ گیند پیچ کی خراب حالت کی وجہ سے بیٹھ گئی۔

اُنکے بعد آخری دو کھلاڑی بھی سنبھل نہ سکے اور چائے کے وقفے سے پہلے 192پر ٹیم پویلین میں بیٹھ کر سوچ رہی تھی کہاں غلطی ہو ئی؟ انگلینڈ کو 30پوائنٹس ملے اور پہلی دفعہ وہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کی فہرست میں پہلے نمبر پر آکرفائنل کھیلنے کی لائن میں شامل ہو گیا۔جبکہ اِنڈیا چوتھے نمبر پر آگیا۔ دوسرے ٹیسٹ میچ میں اِنڈیا نے شکست بعد تین تبدیلیا ں کیں۔

واشنگٹن سُندر ،شہباز ندیم اور جسیرپت بمرا کی جگہ کلدیپ یادیو،محمد سراج اور ایک نئے بائیں ہاتھ کے سپنر ایکسر پٹیل کو ڈبیو کروایا ۔لیکن انگلینڈ کی ٹیم نے پہلے ٹیسٹ میں جیت کے بعد حیران کُن انداز میں ٹیم میں چار تبدیلیاں کر ڈالیں۔ وکٹ کیپرجوس بٹلر،ڈوم بیس،جوفرا آرچر اور جیمز اینڈریسن کی جگہ اولے اسٹون، معین علی ،اسٹورٹ براڈ اور وکٹ کیپر بین فوکس کو شامل کیا گیا۔

اب اسکے بعد جب میچ شروع ہوا تو آغاز میں تو انگلینڈ کو کامیابیاں ملنا شروع ہو گئیں لیکن اس دوران اوپنر روہت شرما وکٹ پر ڈٹ گئے اور چاروں طرف زبردست اشارٹس لگاتے رہے اور شاندار 161 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے ۔اعتماد سے اُنکا ساتھ اجنکیا رہانے بھی دیتے رہے جو اُنکے بعد 67کے انفرادی اسکور پر معین علی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ وکٹ کیپر ریسابھ پنت ذمہ داری سے کھیلتے رہے اور جب مجموعی اسکور 329ہوا تو آل ٹیم آؤٹ ہوگئی ۔

ریسا بھ پنت نے ناقابل ِشکست 58رنز بنائے۔ جبکہ انگلینڈ کی طرف سے معین علی نے4 اور اولے اسٹون نے3 کھلاڑی آؤ ٹ کیئے۔ روہت شرما کی ذمہ ارانہ بیٹنگ کی وجہ سے اِنڈیا میچ میں واپس آچکا تھا ۔ کپتان ویرات کوہلی کو معین علی نے صفر پر آؤٹ کر دیا تھا ۔لیکن اُنھیں اس دفعہ ٹیسٹ میچ جیتنا تھا لہذا وہ میدان میں باؤلنگ اور فیلڈنگ کو اسطرح تبدیل کرتے رہے کہ انگلینڈ کے بلے بازوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔

نتیجہ صرف134پر آل ٹیم ڈھیر۔وکٹ کیپر بین فوکس 42رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے لیکن دوسری طرف اِنڈین سپنر روی چندرن اشون نے5وکٹیں حاصل کیں اور اُنکے ساتھ ڈبیو کرنے والے سپنر ایکسر پٹیل نے2کھلاڑی آؤٹ کیئے۔ اِنڈ یا کے پاس 194رنز کی برتری تھی اور ابھی میچ کا دوسرا ہی روز تھا۔انگلینڈ کے کپتان جو رُوٹ نے زور لگایا کہ کوشش کر کے اِنڈیا کو جلدی آؤٹ کیا جائے وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے ۔

لیکن تیسرے روز پہلے کپتان ویرات کوہلی کی 62 رنز کی اننگز اور پھر34سالہ اشون کی انتہائی اہم5ویں ٹیسٹ سنچری نے میچ کا پلڑا اُنکی طرف کر دیا۔ جب وہ 106رنز بنا کر آخری کھلاڑی آؤٹ ہو ئے تو اِنڈیا کا مجموعی اسکور286رنز تھا ۔ انگلینڈ کیلئے جیتنے کیلئے ہدف 482رنز تھااورتیسرے دِن کے چند لمحے اور دو دِن باقی تھے۔ کپتان ویرات کوہلی جان چکے تھے کہ اگر دوسری اننگز میں انگلینڈ کے سپین باؤلر معین علی اور جیک لیچ 4،4کھلاڑی آؤٹ کر سکتے ہیں تو ایسی پیچ کی حالت میں اُنکے پاس تو بہترین سپین باؤلنگ اٹیک ہے۔

ساتھ میں اِنڈین پہلے ٹیسٹ میچ کی شکست کا بدلہ لینے کیلئے بیتاب تھے۔ جو اُنکے سپنرز نے شاندار باؤلنگ کر کے لے لیا۔تما م 10وکٹیں اُنھوں نے ہی لیں جن میں سے5ڈبیو کرنے والے باؤلر ایکسر پٹیل ،اشون3اور کلدیپ یادیونے2۔ انگلینڈ کی آل ٹیم ایک دفعہ پھر 164رنز پر ڈھیر ہو چکی تھی اور ابھی چوتھے روز کے چائے کے وقفے میں وقت تھا۔ اِنڈیا کو میچ جیتنے پر 30پوائنٹس ملے جسکے بعد وہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آگیا ہے اور اب انگلینڈ چوتھے نمبر پر چلا گیا ہے۔

4ٹیسٹ میچوں کی سیریز1۔1سے برابر ہو گئی ہے اور اگلا ٹیسٹ میچ سردار پٹیل اسٹیڈیم،احمد آباد میں ڈے اینڈ نائٹ ہے جس سے سیریز میں مزید دِلچسپی پیدا ہو گی ۔لہذا : "آگے کھیلتے ہیں دیکھتے ہیں اور ملتے ہیں "۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments