بھارت میں مسلمانوں کی ثقافتی اور تاریخی شناخت پر حملہ

تاریخی شہر”اورنگ آباد“ کا نام”سمبھاجی نگر“میں تبدیل

ہفتہ فروری

India Mein Musalmanoon Ki Saqafti Aur Tareekhi Shanakhat Per Hamla
رابعہ عظمت
بھارت پر بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے بھارت میں مسلم حکمرانوں کے ناموں پر بسائے گئے شہروں،قصبوں و دیگر تاریخی مقامات کے مسلم ناموں کو بھی ہندو توا رنگ میں رنگنے کا مذموم سلسلہ جاری ہے۔وقفہ وقفہ سے ہندو فرقہ پرست قوتوں کی جانب سے اس مسئلہ کو چھیر دیا جاتا ہے ان دنوں بھارتی ریاست مہاراشٹر کے تاریخی شہر اورنگ آباد کا نام تبدیل کرنے کی سیاست عروج پر ہے۔

تاریخی شہر کے نام تبدیلی کے مسلمان و مسلم تنظیموں سے مخالفت کے باوجود ریاست کے وزیر اعلیٰ شیوسینا لیڈر ادھو ٹھاکرے کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ سرکاری دستاویز میں اورنگ زیب کو”سمبھاجی راؤ“لکھا گیا۔شیوسینا پہلے ہی”اورنگ آباد“نام کے سخت خلاف ہے۔

(جاری ہے)

دراصل شیوسینا ابتداء سے ہی مذکورہ نام کی تبدیلی کی کوششوں میں مصروف ہے۔یہ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی جا پہنچا تھا اور فرقہ پرست قوتوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اورنگ آباد دکن کے تاریخی شہروں میں سے ایک اور بھارت کے صوبہ مہاراشٹر میں واقع ہے۔یہ شہر اپنی ادبی و تہذیبی روایتوں کے لئے مشہور ہے۔چونکہ اورنگ آباد مغلیہ سلطنت کا ایک مرکزی شہر تھا اس لئے یہاں دہلی سے افسران،فوج،پولیس اور سرکاری ملازمین کا آنا جانا لگا رہتا چنانچہ اس بنا پر اسے دکن کی دلی بھی کہا جاتا تھا۔
اورنگ آباد ایک شہر نہیں بلکہ برصغیر کی تاریخ اس میں پوشیدہ ہے اسے مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی بدولت ایک منفرد شناخت ملی۔

مذکورہ شہر کو تاریخی مقامات و عمارات دولت آباد قلعہ،جامع مسجد،بی بی کا مقبرہ،حمایت باغ پن چکی،سلیم علی جھیل،25 دروازوں نے رونق بخشی ہے،اورنگ آباد سٹی کا شمار بھارت کے صنعتی شہروں میں بھی ہوتا ہے۔1653ء میں مغل بادشاہ اورنگ زیب نے اس شہر کا نام اورنگ آباد رکھا تھا۔قبل ازیں اس شہر کا نام کھڑکی کہلاتا تھا جو پہلے ایک گاؤں کی شکل میں آباد تھا۔

احمد نگر کے سلطان ملک عنبر نے اسے دارالحکومت بنایا جو ایک دہائی کے اندر ایک اکثریتی آبادی والے شہر میں تبدیل ہو گیا۔ملک عنبر کے انتقال 1626ء کے بعد ان کے بیٹے فتح خان نے کھڑکی کا نام بدل کر فتح نگر رکھ دیا تھا۔1633ء میں دولت آباد پر قبضہ کرنے کے بعد فتح شاہی سمیت نظام شاہی مغلوں کی حکومت میں آگیا تھا۔ شمال سے یہاں جوق در جوق شعرا،ادبا اور اہل علم تشریف لاتے تھے اور تقریباً 1763ء تک اورنگ آباد کن کا دارالخلافت تھا لیکن بعد میں یہ درجہ حیدر آباد،دکن کو مل گیا اور دھیرے دھیرے تمام شعرا اور ادبا نے اورنگ آباد کو خیرباد کہہ کر حیدر آباد کی راہ لی اور یوں اورنگ آباد بے رونق ہو گیا۔

لیکن 20 ویں صدی تک اس شہر میں اہل علم پیدا ہوتے رہے۔اورنگ آباد کبھی دکن میں طاقت کا مرکز تھا۔یہ بہت سی سلطنتوں کا دارالحکومت رہا ہے۔جب نظام خاندان نے اپنے اقتدار کی بنیاد رکھی تو اورنگ آباد نے کافی اہمیت حاصل کر لی۔اگرچہ نظام کا دارالحکومت حیدر آباد تھا لیکن اورنگ آباد کو دوسرا دارالحکومت ہونے کا شرف حاصل تھا۔
اورنگ آباد کے نام کی تبدیلی کا پس منظر پر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ شیوسینا کے سابق صدر بال ٹھاکرے نے بہت پہلے اورنگ آباد کا نام سمبھاجی نگر رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

1988ء میں اورنگ آباد میوپسل کارپوریشن کے انتخابات میں شیوسینا کا ایک پروگرام منعقد ہوا تھا جس میں بال ٹھاکرے نے اعلان کیا تھا کہ اورنگ آباد کا نام ”سمبھاجی نگر“ رکھا جائے۔شہر کی تبدیلی کا ایشو 27 سال قبل عدالت میں جا پہنچا تھا اور بھارتی عدالتوں نے اسے مسترد کر دیا تھا اور اب ایک بار پھر ہندو فرقہ پرستوں کی طرف سے نام کی تبدیلی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

اورنگ آباد میں جب بھی انتخابات شروع ہوتے ہیں۔نام کی تبدیلی پر بھی خوب سیاست چمکائی جاتی ہے۔دوسری جانب بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا تھا کہ برسراقتدار آنے کے بعد ”حیدر آباد“ کا نام بدل کر بھی”بھاگیہ نگر“ رکھ دیا جائے گا۔حالانکہ عام انتخابات سے قبل نریندر مودی نے”سب کا ساتھ سب کا وکاس“ کا نعرہ لگایا تھا۔جبکہ مسلمانوں اور مسلم مغل حکمرانوں سے منسوب تاریخی عمارتوں،شہروں،مقامات کے مسلم نام تبدیل کرنے کے رجحان کے در پردہ سازش ہندوستان سے مسلم شناخت کا خاتمہ ہے۔

کانگریس،این سی پی،اے آئی ایم آئی اے، ری پبلکن پارٹی آف انڈیا اور دیگر سیاسی پارٹیوں اور تنظیمیں اس کے سخت خلاف ہیں۔شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار’سامنا‘ میں اپنا موٴقف واضح کر دیا ہے۔
سامنا کے اداریہ میں لکھا گیا ہے کہ بال ٹھاکرے نے اورنگ آباد کا نام”سمبھاجی نگر“ رکھا تھا اور لوگوں نے اسے قبول کر لیا تھا۔لیکن اورنگ آباد اکثر مقامی سیاست کی وجہ سے سرخیوں میں رہا ہے۔

اگر ہم شہری انتخابی حلقے پر نگاہ ڈالیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سیاسی جماعتیں اس کو اتنی اہمیت کیوں دے رہی ہیں۔اس شہر کے نام کا معاملہ بار بار کیوں سامنے آتا ہے؟۔دراصل اورنگ آباد میں زیادہ ہندو آبادی ہے لیکن مسلم آبادی بھی کم نہیں ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ اس کے نام کو سیاسی مقصد کے لئے تبدیل کرنے کیلئے زور و شور سے اٹھایا جاتا ہے۔

محمد بن تغلق اپنا دارالحکومت دہلی سے دولت آباد منتقل کرنا چاہتے تھے اس لئے انھوں نے راستے میں کئی جگہوں پر سرائے قائم کی،کنویں کھدوائے اور مساجد بنوائیں۔اورنگ آباد بھی ایسی ہی ایک جگہ تھی۔ملک عنبر احمد نگر کے نظام کے وزیراعظم اور کمانڈر تھے۔انھوں نے چکلٹھانہ کی لڑائی میں مغلوں کو شکست دی تھی۔ملک عنبر کو یہ مقام بہت پسند تھا۔

انہوں نے کھڑکی گاؤں کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا اور اسی پر اورنگ آباد شہر کی پہلی بنیاد رکھی گئی۔ملک عنبر نے یہاں سڑکیں،پل اور پانی کی فراہمی کے لئے نہریں تعمیر کرائیں۔انھوں نے نوکھنڈا جیسے محل بھی بنوائے تھے۔اورنگ آباد مغل تاریخ میں اتنا ہی اہم ہے جتنا لاہور،دہلی اور برہان پور۔اورنگزیب 1681ء میں یہاں آئے اور پھر کبھی دکن نہیں چھوڑا۔

شہنشاہ اورنگزیب نے یہاں خلد آباد میں ایک چھوٹا سا مقبرہ تعمیر کرنے اور اس پر تلسی کے پودے لگانے کی وصیت کی تھی۔ 1948ء میں جب ریاست حیدر آباد کو بھارت نے فوجی آپریشن کے ذریعے ہڑپ کر لیا گیا تو اورنگ آباد کے ساتھ مراٹھا وار کا علاقہ بھی ہندوستان کا حصہ بن گیا۔
اورنگ آباد میں مقیم ریٹائرڈ پروفیسر اور مورخ دلاری قریشی کا کہنا ہے”عام طور پر اورنگ آباد کی معلوم تاریخ صرف یادو خاندان تک ہی محدود رہی ہے لیکن یہاں ستوہنا سلطنت اور اس دور کے شواہد بھی ہیں۔

“انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کنہری کے غاروں میں جو کتبے ہیں ان میں ستوہنوں نے اورنگ آباد کا ذکر راجت داگ کے طور پر کیا ہے۔یہ غاریں اورنگ آباد یونیورسٹی (ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی،اورنگ آباد)میں ہیں۔دراصل یہ تجارتی راستے میں ایک اہم مرکز تھا۔یہ تجارتی راستہ اججین مہیشتی‘برہان پور‘اجنتا‘بھوکردن‘ راجت داگر یٹشٹھان سینٹر سے ہوتا ہوا گزرتا تھا۔

یادود کے عہد میں دیوگیری یعنی دولت آباد ایک نمایاں مقام بن گیا تھا۔بعد میں علاؤ الدین خلجی نے دولت آباد کے قلعے پر اپنا تسلط قائم کر لیا تھا۔شیوسینا کے سینئر لیڈر چندر کانت کھیرے نے کہا کہ 1988ء میں اورنگ آباد میں میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں شیوسینا نے 60 میں سے 28 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی جس کے بعد اورنگ آباد میں ایک عظیم الشان پروگرام منعقد ہوا تھا،جس میں شیوسینا کے سپریمو بال ٹھاکرے نے اسٹیج سے اعلان کیا تھا کہ اورنگ آباد کا نام سمبھاجی نگر رکھا جائے گا۔

جب شیوسینا کی حکومت اقتدار میں آئی اس وقت کابینہ میں شہر کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا جس کا نوٹیفکیشن بھی نکالا گیا تھا،لیکن یہ معاملہ عدالت میں چیلنج کیا گیا۔جس وقت مہاراشٹر حکومت نے اورنگ آباد کا نام سمبھاجی نگر رکھنے کے لئے نوٹس نکالا تھا اس وقت پورے مراٹھواڑہ میں متعدد مقامات پر احتجاج کیا گیا۔ماضی میں کئی بار اورنگ آباد کا نام تبدیل ہو چکا ہے۔

جب اورنگ زیب نے اورنگ آباد میں اپنی حکومت قائم کی اس دوران انھوں نے اس شہر کا نام اورنگ آباد رکھا تھا تب سے آج تک پوری دنیا میں اورنگ آباد کے نام سے یہ شہر جانا جاتا ہے۔اورنگ آباد کے نام کو لے کر شہر میں بحث گرم ہے۔شہر کے سینئر صحافی چکدرد دالوی نے کہا ہے کہ اورنگ آباد کے انتخابات جب بھی آتے ہیں اورنگ آباد کے نام کا معاملہ عروج پر آتا ہے،شہر میں بنیادی سہولیات نہیں ہیں سیاستدان اورنگ آباد کے نام پر سیاست کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

India Mein Musalmanoon Ki Saqafti Aur Tareekhi Shanakhat Per Hamla is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 06 February 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.