پاکستان کرکٹ ٹیم کی نیوزی لینڈ میں کارکردگی پر سوال؟

پیر جنوری
جنوری 2018ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف اُنکے ملک میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے 5 ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلی جو نیوزی لینڈ نے کلین سویپ کر لی اور "شاہین" کی پرفارمنس کی پرواز نیچے رہ گئی اور زمین پر چلنا والا پرندہ "کیوی" چھا گیا۔
جنوری 2018ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف اُنکے ملک میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے 5 ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلی جو نیوزی لینڈ نے کلین سویپ کر لی اور "شاہین" کی پرفارمنس کی پرواز نیچے رہ گئی اور زمین پر چلنا والا پرندہ "کیوی" چھا گیا۔
پہلا میچ:
سیریز کا پہلا ایک روزہ میچ6ِجنوری کو ویلنگٹن اور دوسرا میچ نیلسن میں 9ِجنوری کو کھیلا گیا لیکن دونوں میچوں کے دوران بارش ہو جانے کی وجہ سے ڈک ورتھ لوئس کا میتھڈ لگا اور شکست کا سامنا پاکستان کو کرنا پڑا۔


پہلے میچ میں ٹا س جیت کر پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے فیلڈنگ کو ترجیح دی اور نیوزی لینڈ کے مجموعی اسکور315کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے جب پاکستان کے 6بلے باز 166کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہو چکے تھے تو بارش شروع ہوگئی۔

(خبر جاری ہے)

اُس وقت پاکستان کے اوپنر فخر زمان 82اسکور پر اور فہیم اشرف 17کے اسکور پر کھیل رہے تھے ۔ دونوں میچ شروع ہونے کا انتظار کرتے رہے اور بارش کی وجہ سے وقت ختم ہوگیا اور ڈک ورتھ لوئس کا میتھڈ لگ گیا۔

اس میچ کی خاص بات نیوزی لینڈ کے کپتان کی شاندار سنچری تھی۔اُنھوں نے 115رنز بنائے۔جبکہ پاکستان کی طرف 7باؤلرز آزمائے گئے اور سب سے زیادہ کامیاب رہے حسن علی 3وکٹیں لیکر۔نیوزی لینڈ کی طرف سے ساؤتھی نے 3وکٹیں۔
دوسرا میچ:
میں پاکستان کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر اس دفعہ پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔لیکن یہ حکمت ِ عملی بھی نہ چل سکی اور141کے مجموعی اسکور پر 7کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔

جس میں60رنز محمد حفیظ کے تھے۔بعدازاں حسن علی اور شاداب خان نے نصف سنچریاں بنا کر پاکستان کے اسکور میں اضافہ کیا۔دونوں بالترتیب 51اور52رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔جسکے بعد مقررہ اوورز میں 9وکٹوں کے نقصان پر پاکستانی ٹیم ایک فائٹنگ اسکور246رنز بنانے میں کامیاب ہو گئی۔نیوزی لینڈ کی طرف سے فاسٹ اسٹار باؤلر لوکی فرگیوس3کھلاڑی آؤٹ کر کے نمایاں رہے۔

نیوزی لینڈ نے بیٹنگ شروع کی اور ابھی2وکٹوں کے نقصان پر64رنز بنائے تھے کہ بارش شروع ہو گئی اور جب دوبارہ میچ کا آغاز ہوا تو اس میچ میں بھی ڈک ورتھ لوئس میتھڈ لگ چکا تھا جو نیوزی لینڈ کیلئے مشکل کا باعث نظر آرہا تھا ۔ یعنی میچ 25اوورز تک محدود کر کے 151کا ہدف دیا گیا تھا۔لیکن مارٹن گپٹل نے 5چھکوں اور 5 چوکوں کی مدد سے ناقابل ِشکست86رنز بنا کر کمال کر دیا اور نیوزی لینڈ کو8وکٹوں سے فتح دلوا دی اور مین آف دی میچ بھی قرار پائے۔


تیسرا میچ:
اِ ن دونوں میچوں کے بعد پاکستان کیلئے تیسرا میچ جیتنا ضروری تھا تاکہ سیریز میں دلچسپی قائم رہے لیکن13ِجنوری کوڈیوینڈن میں ہونے والے میچ میں پاکستانی بلے باز ریت کے ڈھیر کی طرح ایسے گرے کہ ساری ٹیم 74کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہو گئی ۔ کمال تھانیوزی لینڈ کے باؤلر ٹرینٹ بولٹ کا جس نے5کھلاڑی آؤٹ کر کے پاکستانی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی۔

نیوزی لینڈ کے کپتان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ۔پھر میچ جیت لیا اور ساتھ میں سیریز بھی جیت لی حالانکہ ابھی دو میچ باقی تھے۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 10 کھلاڑی آؤٹ ہونے پر 257رنز بنائے اور پاکستان کو 183رنز سے شکست دے دے دی۔دلچسپ یہ رہا کہ پاکستانی باؤلر کسی حد تک کامیاب رہے اور رومان ریئس اور حسن علی 3،3کھلاڑی آؤٹ کر کے اہم باؤلر ثابت ہوئے۔

جب کے اس میچ میں پاکستانی ٹیم اتنے کم اسکور پر 25سال بعد آؤٹ ہوئی۔
چوتھا میچ:
16ِجنوری کو ہمیلٹن میں کھیلے جانے والے چوتھے میچ میں پاکستان نے ٹا س جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ فخر زمان ،حارث سہیل ،سرفراز احمد نے نصف سنچریاں بنا کر اور محمد حفیظ نے 81رنز کی شاندار انفرادی اننگز کھیل کر مقررہ اوورز میں8وکٹوں کے نقصان پر262رنز کا ہد ف دیا۔

نیوزی لینڈ کی طرف سے ساؤتھی3وکٹیں لیکر اہم باؤلر رہے۔اُمید تھی کہ پاکستان اپنی پہلی کامیابی حاصل کر لے گا ۔ جسکی پہلی کرن اُس وقت پھوٹی جب 99کے مجموعی اسکور پر نیوزی لینڈ کے 4بلے باز پویلین لوٹ گئے ۔جس میں سے 3شاداب خان نے آؤٹ کیئے ۔154کے مجموعی اسکور پر 5واں کھلاڑی آؤٹ ہوا تو نیوزی لینڈ کی ٹیم مشکل میں آگئی لیکن پھر پاکستانی باؤلرز کی باؤلنگ میں وہ جان نظر نہ آئی جو نیوزی لینڈ کے بلے باز گرینڈ ہوم میں نظر آئی ۔

اُس نے74 رنز کی ناقابل ِشکست اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو چوتھے میچ میں بھی کامیابی دلوا دی اور پا کستانی شائقین کی اُمیدوں پر پانی پھیردیا۔
پانچواں میچ:
ویلنگٹن میں آخری ایک روزہ میچ 19ِ جنوری کو کھیلا گیا۔ ٹاس کا قُرعہ نیوزی لینڈ کے حق میں نکلا اور گُُپٹل کی شاندار سنچری 100اسکور کی وجہ سے نیوزی لینڈ کی ٹیم مقررہ اوورز میں 7کھلاڑی آؤٹ پر 271رنزکرنے میں کامیاب ہو گئی۔

پاکستان کی طرف سے رومان رئیس نے 3کھلاڑی آؤٹ کیئے۔ پاکستان کیلئے ہدف مشکل ضرور تھا لیکن ناممکن نہیں ۔لیکن ایک دفعہ پھر پاکستان کے پہلے5بلے باز جلد آؤٹ ہو گئے اور محسوس ہو رہا تھا کہ شاید اس دفعہ تیسرے ایک روزہ میچ کے مقابلے میں 74رنز بھی مشکل ہی کر پائیں۔لیکن حارث سہیل اور شاداب خان کی شاندار بلے بازی نے ایک طرف میچ میں دِلچسپی پیدا کر دی اور دوسرا یہ واضح کر دیا کہ اہم بلے باز اگر ایک ذمہدارانہ بلے بازی کرتے تو کامیابی حاصل ہو سکتی تھی۔

دونوں بلے بازوں نے بالترتیب 63اور54رنز بنائے لیکن ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے اور پوری ٹیم256کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہو گئی۔
نیوزی لینڈ نے سیریز وائٹ واش کر لی اور پاکستانی شائقین مایوس ہو کر یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ پاکستانی ٹیم ایک میچ تو جیت لیتی۔
مختصر تجزیہ:
کیا پاکستانی ٹیم چند روز بعد کھیلی جانے والی ٹی 20 سیریز میں بھی نیوزی لینڈ ٹیم کا مقابلہ کر پائے گئی؟کیونکہ اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی نیوزی لینڈ میں کار کردگی ایسی کیوں رہی ؟ اس سلسلے میں پانچوں میچوں کے بارے میں سب سے پہلے کپتان سرفراز احمد کے مختلف بیانات غور طلب ہیں۔

پہلی شکست پر نیوزی لینڈ کی " کنڈیشنز" کو اپنی ٹیم کیلئے ناموافق کہا اور تیسرے میچ میں بلے بازوں کی ناکامی کی وجہ " نئے بال"پر ڈالی۔جسکو کھیلنے کی سمجھ پاکستانی بلے بازوں کو نہیں آرہی۔ظاہری بات ہے اسکی وجہ بھی "کنڈیشنز" ہی ہیں۔تیز وکٹیں،تیز ہوا اور اُوپر سے تیز باؤلر۔ چوتھے میچ میں اُنکے مطابق آخری اوورز میں پاکستانی باؤلنگ شکست کا باعث بنی اور پانچویں میچ میں پاکستان کی شکست کی وجہ ایک دفعہ پھر اہم بلے بازوں کی بیٹنگ میں ناکامی تھی۔


بابر اعظم کی پوری سیریز میں ناکامی، کپتان سرفراز احمد کی اپنی بیٹنگ میں کارکردگی اور محمد عامر جیسے ورلڈ کلاس باؤلر کی لائن لینتھ نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کیلئے کوئی خاص مشکلات نہ پیدا کر سکیں۔
کیا یہی وجوہات ہیں؟ اصل میں اُن ممالک کی وکٹوں پر کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ جسکا ماضی میں بھی پاکستانی ٹیموں کو سامنا رہا ہے۔ لیکن سوال ہے اُن فنڈز کا جو کھلاڑیوں کی تربیت پر خر چ کیئے جاتے ہیں اور اُن میں سے ایک بڑی رقم کھلاڑی میچ کھیلنے کا بھی وصول کرتے ہیں ۔پھر آج تک اس معاملے کا حل کیوں نہیں نکالا گیا؟
لہذا اگلی سیریز ٹی0 2میچوں میں مقابلہ اہم ہو گا۔