وفاقی حکومت کا بجٹ متوازن اور کاروبار دوست ہے،

درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود بجٹ میں اٹھائے گئے حکومتی اقدامات سے ملک میں ترقی و خوشحالی آئے گی پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق کی صحافیوں سے گفتگو

وفاقی حکومت کا بجٹ متوازن اور کاروبار دوست ہے،
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 جون2019ء) پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا مالی سال 2019-20 ء کے لیے پیش کردہ بجٹ متوازن اور موجودہ اقتصادی صورتحال میں کاروبار دوست اقدامات پر مبنی ہے، درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود بجٹ میں اٹھائے گئے حکومتی اقدامات سے ملک میں ترقی و خوشحالی آئے گی۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا۔انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کی ملکی مصنوعات کی برآمد میں اضافے کے لیے صنعتی شعبے کو مراعات کے ساتھ ساتھ ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی کے عزم کی تعریف کی۔میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ حکومت نے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کیے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت قومی ترقی و خوشحالی کے لیے مخلص ہے۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے قومی معیشت کی ترقی کے لیے مثبت اقدامات کیے ہیں اور وہ معاشی ترقی کے مقصد کے حصول کے لیے صنعتی شعبے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے گی۔انھوں نے تعلیم، صحت، زراعت، لائیوسٹاک اور توانائی کے شعبوں کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کرنے کے حکومتی عمل کو سراہا۔ان کا کہنا تھا کہ خام مال سمیت 1600 اشیاء پر ڈیوٹی کے خاتمے سے کاروباری لاگت میں کمی ہوگی۔

میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ بہتر حکومتی اصلاحات کے باعث ملک کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ 12 ارب ڈالر سے کم ہوکر 7 ارب ڈالر رہ جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ڈیموں اور پانی کے دیگر منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 100 ارب روپے مختص کیے ہیں جو اس شعبے کی بہتری کے لیے حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے، اس سے ملک میں پانی کی قلت پر قابو پانے اور پانی سے سستی بجلی پیداکرنے میں مدد ملے گی۔

میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں 10 فیصد تک اضافہ اور کم ازکم اجرت کی حد کو بڑھا کر 17 ہزار 500 روپے ماہانہ کیا ہے جو کہ قابل تعریف عمل ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت نے جدید ٹیکس اصلاحات متعارف کرائی ہیں جس سے امراء کی جانب سے ٹیکس ادائیگی یقینی بنائی جائے گی جبکہ اوسط اور کم درجے کی آمدنی کے حامل طبقات کو چھوٹ دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے کسانوں، طلبہ، ملازمین اور غریب طبقات کی معاونت کے ساتھ ساتھ افراط زر کی شرح کم کرنے اور پائیدار ترقی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کی پرائیویٹائزیشن حکومت کا اچھا اقدام ہے ، عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ان اداروں پر خرچ ہوجاتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کو ریفنڈز کی ادائیگی کا عمل جلد مکمل کرنا چاہیے کیونکہ اس میں تاخیر سے نہ صرف کاروباری برادری مشکلات کا شکار ہوتی ہے بلکہ اس سے اداروں کے درمیان اعتماد میں بھی کمی ہوتی ہے۔انھوں نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کرنے کے حکومتی عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ اور صنعتی ترقی میں مدد ملے گی۔

میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود نے فرنیچر سیکٹر کے جدید خطوط پر فروغ کے لیے ان کے جائز مطالبات کو پورا کرتے ہوئے ہاتھ سے تیار کردہ ملکی فرنیچر کی برآمد میں اضافے کے لیے ایک مراعات کا ایک اچھا پیکج دیا ہے تاکہ مستقبل میں بین الاقوامی مارکیٹ کے چیلنجز سے احسن انداز سے نمٹا جاسکے۔

Your Thoughts and Comments