پائنا کے زیر اہتمام قومی سیمینار بعنوان ’’بروقت اور شفاف انتخابات کے بنیادی تقاضے‘‘ کا انعقاد

پارلیمنٹ نے شفاف انتخابات کیلئے مضبوط قانونی ڈھانچہ فراہم کیا الیکشن کمیشن کو انتظامی اور مالی اعتبار سے خودمختار بنا دیا ہے‘بیرسٹر ظفر اللہ خان

پیر اپریل 23:25

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل آف افیئرز (پائنا) کے تحت قومی سیمینار بعنوان ’’بروقت اور شفاف انتخابات کے بنیادی تقاضے‘‘ لاہور میں منعقد ہوا۔ پاکستان کے معروف قانون دان شاہد حامد نے صدارت کی۔ پائنا کے سیکرٹری جنرل الطاف حسن قریشی نے کہا کہ بروقت اور شفاف انتخابات قوم کی بقا اور استحکام کے لیے ازحد ضروری ہیں اور ظاہری حالات ایسے ہیں جو منصفانہ انتخابات کے لیے بڑے سازگار ہیں۔

تمام سیاسی جماعتیں انتخابات میں اترنے کی تیاریاں کر رہی ہیں اور عدلیہ اور فوج پورے تعاون کا یقین دلا رہے ہیں ، مگر بدقسمتی سے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن سے انتخابات کی شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اہلِ علم و دانش کو ان کی روک تھام کرنا ہو گی۔

(جاری ہے)

وزیراعظم کے خصوصی معاون بیرسٹر ظفر اللہ خان نے بتایا کہ پارلیمنٹ نے شفاف انتخابات کے لیے ایک مضبوط قانونی ڈھانچہ فراہم کر دیا ہے اور الیکشن کمیشن کو انتظامی اور مالی اعتبار سے خودمختار بنا دیا ہے۔

اسے لامحدود اختیارات دیے گئے ہیں۔ آئین نے اس پر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی ذمے داری عائد کی ہے، مگر اس کے بعض اقدامات سے پولیٹیکل انجینئرنگ کی بُو آتی ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے اعجاز چودھری نے کہا کہ اس ملک میں شفاف انتخابات کیونکر منعقد ہو سکتے ہیں جہاں تھانیدار کی تقرری کے لیے جاتی امرا میں انٹرویو لیے جاتے ہیں۔ اے این پی کے رہنما احسان وائیں نے کہا کہ ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز برملا کہہ رہی ہیں کہ ہماری عدلیہ اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کر رہی ہے اور اس کے فیصلے متنازع ہوتے جا رہے ہیں۔

سیاسی دانش ور مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ حالات نہایت پیچیدہ اور حوصلہ شکن ہیں ، تاہم سول سوسائٹی کو اپنا کردار اًدا کرنا ہوگا۔ معروف کالم نگاررؤف طاہر نے حالات کی سنگینی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کو ایک ایسا ماحول تیار کرنا چاہیے جس میں تمام جماعتیں آزادی سے انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر زکریا ذاکر جو عمرانی علوم کے ماہر ہیں، انہوںنے کہا کہ اداروں کی بہت زیادہ خود نمائی ان کے اعتماد پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

پنجاب ہائر ایجوکیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نظام الدین جو مردم شماری کے عمل میں شریک رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جو حلقہ بندیاں تجویز کی ہیں ان میں بعض سقم پائے جاتے ہیں، مگر قومی استحکام کا تقاضا یہ ہے کہ ہم انتخابات کے انعقاد کو ہر چیز پر ترجیح دیں۔جناب شاہد حامد نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ اداروں کے مابین شدید بے اعتمادی پائی جاتی ہے اور الیکشن کمیشن جس غیر ذمے داری کا مظاہرہ کر رہا ہے، اس کے پیش نظر مجھے یہ خوف محسوس ہوتا ہے کہ انتخابات کے نتائج کو بعض جماعتیں قبول نہیں کریں گی۔ اس لیے صورتِ حال کی بہتری کے لیے سول سوسائٹی ایک عزم کے ساتھ آگے آئے اور بروقت اور شفاف انتخابات کو یقینی بنائے۔