ظالمانہ معاہدہ اوسلو کے 25برس

بد قسمتی ہے کہ آج رُبع صدی بعد بھی آزاد فلسطینی ریاست کا خواب شرمندئہ تعبیر نہیں ہو سکا ! اس معاہدے کے نتیجے میں مسئلہ فلسطین دریا بُرد ہو گیا

جمعرات اکتوبر

zalimana moahida oslo ke 25 baras
 محسن فارانی
آج سے 25برس پہلے 13ستمبر 1993ء کو اسرائیل کے سر پر ست مغربی سامرا جیوں نے تنظیم آزادی فلسطین (PLO)کے سر براہ یا سر عرفات مرحوم کو گھیر گھار کر ناروے کے دارا لحکومت اوسلو میں اہل فلسطین کے ازلی دشمن اسرائیلی وزیر اعظم اضحاق رابن کے ساتھ ”معاہدہ صلح “کرنے پر مجبور کر دیا تھا جس کے نتیجے میں مسئلہ فلسطین دریا بردہو گیا ۔

اس سے پہلے PLOکا مشن پورے فلسطین کو غاصب اسرائیلی ریاست کے پنجہ ستم سے چھڑانا تھا اور اسرائیل کے ناجائز وجود تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا لیکن یاسر عرفات 1990-91ء کی خلیجی جنگ سے قبل کو یت پر صدام حسین(صدر عراق )کے فوجی قبضے کی حمایت کرکے دیگر عرب ممالک کی ہمدردیوں اور خطیر مالی امداد سے محروم ہو گئے تو بے یار ومدد گار یا سر عرفات کو مغربی سامراجی شاطروں نے نام نہاد مملکت فلسطین کے مشروط قیام کا عکس دکھایا ور پھر سال خوردہ فلسطینی لیڈر نے ماہدہ او سلوپر دستخط کرکے اسرائیل کا ناجائز وجود تسلیم کر لیا۔

(جاری ہے)


اس کے عوض غزہ کی پٹی اور غربِ اردن(West Bank)پر مشتمل برائے نام فلسطینی ریاست کے ”رئیس “یاسر عرفات ٹھہرے اور اسرائیل نے فلسطینیوں کو اپنے زیر اقتدار غربِ اردن وغزہ میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات دان کر دیے لیکن آج ربع صدی بعد بھی آزاد فلسطینی ریاست کا خواب شرمندئہ تعبیر نہیں ہو سکا۔یاسر عرفات اور اضحاق رابن کو امن کا نوبل انعام دیا گیا ،وہ امن جو فلسطینیوں کو آج تک نصیب نہیں ہوا۔

فریب خوردہ یاسر عرفات چند سال بعد بیماررہ کر پیرس میں انتقال کرگئے اور محمود عباس ان کے جانشین بنے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ایرانی بہائی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ بہائی برصغیر کے قادیانیوں جیسا گمراہ فرقہ ہے ۔اس دوران میں اسرائیل نے غربِ اردن میں سینکڑوں یہودی بستیاں غاصبانہ طور پر بسالی ہیں اور آج محمود عباس اسرائیل سے ریاست فلسطین کے قیام کی بھیک مانگتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ”فلسطینی ریاست اپنی کوئی فوج نہیں رکھے گی”جبکہ اسرائیلی حکمران اپنے ولی نعمت امریکہ کے کھونٹے پرنا چتے ہوئے فلسطینیوں کو کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں ۔

غرب اردن میں ”امیچائی“نامی ناجائز یہودی بستی کا مکین45سالہ یہودی اویچائی بوران کہتا ہے :”اوسلومعاہدہ قبر کی گہرائی میں دفن ہو چکا ہے ۔
اور اسرائیلی اس کا تابوت مٹی میں دبا کر اس زمین (غربِ اردن )پر دند نارہے ہیں ۔“اوسلو معاہدہ کے بعد امریکی صدربل کلنٹن نے اضحاق رابن اور یاسر عرفات کو واشنگٹن آنے کی دعوت دی تھی اور ان دونوں لیڈروں نے وائٹ ہاؤس کے لان پر مصافحہ کرتے ہوئے معاہدہ اوسلو کی تو ثیق کی تھی جس سے اسرائیل اب حیلے بہا نے منحرف ہو چکا ہے ۔

اس وقت تک اسرائیلی سیٹلمنٹ واچ ڈاگ Peace Nowکے مطابق غربِ اردن میں 1,10,066یہودی آباد ہو چکے تھے جبکہ 6,234یہودی غزہ کی پٹی میں بستے تھے ۔غزہ کے یہودی آباد کاروں کو 2005ء میں وزیراعظم اپریل شیرون کی حکومت نے مصلحتاََ وہاں سے نکال لیا تھا مگر غربِ اردن میں آباد یہودیوں کی تعداد اب 6لاکھ ہو چکی ہے جبکہ غرب ِاردن اور مشرقی یروشلم (بیت المقدس)میں تقریباََ 30لاکھ فلسطینی ہیں جو اس سر زمین کے اصل باشندے ہیں ۔

علاوہ ازیں بڑی تعداد میں فلسطینی ہمسایہ ملکوں کے کیمپوں میں مقیم ہیں اور 18لاکھ غزوہ کی پٹی میں بستے ہیں ۔غربِ اردن میں یہودیوں کی آباد کاری اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور معاہدہ اوسلو کی صریحاََخلاف ورزی ہے ۔
 اسرائیل میں وزیراعظم بنجمن نیتن یا ہو اس وقت مخلوط حکومت کے سربراہ ہیں اور ان کی حکومت کے کلیدی ارکان فلسطینی ریاست کے قیام کے کھلے مخالف ہیں اور وہ معاہدہ اوسلو کے سخت نقاد ہیں ۔

اسرائیل بیت المقدس کو اپنے اندر باقاعدہ ضم کر چکا ہے اور گزشتہ مئی میں امریکہ نے اپنا سفار تخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرکے اسرائیلی اقدام پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے ،حالانکہ اسرائیل اقوام متحدہ کی قرار داد 242کی مطابق بیت المقدس سمیت غربِ اردن سے انخلا کا پابند ہے ۔
گزشتہ سال جو ن میں شمالی غربِ اردن میں امیچائی بستی کی تعمیر شروع ہوئی تھی جو 1991ء سے یہاں پہلی اسرائیلی منظور شدہ یہودی بستی ہے ،اگر چہ اس دوران میں یہاں کئی غیر منظور شدہ یہودی بستیاں بھی قائم ہو چکی ہیں ۔

امیچائی میں تقریباََ 40یہودی گھرانے آباد ہیں جو امونانامی غیر منظور شدہ بستی سے نکالے گئے تھے جسے فروری 2017ء میں اسرائیلی حکومت نے مسمار کر دیا ۔اویچائی بوران کا تعلق بھی اسی بستی سے تھا اور اس نے اس کی مسماری کوانے کی مہم میں سر گرم حصہ لیا تھا ۔گزشتہ مارچ میں اس کا خاندان امیچائی بستی کے گھر میں منتقل ہو گیا جہاں ڈش واشر اور اےئر کنڈ یشننگ جیسی تمام جدید سہو لتیں میسر ہیں ۔


بد بخت کٹر یہودی اویچائی کہتا ہے کہ ”معاہدہ اوسلو کے نتیجے میں اسرائیلی رائے عامہ فلسطینی ریاست کے خلاف شدید تر ہو گئی جبکہ کئی یہودی یہ سمجھتے ہیں کہ بائیل میں مذکور سر زمین پر ان کا پیدائشی حق ہے ،نیز معاہدہ اوسلو کا مقصد یہودی آباد کاروں کا (غرب ِاردن سے )مکمل انخلا تھا اور ارضِ اسرائیل کے قلب میں جو کہ یہودی ہوم لینڈ کا دل ہے ،ایک اضافی عرب ریاست قائم ہونی تھی لیکن ہم یہاں ایسا(فلسطینی)معاشرہ قبول کرنے کو تیار نہیں جو اپنے ہتھیار ہمارے خلاف اٹھائے گا اور اس کی قومی آرزوئیں بھی ہمارے خلاف ہوں گی۔

ہم سٹر یجک طور پر بھی ایک فلسطینی ریاست کے ویژن کو مسترد کرتے ہیں ۔“
یہ ہے وہ ابلیسی صہیونی سوچ جس نے فلسطین کے امن کو خاکستر کر رکھا ہے ۔فلسطینیوں کے ازلی دشمن یہودیوں کا نمایندہ بنجمن نیتن ہو یا جب 1996ء کے عام انتخابات میں جیت کر پہلی بار وزیر اعظم بنا تھا تو اسے یہ کامیابی زیادہ تر معاہدہ اوسلو کے مخالف یہودیوں کے ووٹ ملنے سے حاصل ہوئی تھی ۔


اضحاق رابن ایک سال قبل نومبر 1995ء میں اوسلو کے مخالف ایک انتہا پسند یہودی کے ہاتھوں قتل ہو گیا تھا ۔اس معاہدے میں اسرائیل کے ساتھ ایک پرامن آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کی گئی تھی مگر اسے دانستہ واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا تھا ۔یہی یہودونصاریٰ کی چالا کی تھی جسے یاسر عرفات سمجھ نہ سکے۔صہیونی یہودی قیام فلسطین کے معاملے کو معلق کرکے یہاں تک لے آئے ہیں کہ خود فلسطینی لیڈر محمود عباس کہہ رہا ہے کہ آزاد فلسطین کی کوئی فوج نہیں ہو گی۔

بھلا فوج کے بغیر کوئی ملک آزاد کہلا سکتا ہے ؟گویا فوج کے بغیر فلسطینی عوام آج ہی کی طرح خونخوار یہودیوں کے رحم وکرم پر رہیں گے۔
ترجی رود لارسن ایک نارویجین پروفیسر ہے جو 1992ء میں اوسلو کے ایک سوشل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا سر براہ تھا ۔اسی نے ایک خفیہ منصوبے کے تحت اسرائیلیوں اور فلسطین کے حکام کو اکٹھے بٹھانے کا کھٹرا گ رچا یا تھا جبکہ اس وقت تک PLOاسرائیل کے نزدیک ایک دہشت گر د تنظیم تھی ۔

رود لا سن نے یوسی بائلن سے بات کی تھی جو بعد میں اسرائیل کا نائب وزیر خارجہ بنا اور پھر اسی نے یاسر عرفات کے ساتھ بیک چینل گفت وشنید کا ڈول ڈالا تھا۔
لارسن جو اس وقت نیو یارک کے انٹر نیشل پیس انسٹی ٹیوٹ تھنک ٹینک کا سر براہ ہے ،اس نے فون پر اے ایف پی کے نمایندے کو بتا یا :”ہم نے فیصل حسینی سے گفتگو کا آغاز کیا جو یروشلم میں فلسطینی لیڈر تھا ۔

ان مذاکرات سے میں نے اندر لگایا کہ PLOاور عرفات کے بغیر کسی قسم کے سمجھو تے پر پہنچنا ناممکن ہے کیونکہ PLOاس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ۔“چنانچہ طے پایا کہ نارویجین ان خفیہ اجلا سوں میں بروکرز (وچولے)ہوں گے ۔یہ اجلاس زیادہ تر اوسلو میں ہوئے تھے۔
اگر چہ معاہدہ اوسلو انجام کار ٹھپ ہو گیا ،تا ہم عیار رود لارسن کہتا ہے کہ”یہ ناکام نہیں ہوا۔

آج بھی مسئلہ فلسطین کا دور یاستی حل ایک قابل عمل تصور ہے۔“اس کے بقول ”اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین برف پگھلے بغیر ارد ن 1994ء میں یہودی ریاست کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہیں کر سکتا تھا ۔“صہیونی یہودیوں کی یہی تو کامیابی ہے کہ انھوں نے ایک تیر سے دوشکار کر لیے۔ فلسطینی قیادت کو ایک سراب دکھا کر پھانس لیا اور اپنے مشرقی ہمسایے اردن کو بھی رام کر لیا جہا ں اس وقت موجودہ شاہ عبداللہ ثانی کے والد شاہ حسین حکمران تھے ۔


شاہ حسین اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرکے غربِ اردن اور بیت المقدس(مشرقی یروشلم)سے بھی دستبر دار ہو گئے جو 1948ء سے جون1967ء تک اردن کے کنٹرول میں تھے ۔دوسری طرف مصر کے صدر انور سادات 1978ء میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرکے اس کا ناجائز وجود تسلیم کر چکے تھے۔ان میں امن معاہدہ امریکی صد ر جمی کارٹر نے کرایا تھا ۔یاد رہے اسرائیل نے جون 1967ء کی چھ روزہ جنگ میں غربِ اردن وبیت المقدس کے ساتھ مصر سے غزہ کی پٹی بھی چھین لی تھی جو 1948ء میں قیام اسرائیل کے وقت سر مصر کا حصہ تھی۔


”اسرائیل ڈیمو کر یسی انسٹی ٹیوٹ “اور تل ابیب یونیورسٹی کی طرف سے گزشتہ اگست میں لیے گئے رائے عامہ کے جائزے کے مطابق 47فیصد اسرائیلی دور یاستی حل کے حق میں ہیں اور 46فیصد اس کے مخالف ہیں جبکہ86فیصد اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ اگلے بارہ ماہ میں امن انکا نات قریب قریب معدوم ہیں ۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام کس قدر موہوم ہے جبکہ امریکہ اور اس کی لونڈی اقوام متحدہ نے فلسطینیوں کو باندھ کر ایٹمی طاقت اسرائیل کے بھیڑیوں کے آگئے ڈا ل رکھا ہے جو آئے دن بے کس فلسطینی مردوزن اور بچوں کے جسم بھنبھوڑتے رہتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

zalimana moahida oslo ke 25 baras is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 04 October 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.