چین کی فوجی و عسکری قوت سے خائف امریکہ کا نیا اتحاد

یورپی سرد جنگ کی ذہنیت و نظریاتی تعصب نے خطے کا امن داؤ پر لگا دیا

ہفتہ 2 اکتوبر 2021

China Ki Fouji O Askari Quwat Se Khaif America Ka Naya Ittehad
نسیم الحق زاہدی
امریکہ،برطانیہ اور آسٹریلیا نے ایک نئے‘انڈو پیسیفک ڈیفنس معاہدے کا اعلان کیا۔اس سہ فریقی دفاعی اتحاد کے تحت امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے آسٹریلیا کو جوہری طاقت سے لیس جدید ترین آبدوز ٹیکنالوجی فراہم کی جائے گی۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکہ اور مغربی ملکوں کے چین کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

اس دفاعی معاہدے کو آوکس (Aukus) کا نام دیا گیا ہے۔اس کے تحت تینوں ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں بشمول سائبر سکیورٹی،مصنوعی ذہانت اور زیر آب نظام کو بہتر بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ کریں گے۔تینوں ممالک ہند بحر الکاہل چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور فوجی موجودگی سے فکر مند ہیں۔

(جاری ہے)

امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک ورچوئل میٹنگ کے دوران کہا کہ آج ہم نے تینوں ملکوں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور اسے ایک رسمی شکل دینے کے لئے ایک اور تاریخی قدم اُٹھایا ہے۔

کیونکہ ہم تینوں یہ سمجھتے ہیں کہ ہند بحر الکاہل میں طویل مدتی امن اور استحکام کے لئے ایسا کرنا ناگزیر ہے۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ تینوں اتحادی،پہلے سے ہی خفیہ معلومات ایک دوسرے سے شریک کرنے والے پانچ ملکی اتحاد’فائیو آئیز‘ کے رکن ہیں،جس میں کینیڈا اور نیوزی لینڈ بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ نیا معاہدہ ”ہماری دوستی میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے اور اس شراکت داری کا پہلا کام آسٹریلیا کے لئے جوہری طاقت سے لیس آمدوزوں کے حصول میں مدد کرنا ہے۔

اس معاہدے کے بعد آسٹریلیا پہلی مرتبہ جوہری طاقت سے لیس آبدوز تیار کر سکے گا۔وہ برطانیہ کے بعد دوسرا ملک بن جائے گا جو اپنے جہازوں میں امریکی نیو کلیائی پروپولسن ٹیکنالوجی استعمال کر سکے گا۔جانسن نے تاہم واضح کیا کہ یہ جہاز نیو کلیائی ہتھیاروں سے لیس نہیں ہوں گے بلکہ یہ نیو کلیائی ری ایکٹروں سے آراستہ ہوں گے اور ہم جوہری ہتھیاروں کے عدم توسیع کے اپنے وعدوں پر پوری طرح قائم رہیں گے۔

آسٹریلیا نے اسی کے ساتھ فرانسیسی ڈیزائن والے آبدوز تیار کرنے کے معاہدے کو منسوخ کر دیا۔2016ء میں فرانس نے آسٹریلوی بحریہ کے لئے 12 بدوز تیار کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔50 ارب آسٹریلوی ڈالر کا یہ معاہدہ آسٹریلیا کا اب تک کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ تھا۔آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے بتایا کہ امریکہ اور برطانیہ کے قریبی تعاون سے یہ آبدوز ایڈیلیڈ میں تیار کیے جائیں گے۔

انہوں نے ٹام ہاک کروز میزائلوں سمیت طویل دوری تک مار کرنے والے میزائلوں کو اپ گریڈ کرنے کا بھی اعلان کیا۔تینوں ملکوں کے اس نئے معاہدے کے اعلان کے فوراً بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اپنے ملک کی آبی حدود میں جوہری طاقت والے جہازوں کے داخلے پر پابندی کا اعادہ کیا۔خیال رہے کہ امریکہ‘کواڈ‘اسٹریٹیجک ڈائیلاگ گروپ کا بھی حصہ ہے جس میں آسٹریلیا، بھارت اور جاپان شامل ہیں۔


آسٹریلوی وزیراعظم موریسن نے کہا کہ دیگر امور پر بات چیت کے لئے صدر شی جن پنگ کو کھلی دعوت ہے۔ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے نئے اتحاد کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان ملکوں کو ”سرد جنگ کی ذہنیت اور نظریاتی تعصب سے باہر نکلنا چاہیے۔ وائٹ ہاؤس ماضی میں سنکیانگ میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں،ہانگ کانگ میں مخالفین کے خلاف کارروائیوں اور کورونا وائرس سے نمٹنے کے اس کے طریقہ جیسے متعدد امور پر بیجنگ کی نکتہ چینی کرتا رہا ہے اور بعض اوقات اس پر پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔

بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ کورونا وائرس کی وبا اور ماحولیاتی مسائل جیسے اہم امور پر چین کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن دوسری طرف امریکہ کے اتحادیوں میں بین الاقوامی امور میں چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے فکر مندی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی باعث فرانس اور آسٹریلیا کے درمیان دستخط شدہ سب میرین کا ایک بڑا معاہدہ بھی زائل ہو گیا۔غصے میں فرانس نے جشن منسوخ کر دیا۔

فرانسیسی صدر میکرون نے ضرور اسے”پیٹھ میں چھرا گھونپنا“ تصور کیا۔فرانس کا غصہ امریکہ کی اپنے اتحادیوں سے غداری کی تاریخ میں ایک اور اضافہ ہے۔یورپی سیاستدانوں کی بڑے پیمانے پر جاسوسی،نودل کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد یورپ کی رسد کو روکنا، افغانستان سے فوجی انخلاء کے وقت اتحادیوں کو نظر انداز کرنا،ان تمام امور میں امریکہ نے درحقیقت اپنے اتحادیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔


 یورپ سے سرمایہ کاری کا معاہدہ چین کی موجودہ قیادت کی اس طویل مدتی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ ایشیا اور یورپ کا ایک یوریشین اتحاد تشکیل دینا چاہتی ہے۔چین کا مطمع نظر ایشیا اور یورپ کو گہرے تجارتی اور معاشی رشتوں میں پرونا ہے۔قبل ازیں پورے ایشیا کو ایک معاشی رشتے میں منسلک کرنے کی خاطر گزشتہ سال نومبر میں چین نے ایک معاشی شراکت کا معاہدہ ایشیا اور بحر الکاہل کے 15 ممالک سے بھی کیا جن میں امریکہ کے قریبی تزویراتی اتحادی ممالک جیسے آسٹریلیا‘جنوبی کوریا اور جاپان بھی شامل ہیں۔

چین اپنے معاشی اور تجارتی تعلقات کو تیزی سے وسعت دیتا چلا جا رہا ہے۔دنیا میں عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے۔یہ معاہدے چینی اقتصادیات کے،جوکہ کورونا وائرس وبا سے نمٹنے میں دنیا کے الجھے رہنے کی وجہ سے بڑے ممالک میں تیزی سے مائل بہ عروج ہے، استحکام کے باعث شی کی طاقت کا مظہر ہے۔ برلن میں روڈیم گروپ سے وابستہ چینی امور پر دسترس رکھنے والے ایک دانشور نے سرمایہ کاری کو خاص طور پر چین کے لئے جغرافیائی سیاسی انقلاب بتایا۔

چینی کمپنیوں کو یورپی منڈیوں میں پہلے ہی زبردست رسائی حاصل ہے،جو یورپ میں زباں زد عام ہے۔اس لئے انہوں نے قابل تجدید توانائی کے لئے مینوفیکچرنگ اور بڑھتی منڈی میں محض معمولی آغاز کرنے میں ہی کامیابی حاصل کی۔ٹرمپ ایشیا میں امریکہ کے روایتی اتحادیوں کو حقارت سے دیکھتے تھے لیکن بائیڈن نے چین سے درپیش سفارتی، اقتصادی اور فوجی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے ایک اتحاد تشکیل دینے کا آغاز کر رکھا ہے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

China Ki Fouji O Askari Quwat Se Khaif America Ka Naya Ittehad is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 02 October 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.