قومی بیمار

اب بیماری اور ڈرامے پہ جھگڑا اور شکوک و شبہات کیسے بھئی؟ اپنی وزیر صحت کو بلائیں

Zakia Nayyar ذکیہ نیر منگل نومبر

Qoumi Bimar
سین ون!
لوکیشن سروسز ہسپتال!
کہانی کا آغاز ہوتا ہے کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال آمد پر۔۔۔۔وجہ طبیعت ناساز۔۔۔ہوا کیا ہے؟پلیٹلییٹس میں کمی۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے لاہوری میڈیا کی ہسپتال کے گیٹ کے باہر کھمبا ڈیوٹی شروع۔۔۔پھر صبح آٹھ کے بلیٹن کی پہلی خبر پلیٹلیٹس دوہزار رہ گئے۔

۔۔۔بارہ کے خبرنامے کی پہلی ہیڈ لائن میگا کٹس لگا دی گئیں۔۔ایک بجے کی بریکنگ پلیٹلیٹس ساٹھ ہزار ہوگئے۔۔۔رات آٹھ بجے تمام تر ملکی معاملات پر بحث مباحثے کے بجائے "قومی بیمار" کی صحت کے حوالے سے پروگرامز۔۔۔صبح پھر پلیٹلیٹس کم ہونے کی اطلاع۔۔۔اتنے میں وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کی انٹری ہوتی ہے۔۔۔بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

۔۔وزیر صحت میڈیا پہ آکے آگاہ کرتی ہیں کہ نواز شریف کی طبیعت واقعی ناساز بلکہ تشویشناک ہے۔

۔۔پھر اینکرز ایکسکلوزیو سلاٹس میں آن بیٹھتے ہیں تبصرے ہوتے ہیں اگر میاں صاحب واقعی  بیمار ہیں تو ن لیگ یا حکومت بطور ثبوت انکی کوئی ویڈیو کیوں نہیں دکھا دیتی اور پھر اچانک ایک تصویر وائرل ہوتی ہے جس میں مریض ٹیسٹ کراتے دکھائی دیتا ہے۔۔۔اس دوران ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کی بھی آنیاں جانیاں میڈیا انسرشنز بنتیں ہیں۔۔۔ہر دن میڈیا کی لال پٹی ہو یا وزیر مشیر ہر جگہ ہر ایک کی زبان پر صرف ایک ہی بات دکھائی اور سنائی دیتی ہے "میاں صاحب کے پلیٹلیٹس کا اتار چڑھاؤ"سولہواں دن آتا ہے بیمار گھر چلا جاتا ہے جہاں ایک آئی سی یو بنا دیا جاتا ہے اور میڈیا کو ٹکرز دئے دئیے جاتے ہیں کہ تشویشناک حالت میں مبتلا مریض کے لیے  ہسپتال سے بہتر گھر۔

سین ٹو!
لوکیشن کمیٹی روم!
 بیماری کی تشخیص اور علاج اس ملک میں ممکن نہیں بیمار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی استدعا حکومتی کانوں تک پہنچتی ہے تمام تر عوامی مسائل کو دیوار سے لگا کر کابینہ اپنا وقت پیسہ اور قوت لگا کر فیصلہ دیتی ہے کہ سات ارب دو اور لے جاؤ اپنے مریض کو باہر ۔۔۔۔میڈیا ایک بار پھر اپنی تمام تر توجہ بیمار پر مرکوز کرتا ہے۔

۔انڈیمنیٹی بانڈ کیوں مانگے جارہے ہیں؟جب اجازت دے دی تو جانے کیوں نہیں دیا جارہا۔۔۔۔دوسری جانب خبریں چلتی ہیں کہ مریض کی حالت ایسی نہیں کہ تاخیر ہو جبکہ سات ارب تو دور مریض حکومت کو ایک چونی دینے کو تیار نہیں ۔وہاں حکومت سات ارب لیے بنا اجازت نہ دینے پر بضد
سین تھری!
لوکیشن لاہور ہائی کورٹ!
مریض کی صحت کو سامنے رکھتے ہوئے چھٹی کے دن عدالت لگتی ہے پہلے معزز جج صاحبان واضح کرتے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ یہ فیصلہ سنا سکتی ہے وجہ یہ بھی ہے کہ مریض لاہوری ہے میڈیا صبح 8 سے لیکر رات نو تک عدالت کے باہر موجود اینکرز اسٹوڈیو میں سر کھپا رہے اتنے میں مائی لارڈ فیصلہ سناتے ہیں   مریض کو پچاس پچاس روپے کے دو  اسٹام پیپر پر انڈرٹیکنگ دلوا کہ برطانیہ جانے کا اجازت نامہ بنا کسی انڈیمنیٹی بانڈ کے دے دیا جائے۔

۔۔یاد رہے کہ مریض تشویشناک حالت میں ہے مگر رفقاء اور کارکنان مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں اورحکومتی ہار پر اسے منہ چڑاتے ہیں۔۔۔
سین 4!
لوکیشن لاہور ائیرپورٹ!
بیمار کا قافلہ رواں دواں ائیرپورٹ پہنچتا ہے میڈیا نمائندوں کا جم غفیر ہے قطری جہاز بیمار کا منتظر ہے ایسے میں گاڑی سے سوٹڈ بوٹڈ مریض نکلتا ہے اور جہاز میں سوار ہوکے دیار غیر علاج کے لیے چلا جاتا ہے۔

۔۔۔کہانی میں جان تب پڑتی ہے جب جہاز کے اندر کی ایک تصویر سامنے آتی ہے جہاں مریض بخیریت موجود ہشاش بشاش دکھائی دیتا ہے ۔۔۔۔پھر شور برپا ہوتا ہے میڈیا تو میڈیا خود حکومتی وزیر مشیر بیمار کی بیماری کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کوئی ڈرامہ کہتا ہے کوئی جیل سے بچنے کا راستہ۔۔۔
سین 5!
لوکیشن ایون فیلڈ فلیٹس !
قومی بیمار لندن پہنچتا یےلندن فلیٹس میں رات بسر ہوتی ہے اگلے دن گائیز ہاسپٹل میں ٹیسٹ ہوتے ہیں اور تاحال ٹیسٹوں کا سلسلہ جاری ہے پلیٹلیٹس کی کیا تعدادہے کوئی تذکرہ نہیں ہوتا عدالت سے اشتہاری قرار دیا جانے والا بیٹا التجا کرتا ہے علاج خفیہ رکھا جائے پھر حکومتی ایوانوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوجاتی ہیں عوام ہکا بکا تب تک رہ جاتی ہے جب وزیراعظم بھی سارے معاملے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے پھر ملک کی سب سے بڑی خبر "میاں صاحب کی بیماری" بن جاتی ہے قومی بیمار کا علاج لندن میں ابھی جاری ہے سو کہانی ابھی رکی نہیں مگر عام عوام ضرور اکتا گئی ہےکہ اس ساری  کہانی میں انکا کردار کہاں ہے کیا اب ملکی مسئلہ صرف نواز شریف کی سزا،بیماری اور جیل ہی رہ گیا ہے مہنگائی، بے روزگاری،غربت،دوہرا تعلیمی معیار صحت کی سہولیات کا فقدان بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ مہنگا پٹرول یہ وہ مسائل ہیں جن نے عوام کی کمر توڑ کہ رکھ دی ہے مگر جب سے حکومت آئی ہے اسکی توجہ نواز شریف سے ہی نہیں ہٹ رہی جیسے دولہے سے زیادہ اسکا شہہ بالا مرکز نگاہ ہوتا ہے ایسے ہے کچھ حال ادھر بھی ہے کہ حکومت کا تو کوئی پتہ نہیں مگر نواز شریف کو وہ توجہ ایک سال میں دی گئی جو شائد ہی کسی دور میں ہارے ہوئے لیڈر کو ملی ہو۔

۔اب بیماری اور ڈرامے پہ جھگڑا اور شکوک و شبہات کیسے بھئی؟ اپنی وزیر صحت کو بلائیں اور پوچھیں انہی کی زیر نگرانی کنفرم ہوا تھا کہ مریض کس حد تک بیمار ہے ورنہ سمجھ لیں کہ غیر تو غیر اپنوں نے بھی آپ کو ماموں بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

Your Thoughts and Comments

Qoumi Bimar is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 26 November 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.