انڈیا نیوزی لینڈ میں ٹیسٹ سیریز ہار گئی | ولیمسن کی جیت، کوہلی کی ہار

Nz Won Test Series 2-0

ورلڈٹیسٹ چیمپئن شپ ٹیبل پوائنٹس پرنیوزی لینڈ اس جیت کے بعد 180پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر آگیا

Arif Jameel عارف‌جمیل بدھ مارچ

Nz Won Test Series 2-0
انڈیا کی کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ میں پانچ ٹی ٹونٹی میچ تین ون ڈے اور دو ٹیسٹ میچز کھیلنے کے لیے پہنچی ۔آئی سی سی ورلڈ چیمپئن شپ کے تحت 2ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے پہلے ٹی20 اور ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کھیلی گئیں جن کے برابری کے نتائج نے ٹیسٹ سیریز دلچسپ کر دی۔ ٹی20 سیریز : پہلے 24 جنوری 2020ء تا 2ِ فروری2020 ء تک ٹی20 سیریز کھیلی گئی۔ نیوزی لینڈ کے کپتان تھے کین ولیمسن اور انڈیا کے ویرات کوہلی۔

لیکن تیسرے میچ میں کین ولیمسن کے زخمی ہوجانے کی وجہ سے باقی 2میچوں میں ٹم ساؤتھی نے قیادت سنبھالی اور آخری میچ میں ویرات کوہلی کی جگہ کپتانی کی ذمہداری نبھائی روہت شرما نے۔ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کیلئے ہوم گراؤنڈ کا پلس پوائنٹ تھا لیکن اِنڈیا کی کرکٹ ٹیم نے اپنے کپتان ویرات کوہلی کی قیادت میں نیوزی لینڈ کی ہوم گراؤند پر ہی پانچوں ٹی20 میچ جیت کر اُنکے ملک میں ٹی20سیریز کلین سویپ کرنیوالی پہلی ٹیم بن گئی ۔

(جاری ہے)

اس سیریز کے تیسرے اور چوتھے میچ کا فیصلہ ٹائی ہونے کی صورت میں سُپر اوور میں ہوا ۔جس میں جیت کے بعد انڈیا کی ٹیم نے ثابت کر دیا کہ ٹیم کی قیادت، کھلاڑی اور ٹیم ورک کیلئے کسی دوسرے کی ہوم گراؤنڈ کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔کارکردگی اہم ہو تی ہے۔ ایک روزہ انٹرنیشنل سیریز: کین ولیمسن نے زخمی ہو نے کی وجہ سے اس سیریز کے پہلے 2 میچوں میں آرام کو ترجیح دی اور نیوزی لینڈ کے کپتان مقرر ہو ئے ٹام لیتھم جنہوں نے اپنی قیادت میں کوہلی الیون کو پہلے2 ایک روزہ انٹرنیشنل میچ ہرا دیئے اور آخری میچ میں کپتان کین ولیمسن نے شکست دے کر سیریز کلین سویپ کر لی۔

3میچوں کی اس سیریز میں پہلا میچ 5 ِ فروری کو کھیلا گیا جس میں نیوزی لینڈ نے اِنڈیا کو 4وکٹوں سے شکست دے کر جیت لیا۔دوسرا میچ 8 فروری کو کھیلا گیا جس میں ایک دفعہ پھر نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم انڈین کوہلی الیون پر حاوی نظر آئی اور 22رنز سے شکست دے کر ناقابل ِتسخیر برتری حاصل کر لی۔تیسرا میچ11ِفروری کو ایک دفعہ پھر نیوزی لینڈ کی ولیمسن الیون نے جیت کر ایک روزہ انٹرنیشنل سیریز میں اِنڈیا کو وائٹ واش کر دیا اور ٹی20 سیریزمیں اِنڈیا سے وائٹ واش ہونے کا بدلہ لینے کا موقع ضائع نہیں کیا۔

1989 ء کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اِنڈیا کو دوطرفہ ایک روزہ سیریزمیں وائٹ واش کا سامنا کر نا پڑا۔ دوسرے میچ میں نیوزی لینڈ کے ڈبیو کرنے والے آل راؤنڈر کا ئل جیمسن نے اپنی کارکردگی سے پہلے ہی میچ میں مین آف دی میچ کا اعزاز حاصل کیا اور پھر ٹیسٹ سیریز میں بھی ڈبیو کر کے اہم کامیابی میں شراکت دار بن گئے۔ ٹیسٹ میچ سیریز: اِنڈیا کیلئے نیوزی لینڈ کے دورے میں آخری فارمیٹ تھا2 ٹیسٹ میچوں کی کرکٹ سیریز جو آئی سی سی ورلڈ چیمپئین شپ کی 11 ویں سیریز تھی۔

ایک دفعہ پھر ولیمسن الیون اور کوہلی الیون آمنے سامنے تھے او ر ٹیسٹ سیریز میں مقابلہ جوڑ توڑکا تھا۔ جسکا پہلا ٹیسٹ میچ 21 ِفروری 2020 ء کو کھیلا گیا جس کا فیصلہ4دن میں ہو گیا اور دوسرا 29 ِفروری کو کھیلا گیا جس کا فیصلہ ڈھائی دِن میں ہو گیا۔ ُپہلا ٹیسٹ میچ: نیوزی لینڈ کے دارلخلافہ اور شہری آبادی کے لحاظ سے وہاں کے دوسرے بڑے شہر ولنگٹن کے " دِی بیسن ریزرو" کرکٹ گراؤنڈ میں نیوزی لینڈ کے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کے فیصلے سے شروع ہوا۔

اس دفعہ نیوزی لینڈ کی باؤلنگ لائن نے اپنی ہوم گراؤنڈ اور وہاں کے موسم کا خوب فائدہ اُٹھایا اور اِنڈیا کے نامور بلے بازوں کو قابو میں رکھا اور 101 کے مجموعی اسکور پر اُنکے5بلے باز آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ چائے کے وقفے پر بارش شروع ہو گئی جسکے بعد کھیل جاری نہ رہ سکا اور دوسرے دن جب اِنڈیا نے پہلے دن کے 122 رنز 5کھلاڑی آؤٹ پر کھیل کا آغاز کیا تو نیوزی لینڈ کی باؤلنگ کے سامنے جم نہ سکا اور 165کے مجموعی اسکور پر اِنڈیا کی بیٹنگ لائن ایسا ڈھیر ہوئی کہ پھر دوسری اننگز میں بھی اُٹھ نہ سکی ۔

نیوزی لینڈ نے پہلی اننگز میں 348رنز بنائے اور 183 رنز کی برتری حاصل کر کے اِنڈیا کو دوسری اننگز میں 191 رنز پر آؤٹ کر کے پویلین بھیج دیا۔نیوزی لینڈ کیلئے جیتنے کا ہدف تھا 9رنز جو بغیر کسی وکٹ کھوئے اُنھوں نے حاصل کر کے اِنڈیا کو10 وکٹوں سے شکست دے دی۔ اس میچ میں نیوزی لینڈ نے اس ٹیسٹ میچ میں کامیابی پر ٹیسٹ میچوں میں جیت کی اپنی تاریخی سنچری مکمل کر لی۔

یہ 100ویں جیت تھی۔ انڈیا کی آئی سی سی ورلڈ چیمپئین شپ کے حوالے سے پہلی ٹیسٹ شکست تھی۔اس سے پہلے7میچ تھا۔نیوزی لینڈ کی طرف سے ڈبیو کرنے والے آل راؤنڈر کا ئل جیمسن نے اِنڈیا کی شکست میں اہم کردار اادا کیا۔ اِنڈیا کی طرف سے دونوں اننگز میں صرف ایک بلے با ز اوپنر میانک اگروال نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے۔ نیوزی لینڈ کی طرف سے بھی صرف ایک نصف سنچری بنی جو اُنکے کپتان کین ولیمسن نے بنائی ۔

اُنھوں نے89 رنز بنائے۔نیوزی لینڈ کے فاسٹ باؤلر ٹم ساؤتھی نے اس ٹیسٹ میچ میں9 وکٹیں لیں اورمین آف دِی میچ بھی ہوئے۔ پہلے ٹیسٹ کا مختصر تجزیہ: پہلے ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ اور اِنڈیا کے درمیان ایک ایسا موقع آیا جب اِنڈیا تیسرے دِن کے آغاز میں 225 پر 7 کھلاڑی آؤٹ کرکے میچ میں واپس آگیا لیکن اُس کے بعد نیوزی لینڈ کی طرف سے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے کا ئل جیمسن نے کولن ڈی گرانڈ ہوم کے ساتھ مل کر ذمہداری کے ساتھ بلے بازی کرتے ہوئے مجموعی اسکور میں اضافہ کر نا شروع کیا اور 44 رنز کی ایک اہم انفرادی اننگز کھیل ڈالی۔

اس سے پہلے وہ باؤلنگ میں بھی4کھلاڑی آؤٹ کر چکے تھے جن میں اِنڈیا کے کپتان ویرات کوہلی بھی شامل تھے۔گرانڈ ہوم نے43 رنز بنائے اور اس شراکت نے اِنڈین باؤلنگ کو مایوس کر دیا جسکے بعد نیوزی لینڈ کے آخری کھلاڑی ٹرینٹ بولٹ نے بھی38رنز کی اننگز کھیل ڈالی اور اسطرح آخری کھلاڑیوں نے اپنی ٹیم کو پہلی اننگز میں واضح برتر ی دلوا دی ۔انڈیا کی طرف ایشانت شرما نے 5 کھلاڑی آؤٹ کیئے اور پھر اُس ہی وکٹ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے نیوزی لینڈ کے باؤلر ٹم ساؤتھی نے بھی اِنڈیا کے دوسری اننگز میں 5بلے باز آؤٹ کر دیئے۔

اُنکا ساتھ دیا ٹرینٹ بولٹ نے4کھلاڑی آؤٹ کر کے۔پورے ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کی طرف سے ایک ٹیم ورک نظر آیا۔ دوسرا ٹیسٹ میچ لیپ ائیر والی تاریخ 29ِفروری2020 ء کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کے کرکٹ گراؤنڈ ہیگلے اوول میں شروع ہوا اور تیسرے دِن کے چائے کے وقفے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ٹاس نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے جیتا اور گیلی گراؤنڈ اور موسمی ہوا کا فائدہ اُٹھاتے ہو ئے اِنڈیا کے کپتان ویرات کو ہلی کو بیٹنگ کی دعوت دے ڈالی۔

ہنوما وہاڑی نے55،اوپنر پارتھیو شا نے54 اور اجنکیا راہا نے بھی54 رنز بنائے۔جبکہ کپتان ویرات کوہلی ایک دفعہ پھر بلے بازی میں ناکام رہے اور3رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے ۔جس کے ساتھ ہی اِنڈیا کی آل ٹیم242 کے مجموعی اسکور پر ڈھیر ہو گئی۔نیوزی لینڈ نے بلے بازی کا آغاز کیا اور بغیر کسی نقصان کے 63 رنز بنائے۔ دوسرا دِن وکٹ کے لحظ سے بلے بازوں کیلئے اچھا ثابت نہ ہوا اور پہلے نیوزی لینڈ کی10وکٹیں 235 رنز پر گِر گئیں اور پھر اِنڈیا نے بھی دِن کے اختتام تک دوسری اننگز میں90 رنز پر 6 وکٹیں کھو دیں۔

جو باقی 4کھلاڑی بچ گئے تھے وہ تیسرے روز کے آغاز میں ہی بلے بازوں کیلئے ناموافق وکٹ کا شکار ہوگئے اور اِنڈیا کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم 124 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی۔پہلی اننگز میں7رنز کی برتری تھی لہذا نیوزی لینڈ کیلئے جیتنے کا ہدف تھا 132 رنز۔ پہلی اننگز میں نیوزی لینڈ کی طرف سے اس سیریز میں اپنا ڈبیو کرنے والے آل راؤنڈرکا ئل جیمسن5 کھلاڑی آؤٹ کر کے نمایاں رہے اور پھر بلے بازی میں بھی جب نیوزی لینڈ کے پہلی اننگز میں 153 رنز پر7کھلاڑی آؤٹ ہو گئے تو کا ئل جیمسن نے گزشتہ میچ کی طرح ذمہدارانہ اننگز کھیلتے ہو ئے49 رنز بنائے اور مجموعی اسکور 235 رنز تک لیجانے میں کامیاب ہوگئے۔

اُن سے پہلے صرف اوپنر ٹام لیتھم نے 52رنز بنائے۔یہاں انڈین باؤلرز محمد شامی اور جسپریت بمرا کاذکر ضروری ہے جنہوں نے اپنی ذمہداری پوری کرتے ہو ئے بالترتیب 4 اور3 کھلاڑی آؤٹ کر کے اِنڈیا کے چاہے معمولی ہی سہی لیکن اُنکی ہوم گراؤنڈ پر7رنز کی برتری دلوا دِی ۔ دوسری اننگز میں اِنڈیا کی بیٹنگ لائن نے غیر ذمہدارانہ بلے بازی کی اور7 بلے باز ڈبل فیگر میں بھی نہ داخل ہو سکے۔

اس دفعہ نیوزی لینڈ کے باؤلرز ٹرینٹ باؤلٹ اور ٹم ساؤتھی تھے جنہوں نے بالترتیب4اور3کھلاڑی آؤٹ کر کے ایک بہترین بیٹنگ لائن کی کم توڑ دی۔ دوسری اننگز میں نیوزی لینڈ کے سامنے جیت کا ہدف تھا اور کسی حد تک اِنڈین باؤلنگ لائن کا دِل میں خوف ۔کیونکہ وکٹ کی صورت ِحال سے زیادہ اُنکے لیئے اب مددگار ثابت ہو سکتی تھی اُنکی ہوم گراؤنڈ اور پھر وہی ہوا اور3کھلاڑ ی آؤٹ پر نیوزی لینڈ نے ہد ف حاصل کر کے 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کلین سویپ کر لی ۔

اوپنرٹام لیتھم 52 اور اوپنرٹام بلنڈل 55رنز بنا کر آؤٹ ہو ئے۔مین آف دِی میچ ہو ئے کا ئل جیمسن اور مین آف دِی سیریز کہلائے ٹم ساؤتھی۔ دوسرے ٹیسٹ و سیریز کامختصر تجزیہ : دوسرے ٹیسٹ میچ میں ہیگلے اوول کرکٹ گراؤنڈ کی باؤلنگ وکٹ نے دونوں ٹیموں کے بلے بازوں کیلئے ناموافق ثابت ہوئی اور5 روزہ میچ ڈھائی دِن یاعام الفاظ میں ڈھائی گھڑی کا ثابت ہوا ۔

ایسی صورت ِحال میں زیادہ تر فائدہ ہوم گراؤنڈ کی ٹیم کو ہوتا ہے۔ اگر ہوم گراؤنڈ اِنڈیا کا ہوتا تو نتیجہ فرق ہو سکتا تھا۔ فی الحال جوابدہ تھے اِنڈیا کے کپتان ویرات کوہلی ۔لیکن جب سیریز کے بعد اُن سے پریس کانفرنس میں سوالات کیئے گئے تو کچھ برہم نظر آئے۔ جسکی ایک اہم وجہ وہ سوال تھا جو ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کھیل کے دوران ویرات کوہلی کاگراؤنڈ میں شائقین کے ساتھ غیر مناسب رویہ تھا۔

جہاں وہ اچانک جینٹل مین سے اینگری مین بنتے نظر آئے۔ ویرات کوہلی کی کپتانی میں اِنڈیا کرکٹ ٹیم تینوں فارمیٹس میں ایک مدت سے تسلسل کے ساتھ کامیابیاں سمیٹ رہی تھی۔ہر قسم کے میڈیا پر اُنکی کپتانی کوخراج ِتحسین پیس کیا جا رہا تھا لیکن اس مکمل دورے میں ایک فارمیٹ میں کامیابی اور دو میں ہار اور اُس پر اُن کے مداحوں کے وار اُنکے لیئے ناقابل ِبرداشت ہو تے جارہے تھے۔

ٹیم سے زیادہ اُنکی کارکردگی زیر ِبحث آئی ۔ نیوزی لینڈ کے اس دورے پر اُنکا بیٹ خاموش رہااور ٹیسٹ سیریز کے دونوں میچوں میں کُل 38 رنز بنائے اور اس دورے کی 11اننگز میں کُل218 رنز بنائے۔ آخری ٹی20 میچ وہ نہیں کھیلے تھے۔ساتھ میں ایک اہم بات یہ رہی کہ2002ء میں اِنڈیا کے کپتان گنگولی کی قیادت میں بھی نیوزی لینڈ میں اِنڈیا کو2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ایسی ہی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

نیوزی لینڈ کیلئے یہ ٹیسٹ سیریز بہت اہم تھی لیکن پہلے فارمیٹ ٹی20 سیریز میں اِنڈیا سے وائٹ واش ہو جانا اُنکے لیئے سوائے مایوسی کے کچھ نہیں تھا ۔کپتان کین ولیمسن اس دوران کچھ گھبرائے بھی نظر آئے اور چند میچوں میں زخمی ہونے کی وجہ سے کپتانی کی ذمہداری سے دُور بھی رہے۔لیکن دوسرے فارمیٹ کی سیریز کے پہلے2 میچوں میں جب ٹام لیتھم کی قیادت میں نیوزی لینڈ ٹیم نے شاندار واپسی کی تو پھر ولیمسن الیون تیسرے فارمیٹ کے آخر تک ناقابل ِشکست نظر آئی۔

ٹیبل پوائنٹس: آئی سی سی ورلڈٹیسٹ چیمپئن شپ ٹیبل پوائنٹس پرنیوزی لینڈ اس جیت کے بعد 180پوائنٹس کیساتھ تیسرے نمبر پر آگیا ہے ۔نیوزی لینڈ اب تک7میچوں میں سے 3 جیت چکا ہے۔ آسٹریلیا 10 میچوں میں سے7 جیت کر 296پوائنٹس کیساتھ دوسرے نمبر پر اور انڈیا 9میچوں میں سے7 جیت کر360 پوائنٹس کیساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ "آگے کھیلتے ہیں دیکھتے ہیں اور ملتے ہیں "۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments