ویسٹ انڈیز کا بنگلہ دیش سے ٹیسٹ سیریز جیت کر روایتی ڈانس

Wi Vs Ban

ویسٹ انڈیز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی فہرست میں160پوائنٹس کے ساتھ6ویں نمبر پر آگئی ، بنگلہ دیش ابھی فہرست میں سب سے آخر میں ہے

Arif Jameel عارف‌جمیل منگل فروری

Wi Vs Ban
سیریز کی اہم خبریں: ﴾ ویسٹ انڈیز نے 3نئے کھلاڑی شین موزلے،اینکروماہ بونر اور کیل مئیرزکو پہلے ٹیسٹ میچ میں ڈبیو کروایا۔ ﴾ ویسٹ انڈیز کی طرف سے کیل مئیرز نے اپنے ڈبیو میچ میں ڈبل سنچری بناکر اپنی ٹیم کو فتح دلوا دی۔ ﴾ ویسٹ انڈیز کے پہلے ٹیسٹ میں ڈبیو کرنے والے اینکروماہ بونرمین آف دِی سیریز ہو ئے۔ ﴾ کپتان مومن الحق بنگلہ دیش کے پہلے ٹیسٹ کھلاڑی بنے جنہوں نے ٹیسٹ میچوں میں 10سنچریاں بنا لیں ۔

﴾ دوسرے ٹیسٹ میچ میں بنگلہ دیش کے آل راؤنڈر مہدی حسن نے اپنے 24ویں ٹیسٹ میچ میں تیز ترین100وکٹیں حاصل کر لیں۔ بنگلہ دیش بمقابلہ ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز: بنگلہ دیش کی میزبانی میں ویسٹ انڈیز کے ساتھ 3 کرکٹ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلی جانی تھی لیکن کورونا کویڈ19کی وجہ سے دونوں کرکٹ بورڈز نے 2ٹیسٹ میچوں پر محدود کر دی۔

(جاری ہے)

آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کی یہ 20ویں ٹیسٹ سیریزتھی جس میں بنگلہ دیش کے کپتان29سالہ مومن الحق اور ویسٹ انڈیز کے کپتان28سالہ کریگ بریتھویٹ تھے۔

پہلا ٹیسٹ میچ 3ِتا7ِفروری2021ء کو ظہور احمد چوہدری اسٹیڈیم چٹاگونگ جسکا سرکاری نام چٹاگرام ہے میں کھیلا گیا۔یہ اسٹیڈیم وہاں کی سیاسی پارٹی عوامی لیگ کے ایک نامور سیاستدان و سابقہ وزیر کے نام پر ہے۔دوسرا 5روزہ ٹیسٹ میچ 11ِفروری کو بنگلہ دیش کے دارلخلافہ ڈھاکہ کے شیر بنگال نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہوا ۔اس اسٹیڈیم کا نام تحریک پاکستان اوربنگلہ دیش کے نامور سیاست دان اے کے فضل الحق کے لقب پر رکھا گیا ہے۔

اس ٹیسٹ سیریز سے چند روز پہلے بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلی جانے والی3 ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں کی سیریز بنگلہ دیش نے کلین سویپ کر لی تھی لہذا واضح لگ رہا تھا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ ٹیم بھی اُنکی ہوم گراؤنڈ پر بچ نہ پائے گی ۔بنگلہ دیش کی کرکٹ پیچ بھی ہوم ٹیم کی جیت کے مطابق بنانے کی کوشش کی جاتی ہے جو سپین باؤلنگ کیلئے زیادہ مدد گار ثابت ہو تی ہے اور اس دفعہ بھی حسب ِمعمول ویسا ہی نظر آیا ۔

موسم کے اثرات دونوں ممالک کی ٹیموں کے مطابق موزوں رہا ۔لہذا بہترین بلے بازی بھی دیکھنے کو ملی اور فاسٹ اور سپن باؤلر کواپنی مرضی کے مطابق گیند سوئنگ اور سپین کر نے کا موقع بھی ۔ پہلے ٹیسٹ میچ میں بنگلہ دیش کے کپتان مومن الحق نے تمام تر حالات و ماحول کا جائز ہ لیتے ہو ئے جب ٹاس بھی جیت لیا تو بیٹنگ کر نے کو ہی ترجیح دی اور پہلی اننگز میں ویسٹ انڈیز کے باؤلنگ اٹیک کے سامنے ڈٹ کر بلے بازی کی۔

مہدی حسن مرزا نے سنچری بناتے ہو ئے 103رنز کی اننگز کھیلی ۔اوپنر شادمان اسلام نے59اورشکیپ الحسن نے68رنز بنائے۔ ویسٹ انڈیز کے کپتان نے دباؤ بڑھانے کیلئے 7باؤلرز سے باؤلنگ کرؤائی۔ فاسٹ باؤلرز کو پیچ کی حالت نے کچھ خاص مدد نہ دی لیکن بائیں ہاتھ کے سپین باؤلر جومل واریکن نے پیچ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُنکے4اہم بلے باز آؤٹ کر دیئے۔بہرحال اسکے باوجود بنگلہ دیش دوسرے روز چائے کے وقفے تک پہلی اننگز میں 430رنز بنا کر آؤٹ ہو ئی۔

ویسٹ انڈیز کے آغاز کے2 بلے باز بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلر مصطفیض الرحمن نے آؤٹ کیئے۔ پھر 3سپین باؤلرز نے اپنی ہوم گراؤنڈ پیچ کا وہی فائدہ اُٹھایا جو اُسکو بنا تے وقت سوچا گیا تھا۔پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے آل راؤنڈر سپین باؤلر مہدی حسن مرزا کی گیندوں نے بریک لیا اوروہ4کھلاڑی بھی آؤٹ کر نے میں کامیاب ہو گئے۔جبکہ باقی دو باؤلرز تائیجول اسلام اور نعیم حسن نے بھی2،2وکٹیں لیں اور ویسٹ انڈیز کی آل ٹیم 259پر ڈھیر کر دی۔

کپتان کریگ بریتھویٹ اور جرمائین بلیک وُڈ نے بالترتیب 76اور68رنز بنائے۔ بنگلہ دیش نے 171رنز کی برتری کے ساتھ تیسرے روز کے اختتام سے ایک گھنٹہ پہلے دوسری اننگزکا آغاز کیا۔ کپتان مومن الحق نے میچ جیتنے کیلئے اعتماد سے بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کی پوزیشن مستحکم کرتے ہوئے چوتھے روز چائے کے وقفے سے پہلے223رنز 8کھلاڑی آؤٹ پراننگز ڈکلیئر کر دی۔

دِلچسپ یہ رہا کہ اُنھوں نے اسٹیڈیم کے چاروں طرف اشارٹس لگا کر اپنی 10ویں ٹیسٹ سنچری مکمل کی اور 115رنز کی اننگز کھیلی۔ اُنکا ساتھ دیا وکٹ کیپر لیٹن داس نے69رنز بنا کر۔ویسٹ انڈیز کے کپتان نے پیچ کی حالت دیکھتے ہوئے باؤلنگ اٹیک کا دوسرا اوور آل راؤنڈر آف سپین باؤلر رکھیم کورنوال کودیا جنہوں نے اپنے پہلے اوور میں 2وکٹیں لیکر کپتان کا فیصلہ صحیح ثابت کر دیا ۔

اُنھوں نے 3کھلاڑی آؤٹ کیئے اور3وکٹیں لیں سپین باؤلر جومل واریکن نے۔اوپنر شادمان اسلام اور کپتان مومن الحق کے فاسٹ باؤلر شینن گیبرئیل نے آؤٹ کیا۔ ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز کا آغاز چائے کے وقفے سے چند منٹ پہلے ہوئے اور ہدف تھا 395رنز کا۔چوتھی اننگز پیچ کی حالت ، بنگلہ دیش کے سپین باؤلرز اور بڑا ہدف سب کچھ ہوم ٹیم کے حق میں ۔پھر ایسا ہی ہوا کہ دِن کے اختتام پر چٹا گونگ کی شام کی ساحلی ہوائیں 110رنز پر اُنکی 3وکٹیں لے گئیں۔

لیکن اگلے دِن صبح کی ساحلی ہوائیں خشک پیچ پر باؤلرز کا ساتھ نہ دے سکیں ۔شاید وہ ہوائیں ویسٹ انڈیز کی طرف سے ڈبیو کرنے والے 28سالہ بائیں ہاتھ کے بلے باز کیل مئیرزکیلئے خوشگوار ثابت ہوئیں کیونکہ اُنکا تعلق بھی کیربین کے جزیرہ بارباڈوس جیسے ساحلی ماحول سے ہے۔ بس پھر کئی نئے ریکارڈز بن گئے۔ ہر طرف اشارٹس تھیں اور بنگلہ دیش کے کپتان و باؤلرز حیران تھے کہ جیتا ہو ئے میچ کا پلڑا آخر کس طرف جُھکتا جا رہا ہے؟ کیل مئیرز کا ساتھ دینے والے 32سالہ آل راؤنڈر اینکروماہ بونرکا بھی ڈبیو میچ تھا جو86قیمتی رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

ایک وقت آیا کہ ٹیسٹ کے آخری دِن کے آخری17.3اوورز رہ گئے تھے اور ویسٹ انڈیز کو جیتنے کیلئے صرف 69رنز کی ضرورت تھی اور ابھی5وکٹیں باقی تھیں ۔ کیل مئیرز اپنی ڈبیو ڈبل سنچری کی طرف رواں دواں تھے۔ پہلے ڈبل سنچری مکمل کی اور پھر 15گیندیں پہلے اُنھوں نے فتح کا اشارٹ لگایا اور پھر وہی روایتی ڈانس جو شائقین کرکٹ کیلئے کوئی نیا نہیں تھا لیکن پسندیدہ بہت۔

دوسری طرف ہوم ٹیم ہوم گراؤنڈ پر کپتان کے ساتھ کھڑی ہو کر پیچ کو دیکھ رہی تھی جو اُنھیں دھوکا دے گئی تھی۔گو کہ سپین باؤلر مہدی حسن مرزا نے دوسری اننگز میں بھی4کھلاڑی آؤٹ کیئے۔ پہلا اہم ریکارڈ کیل مئیرز کا کرکٹ ٹیسٹ میچ کی تاریخ میں ٹیسٹ میچ کی چوتھی اور اپنی دوسری اننگز میں ڈبیو ڈبل سنچری بنانا۔دوسرا ایشیا کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف حاصل کرنا۔

تیسرا کرکٹ کی تاریخ کا 5واں کامیاب ہدف حاصل کر لینا۔چوتھا کیل مئیرز 6ویں ٹیسٹ کرکٹر جنہوں نے ڈبیو میں ڈبل سنچری بنا ڈالی اور6ویں ہی جنہوں نے چوتھی اننگز میں ڈبل سنچری بنائی۔برصغیر کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں مہمان ٹیم نے اس میچ تک صرف 8 دفعہ 200سے زائد رنز کا ہدف حاصل کیا ہے جن میں سے5دفعہ بنگلہ دیش کا ملک ہی ہے۔ ویسٹ انڈیز نے 3وکٹوں سے پہلا ٹیسٹ میچ جیت کر60پوائنٹس حاصل کیئے اور سیریز میں 1۔

0سے برتری حاصل کر لی۔مین آف دِی میچ کیل مئیرز ہوئے۔ دوسرے ٹیسٹ میچ کے آغاز سے پہلے بنگلہ دیش کے کپتان مومن الحق ایک دفعہ پھر پُراُمید تھے لیکن پہلے ٹیسٹ میچ کی ناممکن جیت نے ویسٹ انڈیز کے کپتان و ٹیم کا حوصلہ بڑھا دیا ہوا تھا ۔لہذا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کو ترجیح دی۔ پہلے دو روز پیچ فاسٹ اور سپین دونوں باؤلرز کیلئے مددگار نظر آئی۔

لہذا جب پہلے ویسٹ انڈیز کی ٹیم 409رنز پر آل آؤٹ ہوئی تو 5وکٹیں فاسٹ اور5ہی وکٹیں سپین باؤلرز کو ملیں۔جن میں سے ابو جاوید اور تائیجواسلام نے4،4وکٹیں حاصل کیں۔ جبکہ ویسٹ انڈیز کی طرف سے وکٹ کیپر جوشوآ ڈی سلوا92اور آل راؤنڈر اینکروماہ بونر90رنز بنا کرنروس 90میں آؤٹ ہو ئے۔ فاسٹ باؤلر الزری جوزف بھی82کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہو ئے۔ اسطرح یہ 3 اہم وکٹیں بنگلہ دیش کے باؤلرز کی کامیابی تصور کی گئی۔

بنگلہ دیش کی اننگز کا آغاز کچھ اچھا نہ ہو نے کی وجہ ویسٹ انڈیز کے کپتان کی باؤلنگ اٹیک کی تبدیل شُدہ حکمت عملی تھی جس میں فاسٹ باؤلر شیین گبرئیل کے ساتھ اُنھوں نے آف سپین باؤلر رکھیم کورنوال سے باؤلنگ کروائی۔جسکی وجہ سے بنگلہ دیش کی بیٹنگ لائن کو کافی مزاحمت کرنی پڑی اور 296رنز بنا کر آل آؤٹ ہو گئی۔ویسٹ انڈیز کو 113کی برتری مل گئی اور اہم یہ رہاکہ فاسٹ باؤلرز شینن گیبرئیل اور الزری جوزف نے بالترتیب3اور2وکٹیں لیں اور سپنر باؤلر رکھیم کورنوال نے5وکٹیں حاصل کیں ۔

یعنی پہلی اننگز میں پیچ کا رویہ دوستانہ رہا۔لیکن پھر دوسری اننگز میں ویسٹ انڈیز کی آل ٹیم117رنز پر ڈھیر ہو گئی اور اس دفعہ پیچ پر مکمل طور پر سپنر چھائے رہے تو چوتھے روز چوتھی اننگز میں دونوں ٹیموں کے سامنے جیت ہار ایک روزہ میچ کی طرح واضح ہو گئی۔کیونکہ جیتنے کیلئے ہدف تھا231رنز کا۔ ویسٹ انڈیز کے کپتا ن نے اُس وقت کمال کا فیصلہ کیا جب اپنے آپ کو بھی باؤلنگ اٹیک کا حصہ بنالیا اور بنگلہ دیش کو اُنکی ہوم گراؤنڈ پر بے بس کرتے ہوئے 213کے مجموعی اسکور پر پویلین بھیج کر ایک دفعہ پھر روایتی ڈانس کیا۔

تما م کھلاڑی سپنرز نے آؤٹ کیئے جن میں سے4باؤلر رکھیم کورنوال،3جومل واریکین اور دونوں اوپنرز کو ملا کر کپتان کریگ بریتھویٹ نے بھی 3 آؤٹ کیئے۔ بنگلہ دیش دوسرا ٹیسٹ میچ 17رنز سے ہار کر ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں2۔0 سے سیریز وائٹ واش ہو گیا۔ویسٹ انڈیز کو مزید60پوائنٹس ملے ۔مین آف دِی میچ ہو ئے ویسٹ انڈیز کے رکھیم کورنوال اور مین آف دِی سیریز کا تاج پہنایا گیا ویسٹ انڈیز کی طرف سے اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز کھیلنے والے اینکروماہ بونر۔

ویسٹ انڈیز کا اس دورے میں ایک روزہ انٹرنیشنل سیریز ہارنے کے بعد بنگلہ دیش کی ہوم گراؤنڈ پرٹیسٹ سیریز کلین سویپ کرنا اُنکی ماضی کی ٹیموں کی کارکردگی یا د دلوانے کے مترادف تھا۔جب اُنکی ٹیم کیلئے کسی کی ہوم گراؤنڈ کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ جہاں اُنکے بہترین بلے باز وں کے اشارٹس اور فاسٹ باؤلرز کی گیندیں وکٹیں توڑتی جاتی تھیں وہاں اُنکے جیت کے نشان ہو تے ۔

اس دفعہ اُنکی ٹیم کے ساتھ اُنکے چند اہم کھلاڑی نہ آسکے لیکن نئے ڈبیو کرنے والے ہیرو بن گئے۔ اس سیریز کے بعد ویسٹ انڈیز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کی فہرست میں160پوائنٹس کے ساتھ6ویں نمبر پر آگئی ہے ۔جبکہ بنگلہ دیش ابھی فہرست میں صفر کے ساتھ سب سے آخر میں ہے۔ دوسری طرف انڈیا اور انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز جاری ہے جہاں سے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کی فائنل کی پوزیشن واضح ہو نے کا امکان ہے۔لہذا : "آگے کھیلتے ہیں دیکھتے ہیں اور ملتے ہیں "۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments