مقبرہ جنرل الارڈ/ کُڑی باغ

تاریخ بتاتی ہے کہ جنرل الارڈ نے مہاراجہ کی بھتیجی ''بانو'' سے شادی کی (مقبرے کے باہر لگی تختی کے مطابق الارڈ کی بیوی چمبہ کے شاہی خاندان کی شہزادی تھی)

Dr Syed Muhammad Azeem Shah Bukhari ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بُخاری ہفتہ فروری

Kurri Bagh
یہ قصہ شروع ہوتا ہے 1815 سے جب موجودہ یورپی ملک بیلجیئم میں واقع ''واٹرلو'' کے مقام پر نپولین بوناپارٹ کی قیادت میں لڑنے والی فرانسیسی افواج کو برطانوی افواج نے شکست دی اور وہ تتر بتر ہو گئیں۔ نپولین کو تو سینٹ ہیلینا میں قید کر دیا گیا لیکن اس کے بہت سے بہترین جنرل جن کے خون میں بہادری تھی، آرام سے نہ بیٹھے اور اپنے پیشے کو زندہ رکھنے کے لیئے مختلف خطوں میں پھیل گئے جن میں سے ایک جنرل فرانسس الارڈ بھی تھا۔


جنرل فرانسس الارڈ 1785 میں فرانس کے شہر سینٹ ٹروپز میں پیدا ہوا۔ یہ نپولین کے دور میں اٹلی اور اسپین کی جنگوں میں بھی لڑا۔ سیاسی جلاوطنی سے ڈر کہ یہ فرانس سے فارس (موجودہ ایران) جا پہنچا جہاں انہیں جنرل ونتورا کا ملا جو کود فرانس سے یہاں آیا تھا۔

(جاری ہے)

یہاں فارسی سیکھنے کے ساتھ ساتھ  دونوں جنرل شاہی دربار سے منسلک ہو گئے۔

لیکن برطانیہ نے شاہ فارس کو بھاری امداد کے بدلے فرانسیسی سپاہیوں کو گرفتار کرنے کا کہا تو یہ وہاں سے بھاگ نکلے۔ 1822 کے لگ بھگ یہ کابل پہنچے اور وہاں سے درہ خیبر پار کر کہ پشاور کے راستے پنجاب بھاگ نکلے اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں پیش ہوئے۔
مہاراجہ پہلے پہل تو انہیں دیکھ کہ برطانوی جاسوس سمجھا اور اس نے انہیں دو تین ماہ سخت نگرانی میں رکھا۔

چونکہ رنجیت سنگھ کو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سے شدید خطرات لاحق تھے وہ اپنی افواج کو ان کے ہم پلہ کرنا چاہتا تھا، اسی ضمن میں ان جنرلوں کی طرف سے تسل کر لینے کے بعد رنجیت سنگھ نے انہیں اپنی افواجِ خاص کی یورپی طرز پر بہترین ٹریننگ کا کام سونپا۔

 جنرل الارڈ کو گھڑسوار فوج جبکہ جنرل ونتورا کو پیدل فوج کا سربراہ بنایا گیا۔

اس فوج کی وردی بالکل نپولین کی فرانسیسی افواج کی طرز پر بنائی گئی تھی۔ بہترین لوگوں کو بھرتی کیا گیا اور فوج کے لیئے شاندار گھوڑوں کا بھی انتظام کیا گیا۔ خالصہ فوج کی اتنی بہترین ٹریننگ کی گئی کہ انڈیا کا برطانوی جنرل، ایڈورڈ بھی اسے ''ایشیاء کی بہترین لڑاکا فوج'' کہنے پہ مجبور ہو گیا۔ شاید اسی وجہ سے پنجاب وہ آخری خطہ تھا جو برطانیہ کے زیرِ تسلط آیا۔


الارڈ نے ہر طریقے سے مہاراجہ کا وفادار رہ کر پنجاب کی سرحدوں کی نگرانی کی پھر چاہے وہ 1825 میں پشاور اور ڈٰیرہ جات میں مسلم قبائل کو ہرانا ہو یا 1827 اور 30 میں سید احمد شہید بریلوی  کے جہاد کو دبانا۔ یہ سب کچھ انہیں مہاراجہ کے اور قریب لے آیا۔

 رنجیت سنگھ کے دور میں جنرل الارڈ کو تنخواہ کے ساتھ ساتھ مختلف جاگیریں بھی عطا کی گئیں۔

  جنرل الرڈ اور ونتورا نے لوئر مال پر بہترین قیام گاہیں بنوائیں اور اپنا صدر دفتر بھی وہیں بنایا۔ 1847 میں اسی دفتر پر انگریز افسر ہینری لارنس نے قبضہ کر لیا اور آج یہ پنجاب کے چیف سیکرٹری کا دفتر ہے جسے ہم سول سیکرٹریٹ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس سیکرٹریٹ کی کئی عمارتیں فرانسیسیوں کی بنائی گئی ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جنرل الارڈ نے مہاراجہ کی بھتیجی ''بانو'' سے شادی کی (مقبرے کے باہر لگی تختی کے مطابق الارڈ کی بیوی چمبہ کے شاہی خاندان کی شہزادی تھی) اور سیکرٹریٹ بلڈنگ کے باہر منتقل ہو گئے۔

یہی علاقہ آگے چل کرکنٹونمنٹ بنا اور پھر نیا کینٹ بننے کے بعد انارکلی کہلایا۔

اس جگہ جنرل الارڈ نے ایک بڑا باغ تعمیر کروایا جس کے بیچ میں اس کی رہائش گاہ بھی تھی۔ 1827 میں جنرل کی ایک بیٹی ''میری شارلوت''  کم عمری میں ہی مر گئی اور اس نے اسے وہیں باغ میں دفنانے کا فیصلہ کیا۔

تب سے اس جگہ کا نام مقامی زبانمیں ''کڑی آلا باغ'' رکھ دیا گیا جو پھر کُڑی باغ یا کہلایا ۔
1834 میں جنرل الارڈ لمبی چھٹی پر فرانس واپس گیا جہاں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ فرانسیسی حکومت نے جنرل کی اہلیت کو دیکھتے ہوئے اسے پنجاب کی سکھ حکومت میں اپنا نمائندہ بنا کہ بھیجنے کا فیصلہ کیا اور 1836 میں جنرل  اپنے خاندان کو فرانس چھوڑ کہ مہاراجہ کی خدمت میں پیش ہوا۔

مہاراجہ نے اسے جنرل ونتورا کی مدد کرنے قبائلی علاقوں میں بھیجا تاہم وہ وہاں جاتے ہی بیمار ہو گیا اور 1839 میں پشاور میں اس کا آخری وقت آن پہنچا۔ اس کے تابوت کو پشاور سے لاہور مکمل فوجی اعزاز سے لایا گیا اور راستے میں ہر بڑے شہر میں سلامی دی گئی۔
جنرل الارڈ کو اپنی بیٹی کے ساتھ کڑی باغ میں ہی دفن کیا گیا جہاں مہاراجہ نے ایک سکھ طرز تعمیر کا خوبصورت مقبرہ بنانے کا حکم دیا۔


یہ باغ پرانی انارکلی میں ایف بی آر کے دفتر کے پاس واقع ہے جہاں ایک زمانے میں کپورتھلہ ہاؤس ہوا کرتا تھا۔ ماضی میں کڑی باغ کے نام سے مشہور یہ جگہ اب صرف جنرل الارڈ اور اس کی بیٹی کا مقبرہ ہے۔
آج کڑی باغ انارکلی کی بلند و بالا عمارتوں کے ہجوم میں سہما اور سمٹا ہوا ایک چھوٹا سا گھاس کا قطعہ ہے جس کے وسط میں سرخ اینٹ کا ایک بڑا سا چبوترہ موجود ہے۔

اس چبوترے پر شرخ ایںٹ کا ہی ایک اور ایک ہشت پہلو چبوترہ ہے جس پر خوبصورت سفید گنبد والا مقبرہ بنا ہے۔ اس پر آٹھ چوکور درمیانے سائز کے مینار بھی ہیں۔

مقبرے کے اندر دو سنگ مرمر کی قبریں ہیں جن کے پیچھے دیوار کے بیچ ایک کُتبہ لگا ہوا ہے۔
اس پر فرانسیسی کے یہ الفاظ درج ہیں ؛
"Cette tombe a ete construite en 1827 sur l'ordre du chevalier general Allard sahib bahadur pour sa fille Marie Charlotte que dieu lui aporte sa benediction an paradis."
''یہ قبر 1827 میں جنرل الارڈ صاحب بہادر کے حکم پر اپنی بیٹی میری چارلوٹ کے لیئے بنائی گئی۔

خدا اسے جنت میں میں جگہ دے''۔
 ہماری ازلی بے حسی کی بدولت یہ جگہ بھی ابتری کا شکار تھی لیکن فرانسیسی حکومت کی مہربانی اور فرانسیسی قونصل خانے کے فنڈز سے اس کی بحالی پائی تکمیل کو پہنچی اور یہ تاریخی جگہ آج ہمارے سامنے بہترین حالت میں موجود ہے۔
تحریر کے اختتام پہ میں محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب کے ڈائریکٹر مقصود احمد صاحب کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جن کی بدولت یہ مقبرہ دیکھنا نصیب ہوا۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Kurri Bagh is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 13 February 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.