ایک روزہ سیریز : پاکستان کو آسٹریلیا سے شکست

Pakistan Odi Series Lost From Australia

5ایک روزہ میچوں کی اس سیریز میں پاکستان کو کرکٹ ورلڈ کپ کیلئے اپنی8ویں پوزیشن برقرار رکھنے کیلئے ایک میچ تو ضرور جیتنا تھا اور وہ اُس نے جیت لیا۔ لیکن ایسی پریشانی کیوں ؟ اس لیئے کہ باقی بڑی ٹیموں نے اپنے ملک میں کھیل کر پوزیشن مضبوط کی ہو ئی ہے۔ لیکن پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونا ہی پوزیشن میں تنزیلی کی اہم وجہ ہے۔ جبکہ دوسرے ممالک میں کھیل کر ابھی تک 8ویں پوزیشن پر بھی ہونا پاکستان ٹیم کا ہی کمال ہے

Arif Jameel عارف‌جمیل جمعہ جنوری

Pakistan Odi Series Lost From Australia
5ایک روزہ میچوں کی اس سیریز میں پاکستان کو کرکٹ ورلڈ کپ کیلئے اپنی8ویں پوزیشن برقرار رکھنے کیلئے ایک میچ تو ضرور جیتنا تھا اور وہ اُس نے جیت لیا۔ لیکن ایسی پریشانی کیوں ؟ اس لیئے کہ باقی بڑی ٹیموں نے اپنے ملک میں کھیل کر پوزیشن مضبوط کی ہو ئی ہے۔ لیکن پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونا ہی پوزیشن میں تنزیلی کی اہم وجہ ہے۔ جبکہ دوسرے ممالک میں کھیل کر ابھی تک 8ویں پوزیشن پر بھی ہونا پاکستان ٹیم کا ہی کمال ہے۔

بہرحال آسٹریلیا سے چار میچوں میں شکست کے بعد پاکستان 9ویں پوزیشن پر موجود ویسٹ انڈیز سے صرف 3 پوائنٹ دُور رہ گیا ہے۔
تجزیہ کا ر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان ٹیسٹ رینکنگ میں بھی نیچے آتے جارہے ہیں اور ساتھ میں بلا وجہ تنقید بھی۔ حالانکہ یہاں بھی معاملہ پاکستان میں ٹیسٹ میچ نہ ہو نا ہے۔

(جاری ہے)

لہذا یہاں بھی دُنیا کی واحد پاکستان کی کرکٹ ٹیم ہی ہے جس نے کپتان مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان میں ایک ٹیسٹ میچ بھی کھیلے بغیر پہلی پوزیشن حاصل کرنے کا کارنامہ کر دکھایا۔


بہرحا ل آسٹریلیا کے خلاف 5ایک روزہ میچوں کی سیریز میں بھی ٹیسٹ سیریز کی طرح ناکامی کا مُنہ دیکھنا پڑا جس سے قوم بہت دِل برداشتہ ہوئی ۔ لیکن ہر میچ میں کچھ اہم واقعات ، ریکارڈز اور پانچوں میچوں میں کامیابی کیلئے کوششیں اور شکست کی وجوہات زیربحث رہیں ۔جنکی تفصیل مستقبل کے فیصلوں کیلئے اہم ہو سکتی ہے۔خاص طور پر آل راؤنڈر عماد وسیم کو ٹیسٹ ٹیم میں شامل کرنے کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔


سیریز کے اہم واقعات و ریکارڈ:
# پہلے وَن ڈے میں کپتان اظہر علی نے میچ کا پہلا اَور محمد حفیظ سے کروایا تو وہ برسبین کے گابا اسٹیڈیم میں پہلا اَوورکرنے والے دُنیا کے پہلے سپنر بن گئے۔
# آل راؤنڈر محمد حفیظ ٹیسٹ و ٹی20میں پاکستان کر کٹ ٹیم کی کپتانی کر چکے ہیں ۔وَن ڈے کی کپتانی اُنھیں پہلی دفعہ دوسرے وَن ڈے میں اُس وقت سونپی گئی جب اظہر علی پہلے وَن ڈے میں زخمی ہونے کے باعث اگلے چند میچ نہ کھیل سکتے تھے اور نہ ہی کپتانی کے فرائض بھی انجام دے سکتے تھے۔


# تیسرے وَن ڈے میں بابر اعظم نے اپنا 21واں وَن ڈے کھیلتے ہوئے تیزترین 1000رنز بنانے کا مشہور ِزمانہ کرکٹر ویون رچرڈ کا 37سال پرانا ریکارڈ برابر کر دیا۔ جوناتھن ٹروٹ ،کیون پیٹرسن اور کوئنٹن ڈی کک بھی اتنے ہی میچوں میں 1000رنز بنا چکے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے وَن ڈے کے کپتان اظہر علی23میچوں میں 1000رنز بنا نے والے پہلے پاکستانی بلے باز تھے۔


# شرجیل خان نے آخری 3وَن ڈیز میں مسلسل3 نصف سنچریاں بنا کرعمران خان اور انضمام الحق کا آسٹریلیا کے خلاف مسلسل 3نصف سنچریاں بنانے کا ریکارڈ برابر کر دیا۔
# 1981ء میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایشین بریڈمین ظہیر عباس کی سنچری کے 36سال بعد ایڈیلیڈ میں ہونے والے 5ویں وَن ڈے میں پاکستان کے بلے باز بابر اعظم نے میں 100رنز کی اننگز کھیل کر آسٹریلیا میں سنچری بنا ڈالی ۔

جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
پاکستان کی وَن ڈے کیلئے ٹیم:
اظہر علی،شرجیل خان، بابر اعظم،اسد شفیق،سرفراز حمد،محمد رضوان،محمد نواز، محمد عامر،وہاب ریاض ،شعیب ملک، عماد وسیم،عمر اکمل ، محمد عرفان ،حسن علی اور راحت علی۔لیکن وَن ڈے سیریز شروع ہونے سے پہلے محمد عرفان کی والدہ کا انتقال ہو گیا لہذا وہ واپس چلے گئے اور اُنکی جگہ محمد حفیظ کو آسٹریلیا بھیج دیا گیا۔

پھر وکٹ کیپر سرفراز احمد کی والدہ کی علیل ہو نے کی خبر آئی تو وہ بھی واپس پاکستان چلے گئے۔
آسٹریلیا کی وَن ڈے کیلئے ٹیم:
کپتان اسٹیون سمتھ، ڈیویڈ وانر ، پی ۔کیومیز، جیمز فلکنر،ٹریوس ہیڈ، مچل مارش،گیلن میکسویل،بیلی سٹین لیک، جوش ہزل ووڈ،عثمان خواجہ،نیتھن لیون،مچل اسٹارک ، میتھیو ویڈ اورایڈم زیمپا۔
5وَ ن ڈیز کی اس سیریز میں اعلان کردہ مندرجہ بالا دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں میں سے فی میچ کیلئے منتخب 11کھلاڑی کھیلتے رہے۔


پہلا وَن ڈے برسبین میں:
13ِجنوری 2017ء کو کھیلا گیا ۔ آسٹریلیا کے کپتان اسٹیون سمتھ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن آغاز سے ہی اُنکے بلے باز پاکستانی باؤلرز کے سامنے جم کے نہ کھیل سکے لیکن پھر بھی مقررہ50اَوورز میں 9وکٹوں کے نقصان پر268رنز بنا نے میں کامیاب ہو گئے۔جس میں اہم کردار اُنکے وکٹ کیپر میتھیو ویڈ کا رہا جس نے بہترین بلے بازی کرتے ہوئے آخری اَوور کی آخری گیند پر اپنی پہلی سنچری بنا ڈالی ۔

اُنکے کے علاوہ میکسویل نے 60اور ٹریوس ہیڈ نے 39رنز بنا ئے۔پاکستان کی طرف شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے حسن علی نے3اور محمد عامر و عماد وسیم نے2,2کھلاڑی آؤٹ کیئے۔
پاکستان کیلئے ہدف تھا 269رنز لیکن کپتان اظہر علی کے زخمی ہو جانے کی وجہ سے ٹیم کو کچھ مشکلات کا سامنا کر نا پڑ گیااور کچھ بلے بازی کے ماہر غیر ضروری شارٹز کھیلتے ہو ئے آؤٹ ہونا شروع ہو گئے ۔

نتیجہ 42ویں اَوور میں پاکستانی ٹیم 176رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ پاکستان کی طرف سے بابر اعظم ،عماد وسیم اور اظہر علی نے بالترتیب 33،29اور 24 رنز بنائے اور آسٹریلیا کی طرف سے جیمز فلکنرنے4اورپیٹ کمنز 3کھلاڑی آؤٹ کا نمایاں باؤلر رہے۔"مین آف دی میچ میتھیو ویڈ ہوئے"۔
دوسرا وَن ڈے میں کپتان محمد حفیظ:
دوسرا وَن ڈے 15ِ جنوری2017ء کو میلبورن میں کھیلا گیا ۔

جس میں پاکستا نی کی طرف سے کپتان اظہر علی زخمی ہو نے کی وجہ سے حصہ نہ لے سکے ۔لہذا قیادت کی ذمہداری ماضی میں ٹیسٹ اور ٹی 20کی کپتانی کرنے والے تجربہ کار آل راؤنڈر محمد حفیظ کو سونپی گئی۔ کیر ئیر میں بحیثیت پہلی دفعہ وَن ڈے کی کپتانی کی ذمہداری اُنھوں نے بہ خوبی نبھائی اور آسٹریلیا کو ٹاس جیتنے کے باوجود بہترین جارحانہ باؤلنگ و فیلڈنگ کی منصوبہ بندی کے ساتھ صرف 220رنز پر آل آؤٹ کر کے پویلین کی راہ دکھا دی۔

آسٹریلیا کی طرف سے کپتان سمیتھ نے 60رنز کی اہم اننگز کھیلی۔محمد عامر نے3،جنید خان نے2،عماد وسیم نے 2جبکہ شعیب ملک اور حسن علی نے 1,1کھلاڑی آؤٹ کیا اور ایک کھلاڑی رَن آؤٹ ہوا۔
پاکستان ٹیم میں ایک جوڑ نظر آیا اور اعتماد سے بیٹنگ کرتے ہوئے بلے بازوں نے مقررہ ہدف 221کو 4کھلاڑی آؤٹ ہونے پرحاصل کر لیا ۔اسطرح 6وکٹوں سے فتح کا جھنڈا لہرا کر 12سال بعد آسٹریلیا کو اُنکے ہوم گراؤنڈ پر شکست دے دی۔

محمد حفیظ 72رنز کی شاندار اننگز کھیل کر "مین آف دی میچ" قرار پائے۔ شعیب ملک 42رنز اور عمر اکمل18رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔بابر اعظم 34 ،شرجیل خان29 اور اسد شفیق 13رنزبنا کر آؤٹ ہو ئے۔آسٹریلیا کے باؤلرمچل اور فلکنر نے2,2کھلاڑی آؤٹ کیئے۔
تیسرا وَن ڈے پرتھ :
کے واکا گراؤنڈمیں دِن کی روشنی میں 19ِجنوری 2017ء کو کھیلا گیا۔

جس میں آسٹریلیا نے تیسری دفعہ لگاتار ٹاس تو جیت لیا۔ لیکن اس دفعہ پہلے باؤلنگ کر نے کو ترجیع دی اور پاکستان کے ایک اہم بلے باز عمر اکمل کی غیر ذمہدارانہ بیٹنگ کی وجہ سے اُنکا پہلے باؤلنگ کرنے کا فیصلہ دُرست ثابت ہو گیا۔ پھر کھلاڑیوں کی حسب ِمعمول ناقص باؤلنگ و فیلڈنگ نے پاکستان کو ایک دفعہ پھر شکست سے دو چار کر دیا۔
پاکستان کی طرف سے بابر اعظم اور شرجیل خان نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہو ئے 84اور50رنز کی اننگز کھیلی ساتھ میں شعیب ملک 39اور عمر اکمل بھی 39 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

عمر اکمل آغاز میں ہی سپینئر ٹریوس ہیڈ کی گیند پر سٹمپ ہو تے ہو ئے بچے لیکن اُس کے بعد بھی اُنکی باڈی لینگویج میں سنبھل کر کھیلنے کا اشارہ نظر نہیں آیا اور نہ ہی مجموعی اسکور میں تیزی سے اضافے کی کوشش کی۔ جسکا دباؤ بابر اعظم کو برداشت کرنا پڑا اور وہ اُونچی شارٹ کھیلتے ہوئے باؤنڈری پر ایک متنازعہ کیچ پر آؤٹ قرار دے دیئے گئے۔عمر اکمل نے میچ پھر بھی نہ سنبھالا۔

خود بھی آؤٹ ہوئے اور آنے والے کھلاڑی بھی اُنکی ماضی کی طرح اس غیر ذمہ اری کی وجہ سے مجموعی اسکور میں اضافہ نہ کر سکے اور پاکستان ٹیم نے 50اَوورز میں7وکٹوں کے نقصان پر صرف 263رنز بنا ئے۔
آسٹریلیا کی طرف سے باؤلر ٹریوس ہیڈ نے2، ہیزل وُڈ نے3اوربیلی سٹین لیک و کیومیز نے1,1 کھلاڑی آؤٹ کیئے۔بیٹنگ میں264رنز کا ہدف کپتان اسٹیون سمتھ نے ناقابل ِشکست 108رنز کی ذمہدارانہ اننگز کھیل کر آسانی سے حاصل کر لیا۔

اُنکا ساتھ دیا اپنا پہلا وَن ڈے کھیلنے والے ہینڈز کومب نے82 رنز بنا کر۔آسٹریلیا نے میچ7وکٹوں سے جیت لیا اور مین آف دی میچ" اسٹیون سمتھ" کہلائے۔ پاکستان کی طرف سے محمد عامر،جنید خان اور حسن علی نے ایک ایک بلے باز آؤٹ کیا۔
ہینڈ ز کومب اپنے پہلے میچ میں ہی لکی ثابت ہوئے ۔ کیلونکہ جنید خان کی 2 مختلف "نو بالز" پر ایک دفعہ صفر پر کیچ ہونے کے باوجود ناٹ آؤٹ قرار پائے اور دوسری دفعہ ابھی 10اسکو ہی بنائے تھے کہ محمد نواز نے اُس " نو" بال پر کیچ چھوڑ دیا ۔


پاکستان اس میچ کے بعد تک پرتھ میں19میچ کھیل چکا ہے جس میں سے 9پاکستان اور10آسٹریلیا نے جیتے ہیں۔
چوتھے وَن ڈے میں بوکھلاہٹ:
کی شکار پاکستانی ٹیم پر مزید کوئی تنقید کی وجہ نظر نہیں آئی کیونکہ اس میں گزشتہ میچ سے بھی گئی گزری فیلڈنگ باؤلنگ کی ناکامی کا باعث بن گئی ۔ سڈنی میں ہونے والے اس میچ میں آسٹریلیا نے مسلسل چوتھی دفعہ ٹاس جیتا اوراس میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 353 رنز بنا ڈالے۔

جو اُنکا نہیں پاکستانی فیلڈرز کا کمال تھا ۔بصورت ِدیگر باؤلرز اُن کو 250سے کم اسکور پر آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو سکتے تھے۔ محمد عامر تو جب سے دوبارہ پاکستان ٹیم میں شامل ہو ئے ہیں اپنی باؤلنگ سے نہیں فیلڈرز کے کیچ چھوڑنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنائے جارہے ہیں۔
اس میچ میں آسٹریلیا کی طرف سے اوپنر وارنر نے 130رنز کی اننگز کھیل کر اپنی 12ویں سنچری بنا ڈالی۔

ٹریوس ہیڈ نے 51 رنز بنائے اور دھواں دھار بیٹنگ کرنے میں مشہور میکس ویل نے44گیندوں پر78رنز بنا کر آؤٹ ہو ئے۔ اسطرح آسٹریلیا 50اوورز میں 6کھلاڑی آؤٹ پر 353اسکور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ پاکستان کی طرف سے حسن علی 5وکٹیں لیکر نمایاں رہے۔جبکہ حسن علی نے 2کیچ چھوڑے بھی ۔ ساتھ میں 2کیچ شرجیل خان اور ایک کیچ جنید خان نے چھوڑا۔
اس سے انکار نہیں کہ پاکستانی بلے بازوں نے کوشش ضرور کی کہ کامیابی کے ہدف تک رسائی حاصل کر لیں لیکن جیت کیلئے ٹھراؤ کسی میں نظر نہ آیا۔

جیسے شکست در شکست کی تھکان ہو۔ شرجیل خان نے جارحانہ کھیلتے ہوئے 74رنز بنائے اُنکا ساتھ دیتے ہوئے بابراعظم نے بھی 31 رنز بنا ڈالے۔محمد حفیظ 40 اور شعیب ملک47رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔عماد وسیم نے بھی کچھ کوشش کی لیکن پھر دِلبرداشتہ قسم کی شارٹ کھیلتے ہوئے25رنز پر آؤٹ ہو گئے اور 44ویں اوور میں میں مجموعی اسکور 267رنز پر آل ٹیم آؤٹ ہو گئی۔آسٹریلیا نے86رنز سے جیت کرجھنڈا بلند کر دیا۔


آسٹریلیا کی طرف سے ہیزل ووڈ اور سپینئر ایڈم زمپا 3,3اور ہیڈ 2کھلاڑی آؤٹ کر کے نمایاں رہے۔ مین آف دی میچ " ڈیوڈ وارنز " ہوئے۔اس میچ کے بعد 5 و َن ڈے میچوں کی سیریز میں آسٹریلیا 3اور پاکستا ن1جیت چکا ہے۔
5ویں وَن ڈے :
کیلئے جب شکست خوردہ پاکستان کرکٹ ٹیم ایڈیلیڈ پہنچی تو اُس وقت ہی خبریں مایوسی کی تھیں۔پھر 26ِجنوری 2017ء کو ایڈیلیڈ اوول گراؤنڈ میں بھی نتیجہ شکست کی شکل میں سامنے آیا اور آسٹریلیا نے اس میچ میں بھی 57رنز سے کامیابی حاصل کر کے وَن ڈے سیر یز 5۔

1سے جیت لی۔ سیریز میں مسلسل دوسری دفعہ سنچری بنانے پر مین آف دِی میچ اور مین آف دِی سیریز کا ایوارڈ بھی آسٹریلیا کے اوپنر " ڈیوڈ وارنر" کو ملا۔
اس میچ بھی آسٹریلیا نے 5ویں دفعہ مسلسل ٹاس جیت کر بیٹنگ کی اور حسب ِمعمول کمزور باؤلنگ و فیلڈنگ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے دونوں اوپنرز ڈیوڈ وارنر اور ،ٹریوس ہیڈنے شاندار سنچریاں بنا ڈالیں۔

جسکی وجہ سے آسٹریلیا کی ٹیم نے 50اوورز میں7کھلاڑی آؤٹ پر
369بنائے۔پاکستان کی طرف سے جنیدخان اور حسن علی نے2،2اور محمد عامر و وہاب ریاض نے1,1کھلاڑی آؤٹ کیا۔
پاکستان کی بیٹنگ کا آغاز اوپنر اظہر علی کے ایک دفعہ پھر جلد آؤٹ ہو جانے کی وجہ سے اچھا نہ ہوا لیکن پھر اوپنر شرجیل خان اور بابر اعظم نے مجموعی اسکور میں اضافہ کر نا شروع کیا۔

لیکن وہی میچ بنانے کی کوشش کی لیکن ٹھراؤ نہ ہونے کی وجہ سے جیتانے میں کا میاب نہ ہوسکے۔ پہلے شرجیل خان 79اور پھر بابر اعظم 100رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ شعیب ملک 10رنز بنا کر باؤلر کمنز کے گیند کلائی پر لگنے کی وجہ سے ریٹائرڈ ہرٹ ہو گئے اور عمر اکمل 46رنز پر آؤٹ ہو کر واپس پویلین چلے گئے۔جس کے بعد 50 ویں اوور کی پہلی گیند پر پاکستان کی آل ٹیم312رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments