مسئلہ کشمیر‘حکومت کے بڑے فیصلے!

کشمیر پر اس آرٹیکل کے خاتمے سے بھارت نے اپنے غاصبانہ قبضے کو آئینی اور قانونی جواز فراہم کرنے کی مذموم کوشش کی ہے جب کہ بین الااقوامی قوانین آج بھی کشمیر کو ایک متنازع اور حل طلب مسئلہ قرار دیتے ہیں

Rao Ghulam Mustafa راؤ غلام مصطفی جمعہ اگست

masla Kashmir' hukumat ke bhary faislay!
مودی سرکار نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور35Aکو ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کو بھارتی صوبہ بہار اور پنجاب جیسی حیثیت میں تبدیل کر دیا ہے اور کشمیری مسلمانوں کو فلسطین کی طرح بے وطن و بے یارومدد گار کرنے کے لئے بھارت نے یہ انتہائی قدم اٹھایا ہے۔بھارت کے اس اقدام کو اٹھانے کا مقصد یہ ہے کہ کشمیر میں غیر مسلموں کو آباد کیا جائے تاکہ کشمیریوں کی جائیدادوں‘وسائل اور روزگار پر قابض ہو جائیں اور کشمیری مسلمانوں کو دربدر کر دیا جائے۔

بھارت کشمیر میں بین الااقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے کشمیر کا مسئلہ آج بھی بین الااقوامی سطح پر ایک متنازع ہے اور اسی کے باعث دو جوہری ممالک کی طاقتوں کے درمیان فوجی تناؤ کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو نیو کلئر فلیش پوائنٹ (Nuclear Flash Point)بھی کہا جاتا ہے۔

(جاری ہے)


1947ء کو جب پاک‘بھارت کی تقسیم ہوئی تھی تب مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقوں پر بھارت کی بنیاد رکھی گئی تھی مقبوضہ کشمیر کی ریاست کا بڑا علاقہ مسلم اکثریت پر مشتمل تھا اور اس پر ہندو راجہ ہری سنگھ کی حکمرانی تھی تقسیم ہند کے صرف دو ماہ تک راجہ ہری سنگھ اس ریاست کو آزاد اور خودمختار رکھنے میں کامیاب رہا اور اس ریاست کے مستقبل کے فیصلے کے لئے راجہ ہری سنگھ نے پاکستان اور بھارت کے سامنے ایک معاہدہ بھی پیش کیا تاکہ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔

کشمیر میں صورتحال اس وقت تیزی کیساتھ تبدیل ہونا شروع ہوئی جب وہاں بھارت سے علیحدگی کی تحریک نے سر ابھارا اور اس صورتحال کے پیش نظر راجہ ہری سنگھ نے بھارتی حکومت سے فوجی امداد طلب کر لی 27اکتوبر 1947ء کو بھارت نے کشمیر میں اٹھنے والی اس تحریک کو دبانے کے لئے وہاں فوج اتار دی اور پاکستان نے بھی اپنی فوج کو کشمیر میں اتار دیا کشمیری حریت پسندوں کی یہ تحریک آزادی پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ کا باعث بنی۔

اسی جنگ کے دوران اس وقت بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے وعدہ کیا کہ وہ کشمیریوں کی رائے جاننے کے لئے ریفرنڈم کروائیں گے تقریبا دو ماہ بعد بھارت کشمیر کے معاملہ کو اقوام متحدہ لے گیا 13اگست 1948ء کو اقوام متحدہ میں ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ دونوں ممالک اپنی اپنی افواج کو کشمیر سے واپس بلائیں تاکہ ریفرنڈم کروایا جا سکے لیکن اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ریفرنڈم نہ ہو سکا۔

یکم جنوری 1949ء کو جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوئی تو کشمیر ایک متنازع علاقہ بن چکا تھا جنگ بندی کے لئے جو زمین پر لائن لگائی گئی اس سے کشمیر دو علاقوں میں تقسیم ہو گیا اور بھارت آج کشمیر کے دوتہائی حصہ کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے ۔
1965ء کی جنگ کے تناظر میں دیکھ لیں جب دشمن بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر شب خون مارنے کی ناکام کوشش کی تو اس جنگ کی بنیاد بھی مسئلہ کشمیر ہی تھا۔

1972ء میں جب شملہ معاہدہ دونوں ممالک کے مابین طے پایا تو جنگ بندی کی لائن کو لائن آف کنٹرول قرار دیا گیا 90 کی دہائی میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارت سے علیحدگی کی تحریک زور پکڑ گئی یہ وہی وقت تھا جب پاکستان اور بھارت دنیا میں اپنے آپ کو جوہری طاقت منوا چکے تھے۔
1999ء میں پاکستان اور بھارت کی فوجیں ایک بار پھر آمنے سامنے آئیں جب پاکستانی فوج نے مقبوضہ کشمیر سے ملحقہ علاقے میں بھارت کی فوجی چوکیوں پر قبضہ کر لیا اور اس قبضہ کو چھڑوانے میں بھارت کی زمینی اور فضائی فورسز نے بڑی کوشش کی لیکن ناکام رہے اور یہ لڑائی کارگل کی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔

کشمیر میں مسلمانوں کی جدوجہد آزادی 72برس مکمل کر چکی ہے 2016ء میں جب کشمیری نوجوان برہان وانی کی شہادت نے اس تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی تب سے کشمری نوجوان جوق در جوق کشمیر کی تحریک حق خودارادیت میں شامل ہو رہے ہیں اور کشمیر کی تحریک میں تیزی آنے کے باعث بھارت کی سات لاکھ افواج ان نہتے کشمیریوں کے سامنے بے بس و لاچار نظر آرہی ہے۔

 یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار کشمیر کی اس تحریک کو ختم کرنے کی سفاکانہ کوشش کی ناکامی کے بعد شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھی اور یہ توقع کی جا رہی تھی کہ مودی سرکار اپنی اس ناکامی پر ضرور کوئی مہلک قدم اٹھائے گی جس سے آزادی کی اس تحریک ظلم و بربریت کے تحت سفاکانہ طریقے سے کچلا جا سکے۔کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت انتہاؤں کو چھو رہی ہے بھارت بے دریغ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

کشمیر پر اس آرٹیکل کے خاتمے سے بھارت نے اپنے غاصبانہ قبضے کو آئینی اور قانونی جواز فراہم کرنے کی مذموم کوشش کی ہے جب کہ بین الااقوامی قوانین آج بھی کشمیر کو ایک متنازع اور حل طلب مسئلہ قرار دیتے ہیں ۔بھارت شائد بھول گیا جب تک کشمیر کے زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے حل نہیں کیا جاتا اس کی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتابھارت کے اس اقدام نے سیکورٹی کونسل اور اقوام متحدہ کے دائرہ کار کو چیلنج کیا ہے جس سے پوری دنیا بھارت کے اس غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کو ماننے سے انکار کر رہی ہے۔

اور بھارت کے اندر بھی اپوزیشن سمیت طاقتور آوازیں مودی سرکار کے اس اقدام کو بھارت کی تقسیم کے آغاز سے تشبہہ دے رہی ہیں جو بھارت کی بقا اور سلامتی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔
پاکستان کی حکومت نے بروقت اور بر محل بھارت کیخلاف بڑے فیصلے لے کر بھارت سمیت دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان کشمیری مسلمانوں کی اخلاقی‘سیاسی اور سفارتی حمائت سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا پاکستان نے بھارتی سفیر کی بیدخلی‘سفارتی تعلقات محدود‘تجارت معطل‘واہگہ بارڈر بند‘چودہ اگست کو یوم یکجہتی کشمیر منانے‘بھارت کے یوم آزادی پر یوم سیاہ منانے ‘پاکستانی سفیر کو دہلی نہ بھیجنے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے پاک افواج کو الرٹ رہنے اور بھارت کے غیر آئینی و غیر قانونی اقدام کے معاملے کو سلامتی کونسل لیجانے جیسے فیصلے کر کے ایک زندہ قوم کے طور پر بھارت کے اس غیر آئینی اقدام کا دندان شکن جواب دیا ہے ۔

حکومت کو چاہیے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو بھی یوم یکجہتی کشمیر اور یوم سیاہ کی تحریک کا حصہ بنانے کے لئے کمیٹی تشکیل دے تاکہ غاصب‘مکار اور ازلی دشمن کو یہ پیغام زناٹے دار تھپڑ کے طور پرپہنچ سکے ۔بھارت پاکستان کی جانب سے اتنے سخت ردعمل کی امید نہیں رکھتا تھا ان ناگفتہ بہ حالات کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر بھارت میں ہی اپوزیشن اور کشمیر میں کٹھ پتلی حکومت کی جانب سے اپنی ہی ریاستی اور وفاقی حکومت کے اقدامات کے خلاف سوالات اٹھا دئیے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان حالات کی سنگینی اس بات کی غماز ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کی تباہی و بربادی کی بنیاد بن چکا ہے اگر عالمی قوتوں نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے کردار ادا نہ کیا تو پاک‘بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ غزوئہ ہند میں تبدیل ہو جائے گی جس کی بنیاد بھارت کشمیر میں اٹھائے جانے والے غیر آئینی اقدام سے رکھ چکا ہے ۔

Your Thoughts and Comments

masla Kashmir' hukumat ke bhary faislay! is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 09 August 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.