بھارت پاکستان پر حملے کا سوچ بھی نہیں سکتا

امریکہ کا منافقانہ رویہ‘تیسری جنگ کے خدشات بڑھنے لگے! مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر عالمی برادری کا کردار سوالیہ نشان ہے

جمعہ ستمبر

India Pakistan Par Hamle Ka Soch Bhi Nahi Sakta
 امیر محمد خان
کشمیر کی حالیہ صورتحال ،بھارتی دھمکیوں ،ہٹ دھرمیوں کی موجود گی میں پاکستان کی دن رات کی بھاگ دوڑ ،بیرونی دنیا سے سفارتی حمائت حاصل کرنے کے دوران جو مشکلات پیش آرہی ہیں اس کا انداز ہ بخوبی ہماری حکومت کو ہو گا اور وزیر اعظم عمران خان سمیت حکومت میں موجود مزید چند رہنماؤں اور دانش مند آنہ سوچ رکھنے والے،عالمی صورتحال پر نظر رکھنے والوں پر یہ بات عیاں ہو چکی ہو گی،آج بین الاقوامی تعلقات ،سفارتی تعلقات میں متعلقہ ملک کی معیشت کا مضبوط ہونا نہایت ضروری ہے۔

پاکستان ایک عظیم ملک اور عظیم وبہادر فوجی طاقت کا حامل ملک ہے،کمزور معیشت کے باوجود پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی آنکھیں نکالنے،پاکستان کیلئے غلط زبان استعمال کرنے والوں کی زبان گدی سے باہر نکالنے کی بخوبی سکت رکھتا ہے اس کا اندازہ بھارتی چینلز کی شام کی نشریات دیکھ کر بخوبی ہوتا ہے جو جھوٹ بول بول کر منہ سے جھاگ نکال رہے ہوتے ہیں اور ان کا یہ جھوٹ جس میں مقبوضہ کشمیر میں صورتحال معمول کے مطابق پر امن بتاتے ہیں ان کے اپنے لئے مسئلہ بن رہا ہے چونکہ جب ان کا میڈیا جھوٹی تصاویر دکھاتا ہے تو اس وقت دنیا دیکھ رہی ہوتی ہے اور یہ سوال بنتا ہے کہ اگر صورتحال اتنی ہی”اچھی“ہے تو پھر انسانی حقوق کے ادارے،اقوام متحدہ کے ادارے ،او آئی سی کی انسانی حقوق کی کمیٹی مقبوضہ کشمیر کا دور ہ کرنے کا مطالبہ کرتی ہے تو بھارتی پر اپیگنڈے کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملتی اگر پاکستان کو یہ کہا جائے کہ ہم اسلام آباد پر قبضہ کر لیں گے،کراچی میں گھس جائیں گے تو جنگی جنون رکھنے والوں کو اپنے ہی تجزیہ نگاروں،صحافیوں ،دانشوروں کی رپورٹس کا جائزہ بھی لینا چاہئے جیسے حال ہی میں بھارت کے مشہور تجزیہ نگار پروائن سوانی کی بھارتی کی بڑی فوجی طاقت اور پاکستان کی چھوٹی فوجی طاقت کا موازنہ کیا ہے جس کا لب ولباب اور بھارتی جنتا وجنگی جنونیوں کی یہ ہے کہ ”پاکستان پر حملہ کا سوچنا بھی نہیں“تجزیہ کارنے بہت شاندار انداز میں دونوں طاقتوں کا موازنہ کیا ہے اگر وہ مسلمان ہوتا تو ایک اضافی طاقت کا بھی ذکر کر دیتا جو ایمان کی طاقت ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان کی بہادر افواج اپنے شعبے میں بے پناہ مشاق ہے اس کے باوجود سچا مسلمان عددی طاقت کوہر گز گنتی میں نہیں لاتا ،موجودہ مادیت پرست دنیا میں ہمیں صرف اپنے زور بازو سے ہی دنیا کا ہر شعبے میں مقابلہ کرنا ہے کسی طاقت پر بھروسہ کرنا ہماری نادانی ہے۔
دنیا کے ذہنوں پر چھائی ہوا امریکہ کا ہوا کسی کام کا نہیں ہم نے دیکھ لیا ہے اور ہمارے رہنماؤں کو بھی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی صدر کے ملاقات کے دوران ہمارے وزیراعظم نے کشمیر پر ثالثی کا کہہ کر اپنا فرض پورا کیا۔

امریکہ منافقانہ سوچ نے سچ بولا یا جھوٹ مگر اپنے مطلب کیلئے وعدہ کیا چونکہ افغانستان سے باعزت ”بھاگنے کیلئے “پاکستان کی امداد کی ضرورت تھی مگر دوسری طرف امریکہ افغانستان میں پاکستان کا کوئی احسان نہ لینے کیلئے خفیہ ملاقاتیں بھی جاری رکھے ہوئے تھا اور ان خفیہ ملاقاتوں ،خفیہ معاہدوں کی ہانڈی بیچ سڑک پر ٹوٹ گئی جب امریکی صدر نے امن کیلئے جاری مذاکرات کرنے سے منع کر دیا اس وقت اسے پاکستان اور عمران خان کیوں یاد نہ آیا پاکستان افغانستان کا پڑوسی ملک ہے وہاں کے امن یا افراتفری کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے بغیر پاکستان کے مشورے سے کوئی مذاکرات یا معاہدہ خوامخواہ کا ہے ،متعلقہ لوگوں کی موجودگی میں ہی کوئی معاہدہ قابل عمل ہوتا ہے جس طرح پاکستان نے کشمیر کے مسئلے پر اپنا موقف رکھا ہے مقبوضہ کشمیر کی قیادت کی موجودگی ضروری ہے بھارت اور پاکستان کے مذاکرات کی صورت میں ۔


بھارت افغانستان ،طالبان ،امریکی مذاکرات کے امریکہ کی جانب سے منع کرنے پر اپنی بغلیں بجا رہا ہے اس کا اندازہ تھا کہ امریکہ کو مسئلہ کشمیر پر جب ہی درمیان میں آنا تھا جب اسے افغانستان کے مسئلے پر پاکستان کی اہمیت کا اندازہ ہو یا ضرورت ہے جب مذاکرات ہی نہیں جسے صدر ٹرمپ”nder The TableU“انداز میں کرنا چاہ رہے تھے اور طالبان کو یہ تاثر تھا کہ یہ معاہدہ طالبان کی شکست کے طور پر منظر عام پر آئے گا ،مندرجہ بالا تمام صورتحال میں پاکستان کی قیادت کو نہایت غور سے بیانات، اقدامات کرنا نہایت ضروری ہیں یہ طے ہے کہ ماسوائے چند قریب ترین دوستوں کے سوا کوئی نہیں اور اپنے زور بازاور سفارتی کو ششوں سے پاکستان کو کامیابیاں مل سکتی ہیں زور بازو پر تو یقین ہے مضبوط ہیں، سفارتی کوششوں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے،بیرون دنیا میں امریکہ جیسے ڈھکو سلوں پر شادیانے بجانے سے باز رہنا چاہئے نیز ہمارا نعرہ اور ہم واقعی ہیں بھی امن پسند اور مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اس لئے شیخ رشید کی بھڑکیں اور جنگ کی پیش گوئیوں پر بھی قابو کرنے کی ضرورت ہے ۔


کشمیر ی مجاہدین اپنی قربانیوں کے ذریعے اور وزیر اعظم عمران خان کی کوششوں سے مسئلہ کشمیر دنیا کے حکمرانوں کیلئے ”Talk Of Town“بن چکا ہے ،اب پیچھے ہٹنے والا کوئی قدم نہیں صرف ضرورت اپنے معاشی حالات درست کرنے اور اس بات کا لحاظ رکھنے کیلئے عقلمندی کی ضرورت ہے چونکہ”New World order“ایجنڈے پرموجود ہے جس میں فلسطین ،کشمیر جیسے مسائل کا حل اور ”New world order“کے موجد پاکستان کو بھی کسی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔

Your Thoughts and Comments

India Pakistan Par Hamle Ka Soch Bhi Nahi Sakta is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 20 September 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.