فاطمہ بھٹو کی وطن واپسی سے سیاست میں ہلچل

جمعرات نومبر

Mubashir Mir

مبشر میر

مولانا فضل الرحمن کی دھرنا اور مارچ سیاست اپنے ڈراپ سین پر پہنچ چکی ہے۔ کراچی اور سندھ سے زیادہ لوگ ہمراہ نہیں جاسکے، ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والے حضرات ہی شریکِ مارچ نظر آئے۔
میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کی ضمانت کے بعد مسلم لیگ ن کی دلچسپی دھرنے کے حوالے سے نظر نہیں آتی۔

اگر چہ مسلم لیگ ن سندھ کے کئی راہنما مولانا فضل الرحمن کے سہراب گوٹھ کے جلسے میں موجود تھے، لیکن کئی ایک سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے سے خود کو دور رکھنے میں کامیاب رہے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے کئی راہنماؤں نے سکھر میں ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں، دونوں بڑی پارٹیوں کے سندھ کے کارکن مولانا فضل الرحمن کے کراچی سے اسلام آباد تک ہم سفر نہ بن سکے۔

(جاری ہے)


سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو نے اچانک چھ سال بعد اپنی آمد سے سندھ کی سیاست میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش بھٹو خاندان کے آبائی قبرستان پہنچ گئیں، گذشتہ ایک برس سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ سندھ کی سیاست میں فاطمہ بھٹو ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوسکتی ہیں۔ ان کی طرف سے مسلسل انکار کی بھی خبریں زبان زد عام تھیں۔

ابھی انہوں نے سیاست کرنے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ، لیکن ان کی انٹری بہت اہم وقت پر ہوئی ہے ۔ تمام حلقوں میں ان کی آمد کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے، اس وقت برسراقتدار پیپلز پارٹی کمزور وکٹ پر کھڑی ہے۔
سابق صدرآصف علی زرداری اپنی بیماری اور دیگر وجوہات کی بناء پر غیر فعال دکھائی دیتے ہیں ، بلاول بھٹو زرداری کے لیے اب سندھ کا میدان خالی نہیں ہوگا۔

پیپلز پارٹی کے حلقوں نے اس پر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اشاروں کنایوں میں چہ مگوئیاں کرنی شروع کردی ہیں کہ خاص طور پر فاطمہ بھٹو ان کی ایماء پر لائی گئی ہیں۔ لیکن کسی کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ فاطمہ بھٹو کا سیاسی وراثت پر اتنا ہی حق ہے جتنا بلاول بھٹو زرداری کا ، بلکہ کچھ سیاسی پنڈت ان کا حق فائق سمجھتے ہیں۔
یہ بات بہت غور طلب ہے کہ فاطمہ بھٹو کو عالمی سطح پر ایک نڈر، بے باک اور بااعتماد رائٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

دنیا بھر کے علمی اور سماجی حلقوں میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ تحریری اور تقریری میدان میں وہ دیگر بھٹو بچوں سے بہت منفرد ہیں ۔ چونکہ فاطمہ بھٹو نے ابھی تک خود کو انتخابی سیاست کے لیے پیش نہیں کیا۔ اس لیے اس حوالے سے مقبولیت کا مکمل اندازہ لگانا مشکل ہے۔ لیکن ایک بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر فاطمہ بھٹو نے عملی سیاست میں قدم رکھا تو محترمہ بینظیر بھٹو کی طرح نئے ریکارڈ قائم ہوسکتے ہیں۔


پیپلز پارٹی کے حلقوں نے ابھی ان کی آمد پر خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ تمام راہنما اس بات سے آگاہ ہیں کہ ان کا سیاسی مستقبل ہوسکتا ہے، وہ اگر ارادہ کرلیں تو ان کے لیے جگر موجود ہے، ملک بھر میں ایک مقبول سیاسی راہنما کی حیثیت سے خود کو منواسکتی ہیں۔ اس لیے وہ دانستہ اس پر تبصرہ کرنے سے گریزاں ہیں۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل نے خود کو سیاسی اور سماجی طور پر متحرک رکھا ہوا ہے، آئندہ چند دنوں میں وزیراعظم عمران خان اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ کراچی متوقع ہے۔


ایف پی سی سی آئی کی جانب سے اہم سالانہ پروگرام ترتیب دیے جارہے ہیں جس میں ان کو مدعو کیاگیا ہے۔ لازم ہے کہ اسوقت حلیف سیاسی جماعتوں کے راہنما خاص طور پر مسلم لیگ (ف) اور ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرے گی۔
فیڈریشن کے پرگراموں میں ملکی معیشت زیربحث رہے گی۔ اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، وزیرتجارت اور مشیر معاشی امور کے علاوہ وزیرریونیو کی آمد بھی متوقع ہے۔


کاروباری برادری ابھی بھی بہت سے تحفظات کے ساتھ موجود ہے، اگرچہ حکومت نے کامیابی سے ہڑتال کے معاملات پر قابو پالیا تھا لیکن جب تک فکسڈ ٹیکس کا نظام لاگو نہیں ہوگا، درمیانے اور چھوٹے درجے کے تاجر آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔
وفاقی وزارتِ مالیات کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ وہ کاروباری طبقہ جو ٹیکس دینے پر آمادہ ہے، اس سے بہتر انداز سے ٹیکس کیسے وصول کیا جاسکتا ہے۔

خواہ مخواہ ہڑتال کی نوبت لا کر ان کی پھر وہی بات ماننے سے بہتر تھا کہ ان کو بھی ملکی معیشت میں اسٹیک ہولڈرز تسلیم کیا جائے اور ٹیکس وصولی کا آسان طریقہ اپنایا جائے۔
پاکستان میں ٹیکس وصولی میں کمی کی ایک بڑی وجہ ایف بی آر اور ان کا طریقہ کار ہے، جیسے جرائم کی ایک وجہ پولیس کا کردار ہے، اس طرح ایف بی آر اور کسٹم کے ادارے بھی پارٹ آف پرابلم ہیں، ان میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔


پاکستان کی سمندری حدود میں اٹھنے والے حالیہ طوفانوں سے ثابت ہورہا ہے کہ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے پاکستان پر براہ راست آثار ظاہر ہونا شروع ہوچکے ہیں، اس سے پہلے کراچی میں آنے والی ہیٹ ویوز (Heat waves)نے کئی افراد کی زندگی نگل لی تھی۔ وفاقی سطح پر Climate Changeکا محکمہ موجود ہے۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان کا درخت اگاؤ پروگرام کراچی اور سندھ میں بہت کمزور دکھائی دیتا ہے اور یہی صوبہ زیادہ متاثر ہورہا ہے۔

پانی کی کمی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ مسائل میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل کو وزیراعظم پاکستان کے اس پروگرام پر زیادہ توجہ دینا ہوگی، کراچی میں زندگی دن بدن مشکل تر ہوتی جارہی ہے، جنگی بنیادوں پر اس کے لیے کام کرنا ہوگا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Fatima Bhutto Ki Watan Wapsi Se Siasat Main Halchal Column By Mubashir Mir, the column was published on 07 November 2019. Mubashir Mir has written 94 columns on Urdu Point. Read all columns written by Mubashir Mir on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.