منفی رویے اور بیمار مودی

مودی کا چرچا ہر زباں تلے عام ہے۔ اس کی یہ مشہوری اسکے اچھے کاموں کی وجہ سے نہیں،مودی کو بھی فرعونیت کی اک بیماری لگ چکی ہے،جس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انسانیت کی ساری حدیں پھلانگ چکا ہے

Aftab Shah آفتاب شاہ ہفتہ مئی

manfi ravayye aur bimar modi
انسان کو اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات بنایا شاید یہ بات انسان کی سمجھ میں آ جائے لیکن کیا کریں،جب یہ بات اسکی سمجھ میں نہیں آتی،تو اس سے طرح طرح کی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں،جو کہ تمام عمر اور پھر تاریخ کے اوراق میں بھی پیچھا کر تی ہیں۔اپنی ان ناکامیوں پر پردہ پوشی کرتے کرتے وہ زندگی سے دور حیوانیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اسکا نام درندہ صفت انسانوں میں شمار ہو جاتا ہے،پھر فرعون،ہٹلر اور مودی جیسے لوگوں کی فہرست ترتیب پاتی ہے۔

ان کی زندگی کی محرومیاں،ناکامیاں،ناانصافیاں اور بیماریاں اسکے اندرگھرکرلیتی ہیں۔
اس طرح کے محروم اور نفسیاتی مسائل کے شکار بیمار لوگوں کے ہاتھ جب اقتدار لگتا ہے۔تو انسانیت بھی ان سے شرماتی ہے اور یہ لوگ اپنی ان محرومیوں کا مداوہ اس طرح کرتے ہیں کہ وہ انسانیت کے پیمانے کو دور پھینک دیتے ہیں اور اپنے اندر کی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے وہ انسانیت کا گلہ دباتے ہیں۔

(جاری ہے)

پھرنازی ازم اور مودی ازم جیسے خطابات سے نوازے جاتے ہیں۔انکے نزدیک انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔جس طرح بھیڑوں کا ایک جھنڈ ہو اور اس میں سے اپنی پسند کی بھیڑیں علیحدہ کرنا اور ناپسندیدہ کومار دینا۔ کچھ اس طرح کا کلیہ یہ انسانوں پر بھی آزماتے ہیں۔اپنے اقتدار یا پھر بیمار ذہنیت ان سے انسانی بنیادوں کو ہلا دینے والے کام کروا جاتی ہے۔

موسی کو مارنے کی خاطر فرعون نے تمام ماؤں کے حمل گروادئیے،خاص طور پرمیل بچوں کو مروا دیا۔اسکا یہ فیل عبرت کا نشان بن گیا،اس کو پانی اور زمین نے اپنے اندر سمونے سے انکار کر دیا۔ہٹلر بھی کچھ اسی قسم کی بیماری کا شکار تھا۔اچھے اور صحت مند انسانوں کو ایک طرف اور باقی کو مار دیتا۔میں لمبی بحث میں جانا نہیں چاہتا۔
آج کے دور بھی اسطرح کے بیشمار بیانک چہرے ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں۔

جو ان کے قدموں پرقدم رکھتے نظر آتے ہیں۔ان کے کاموں اور ناموں کی فہرست پھر کبھی سہی۔
مودی کا چرچا ہر زباں تلے عام ہے۔ اس کی یہ مشہوری اسکے اچھے کاموں کی وجہ سے نہیں،مودی کو بھی فرعونیت کی اک بیماری لگ چکی ہے،جس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انسانیت کی ساری حدیں پھلانگ چکا ہے۔ کشمیر میں نہتے کشمیروں پر ۲۱ لاکھ سے کے قریب فوج نے ظلم وستم کی ساری حدیں کراس کر دی ہیں۔

کشمیر ی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو کون نہیں جانتا ہے۔اب تو اسکی آواز عرب نے بھی بلند کر دی ہے۔جو پہلے خاموشی کی مورت بنے ہوئے تھے۔قریب ایک سال کے قریب وقت ہونے کو ہے۔میرے کشمیری بہن بھائی لاک ڈاؤن میں ہیں۔ یہ خیال میرے دل و دماغ سے جاتا ہی نہیں۔میرا دل بے اختیار خون کے آنسوں روتا ہے۔ ادھر لاک ڈاؤن میں تو طرح طرح کے پیکیج ہیں۔

سودا سلف و نقد بے شمار عنایتیں کی جا رہی ہیں۔لیکن ہم پھر بھی ناخوش۔۔۔کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔انسانیت کوشرمندہ کر دینے والے مظالم جاری ہیں۔
خون پانی سے سستا۔میری ماؤں بہنوں کی عزت ہر روز نیلام ہوتی ہے۔بھوک سے مرتے ہوئے بچے۔۔۔دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے نام پر درجنوں گھروں کو جلادیا جاتا ہے۔بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے۔

فلسفہ اورتھیوری یہ کہ صرف بھارت میں صرف ہندو ہی آباد ہوں۔باقی کسی کو ہندوستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔مسلمانوں کی سکونت تو بلکل ناجائز۔۔۔ مودی کی یہ بیماری اتنی بڑھ چکی کہ بھارت میں بسنے والوں کا جینا مشکل کر دیا گیا ہے۔ریاستی دہشتگردی جاری ہے- پولیس سمیت سب ادارے شامل۔۔۔۔۔اب تو کوئی بھی اقلیت وہاں پر محفوظ نہیں۔آر۔ایس۔ایس کے کارندوں نے مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔

کرونا کے پردہ میں مسلمانوں پرمظالم میں اضافہ ہوگیا ہے۔نئے نئے قانون لاگو کر کے مسلمانوں پر زندگی تنگ کی جا رہی ہے۔
حالیہ کچھ ہونے والے واقعات کی وجہ سے بھارت منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔۔۔۔نیپال جیسا ملک بھی بھارت کو آنکھیں دکھا رہا ہے۔ پاکستان کو بھی اپنی حکمت عملی بنانی ہو گی اور کشمیر کی طرف پیش قدمی کرنا ہو گی۔کشمیری مسلمانوں کوآزادی کا سورج دکھانا ہوگا۔لوہا گرم ہے اورموقع بھی ہے۔چائنا اور نیپال کی طرح آگے بڑھنا ہو گا۔ کہیں بہت دیر نہ ہو جائے۔حالات پر نظر رکھیں کیونکہ پیکچر ابھی باقی ہے۔۔۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

manfi ravayye aur bimar modi is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 30 May 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.