مولانا فضل الرحمان نے این اے 35 بنوں کی نشست سے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ

این اے 35 سے عمران خان نے سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی کو شکست دی تھی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر اگست 16:23

مولانا فضل الرحمان نے این اے 35 بنوں کی نشست سے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے ..
پشاور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 اگست۔2018ء) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کی چھوڑی گئی این اے 35 بنوں کی نشست سے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ایک بار پھر پارلیمانی سیاست میں لانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ وہ نامزد وزیراعظم عمران خان کی بنوں سے چھوڑی گئی قومی اسمبلی کی نشست این اے 35 سے ضمنی الیکشن لڑیں گے تاہم اس کا حتمی فیصلہ ایم ایم اے کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

این اے 35 سے عمران خان نے سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی کو شکست دی تھی، اس حوالے سے اکرم خان درانی نے اسمبلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان کا پارلیمانی سیاست میں اہم کردار رہا ہے اور ان کی اسمبلی میں موجودگی ضروری ہے اگر میں این اے کی سیٹ جیت بھی جاتا تو ان کے لیے سیٹ چھوڑ دیتا، اس لئے مولانا فضل الرحمان کو این اے 35 کی نشست لانے کا فیصلہ کیا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات لڑنے والے 3 ہزار 3 سو 55 میں سے 2 ہزار 8 سو 70 انتخابی امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کرلیں۔الیکشن ایکٹ کی رو سے قومی اسمبلی کی نشست پر لڑنے والے انتخابی امیدوار کے لیے انتخابات میں کم از کم 25 فیصد ووٹ لینا ضروری ہے۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ جن انتخابی امیدواروں کی ضمانت ضبط کی گئی ہیں ان میں تقریباً 10 سیاسی جماعتوں کے سربراہ اور متعدد نامور سیاستدان شامل ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیف شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری، متحدہ مجلس عمل کے چیف مولانا فضل الرحمان ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیف محمود خان اچکزئی، بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیف ڈاکٹر بلوچ، قومی وطن پارٹی کے صدر آفتاب احمد شیر پاﺅ، پاک سرزمین پارٹی کے صدر مصطفیٰ کمال، ترقی پسند پارٹی کے چیف قادر مگسی، پاکستان تحریک انصاف (گلالئی)، اور پاکستان عوامی راج (پی اے آر) کے صدر جمشید دستی اس فہرست میں شامل ہیں جن کی مختلف انتخابی حلقوں سے ضمانتیں ضبط ہوئیں۔

سب سے زیادہ انتخابی ضمانتیں فاٹا میں 95.48 فیصد، اسلام آباد میں 92.42 فیصد، بلوچستان میں 91.98 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 86.13 فیصد ضمانتیں ضبط ہوئیں جبکہ سندھ میں 84.46 فیصد اور پنجاب میں ضمانتیں ضبط ہونے کا تناسب 84.46 فیصد رہا۔فاٹا میں کل 266 انتخابی امیدواروں میں 254 کی انتخابی ضمانتیں ضبط ہوئیں، اسلام آباد کی 3 نشستوں کے لیے لڑنے والے کل 66 میں سے 61 امیدواروں کی انتخابی ضمانتیں ضبط ہوئیں۔

اسی طرح بلوچستان سے کل 287 میں سے 264 اور خیبرپختونخوا سے کل 411 میں سے 354 انتخابی امیدوار 25 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور انہیں اپنی ضمانتوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔دوسری جانب سندھ سے کل 824 میں سے 696 انتخابی امیدوار جبکہ پنجاب سے ایک ہزار 2 سو ایک میں سے ایک ہزار 2 سو 41 امیدوار اپنے انتخابی حلقوں میں 25 فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہیں کرسکے۔

شہبا شریف این اے 3 (سوات)، بلاول بھٹو زرداری این اے 23 (مالاکنڈ) اور این اے 246 (کراچی)، مولانا فضل الرحمان اور آفتاب احمد شیر پاﺅ اپنے آبائی شہر اے این 38 (ڈی آئی خان) اور این اے 23 (مالاکنڈ)، ایم کیو ایم کے راہنما ڈاکٹر فاروق ستار این اے 245 اور این اے 247 (کراچی)، پی ایس پی کے چیف این اے 253 (کراچی) کی نشستوں پر 25 فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہ کرنے پر اپنے ضمانتوں سے محروم ہوئے۔

ٹی پی پی کے چیف مگسی این اے 213 (نواب شاہ)، محمود خان اچکزئی این اے 265 (کوئٹہ)، بی این پی کے چیف این اے 259 (ڈیرہ بگٹی)، اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید این اے 250 (کراچی) اور جے یو پی کے نورانی صاحبزادہ عبدالخیر این اے 227 (حیدر آباد) میں عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے اور انتخابی ضمانت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔عائشہ گلالئی کو این اے 25 (نوشہرہ)، این اے 53 (اسلام آباد)، این اے 161 (لودھراں) اور این اے 231 (سجاول) میں بدترین شکست کا سامنا رہا جبکہ جمشید دستی این اے 182 (مظفرگڑھ)، این اے 185 (مظفرگڑھ) اور این اے 189 (ڈی جی خان) میں 25 فیصد ووٹ حاصل کرنے پر اپنی زرضمانت سے محروم ہو گئے۔