تجاوزات کیخلاف آپریشن پر سندھ حکومت کی ”پھرتیاں“

”پکے“کے ڈاکوؤں کو ختم کئے بغیر”کچے“میں امن قائم نہیں ہو گا

پیر جولائی

Tajawzat Ke Khilaf Operation Per Sindh Hakomat Ki Phurtiyaan
آر ایس آئی
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ کی زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کراچی میں سرکاری زمین سے تجاوزات ختم کرانے کا حکم دے کر سینئر رکن بورڈ آف ریونیو سے 3 ماہ میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا ہے کہ سینئر ممبر بادشاہ اور مختیار کار وزیر بنے ہوئے ہیں،بادشاہوں کی طرح زمینیں الاٹ کی جا رہی ہیں۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ زمینوں کا ریکارڈ اگر کمپیوٹرائزڈ نہیں ہوا تو سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سرکاری زمینوں پر تجاوزات اور سروے مکمل نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار بھی کیا ہے۔

(جاری ہے)

سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کا کہنا ہے کہ ریکارڈ مکمل کمپیوٹرائز کرنے کیلئے مزید 2 ماہ کی مہلت درکار ہیں،ٹھٹھہ کی زمینوں کا ریکارڈ ابھی تک کمپیوٹرائزڈ نہیں ہو سکا،ریکارڈ جلنے کی وجہ سے سروے نہیں ہو سکا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پورا ریونیو ڈیپارٹمنٹ اربوں روپے بنا رہا ہے،ایک انٹری کئی لوگوں کے نام پر کر دی جاتی ہے،ریونیو کا ادارہ سب سے کرپٹ ادارہ ہے کوئی بہتری نہیں آئی،کے ایم سی اور کے ڈی اے والوں کے پاس کوئی ماسٹر پلان نہیں ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں ہیں کہ کراچی اور سندھ کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے،کے ایم سی اور کے ڈی اے کے پاس کراچی کا تو ماسٹر پلان ہی نہیں،آدھا کراچی سروے نمبر پر چل رہا ہے،یونیورسٹی روڈ پر 15،15 منزلہ عمارتیں بنی ہوئی ہیں۔

بلوچستان،پنجاب اور کے پی کے کی زمینوں کا ریکارڈ بھی جلد کمپیوٹرائزڈ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔کشمیر روڈ،کے ڈی اے کلب،اسکواش کورٹ،سوئمنگ پول و دیگر تعمیرات بھی گرانے کا حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کشمیر روڈ کو دوبارہ بچوں کے لئے کھول کر پارک بنائے جائیں۔پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی آدھی سے زیادہ قیادت سندھ کو لوٹنے اور تباہ کرنے کے الزام میں نیب کی عدالتوں میں ہے۔

468 ارب کے بجٹ کے باوجود سندھ میں ڈاکو راج قائم ہے۔پیپلز پارٹی نے سندھ کو تباہ کر دیا ہے،پکے کے ڈاکوؤں کو ختم کئے بغیر کچے کے ڈاکوؤں کو روکا نہیں جا سکتا۔کراچی کی مقامی عدالت نے ملیر میں تجاوزات آپریشن کیخلاف ایم نائن موٹروے بلاک کرنے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں آئندہ سماعت پر گواہ کو پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بحریہ ٹاؤن میں سندھی قوم پرست جماعتوں کی طرف سے بدترین توڑ پھوڑ اور اشتعال انگیزی کا جو مظاہرہ کیا گیا وہ قابل افسوس ہے مذکورہ واقعہ میں مبینہ طور پر مقامی گوٹھوں کو مسمار کرنے کے خلاف سندھ کی قوم پرست جماعتوں،مزدور و کسان تنظیموں اور متاثرین کی جانب سے ”غیر قانونی قبضے چھڑوانے کیلئے“ ہونے والے چند عناصر نے اربوں روپے کی قیمتی املاک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا کئی گاڑیوں اور متعدد موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کر دیا گیا نیز نفرت سے بھپرے ہوئے ہجوم نے رہائشی عمارتوں میں توڑ پھوڑ سمیت،بحریہ ٹاؤن کے ماتھے کا جھومر یعنی اس کے خوبصورت مرکزی دروازے کو بھی آگ لگا دی جبکہ ریسٹورنٹس‘دکانیں‘دفاتر‘ شورومز میں توڑ پھوڑ کے ساتھ معصوم رہائشیوں کو زود و کوب کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا اس حملے نے کراچی کے باسیوں کو شدید عدم تحفظ‘خوف و ہراس اور پریشانی کے ساتھ ساتھ زبردست حیرانی میں بھی مبتلا کر دیا ہے،یہاں یہ بھی قابل غور امر ہے کہ اس حملے کے وقت ”فول پروف سکیورٹی“ کہاں غائب تھی؟بہرکیف حالیہ واقعہ نے بحریہ ٹاؤن کی غیر معمولی ”تجارتی ساکھ“ کو دو ٹکے کا کرکے رکھ دیا ہے۔


 سانحہ بحریہ ٹاؤن کے ذریعے کراچی شہر کی معاشی ترقی پر بھی شب خون مارنے کی مذموم حرکت اور منظم کوشش کی گئی ہے کیونکہ گزشتہ چند برس میں دنیا بھر کے سامنے ”محفوظ کراچی“ کا غیر معمولی تاثر اجاگر ہوا تھا اور یوں طویل مدت بعد کراچی شہر ایک بار پھر سے سرمایہ کاروں کیلئے منافع بخش سرمایہ کاری کا پُرکشش ذریعہ بنتا جا رہا تھا مگر یہ بات شاید کراچی شہر کی ترقی سے حسد کرنے والوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے بالآخر نہتے کراچی کا معاشی استحصال کرنے کا نیا راستہ تلاش کرکے ہی دم لیا بعض حلقے جان بوجھ کر یہ اصرار کر رہے ہیں کہ بحریہ ٹاؤن کو اپنی اشتعال انگیزی کا نشانہ بنانے والوں کو بنیادی مقصد صرف ”ملک ریاض“ کو ہی سبق سکھانا تھا۔

کراچی کے باسیوں کو ان کی بات ماننے میں ذرا تامل نہیں ہوتا اگر بحریہ ٹاؤن پر لشکر کشی کرنے والے پاکستان مخالف نعرے نہ لگاتے،قانون نافذ کرنے والے ریاستی اداروں کو برا بھلا نہ کہتے اور بعض مبینہ اطلاعات کے مطابق لوگوں کے شناختی کارڈ چیک کرکے ان کی دکانیں اور کاروبار نذر آتش کرنے کا فیصلہ نہ کرتے یعنی تعصب کی نفرت میں پاگل ہونے والے ہجوم کا اتنا ہوش بہرحال تھا کہ کس کی دکان جلانی ہے اور کس کی نہیں؟۔


بحریہ ٹاؤن کراچی کی انتظامیہ بارہا اپنا موٴقف دہرا چکی ہے کہ کسی کی زمینوں پر ناحق قبضہ نہیں کیا گیا اور کوئی اگر ایک انچ بھی اپنی ملکیت، زمینوں پر غیر قانونی کام یا قبضہ ثابت کر دے تو وہ ذمہ دار ہوں گے پہلے بھی آزادانہ تحقیقات کا سامنا کیا ہے اور اب بھی کرنے کیلئے تیار ہے“مگر اعتراض کرنے والوں نے آج تک احتجاج اور مظاہروں کے علاوہ دیگر قانونی اور آئینی راستے اختیار کرنے کی کوشش ہی نہیں کی، حیران کن بات یہ ہے دہشت گردی کے اس واقعہ میں شامل ہونے والے افراد کا تعلق آس پاس کے علاقوں سے ہر گز نہیں تھا بلکہ یہ افراد خصوصاً اندرون سندھ سے بسوں اور گاڑیوں میں بھر کر خصوصی طور پر لائے گئے تھے۔

ملک ریاض کی شخصیت سے ہم لاکھ اختلاف کریں مگر یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بحریہ ٹاؤن کراچی جہاں بیرون ملک پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کے ذریعہ پاکستان کے لئے کثیر زرمبادلہ لانے کا سبب بنا،وہیں یہ عظیم الشان منصوبہ سندھ کی عوام کیلئے روزگار اور اعلیٰ درجے کی رہائشی سہولیات بھی مہیا کرنے میں کامیاب رہا۔یاد رہے کہ اس وقت بھی بحریہ ٹاؤن کراچی میں بڑی تعداد میں سندھی گھرانے رہائش پذیر ہیں جو نہ صرف یہاں اپنے کاروبار قائم کر چکے ہیں بلکہ یہاں قائم دفاتر میں ملازمت کرکے اپنے گھر والوں کیلئے حلال رزق کا بندوبست بھی کر رہے ہیں۔

سانحہ بحریہ ٹاؤن اپنے پیچھے کئی سوالات کے جوابات ہنوز تشنہ چھوڑ گیا ہے۔مثال کے طور پر جب سندھ حکومت کو اس احتجاج کے بارے میں کئی روز سے علم تھا تو پھر کیوں مناسب حفاظتی انتظامات نہیں کئے گئے،کیا بحریہ ٹاؤن کے کاروباری حلقوں اور رہائشیوں کیلئے انصاف کے دروازے بند رہیں گے؟۔ کراچی کی عوام کیلئے بہترین کمیونٹی منصوبے بنانے والوں کو بلیک میلنگ،دھونس اور تشدد کا عذاب کب تک بھگتنا ہو گا،اور نہتا کراچی آخر کب تک یونہی تعصب زدہ فکر کے حامل مسلح شرپسند عناصر کا نشانہ بنتا رہے گا۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Tajawzat Ke Khilaf Operation Per Sindh Hakomat Ki Phurtiyaan is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 05 July 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.