
ملک میں جاری بارشوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں سندھ حکومت مکمل طور پر متحرک ہے،شرجیل میمن
معصوم اور بے گناہ لوگوں کے قتل میں ملوث افراد کو سخت ترین سزائیں دی جانی چاہئیں، پیپلز پارٹی اس طرح کے واقعات کی شدید مذمت کرتی ہے،سینئروزیرسندھ اگر کسی سیاسی رہنما کو سزا دی جاتی ہے، تو ہم اس پر خوشی نہیں مناتے، لیکن اگر وہ ریاستی املاک پر حملے کریں، جلا ئوگھیرا ئوکریں، تو یہ کسی طور معافی کے قابل نہیں، پیپلز بس سروس، ایمبولینسز اور قائداعظم کے گھر کو آگ لگانا بدترین دہشتگردی کے مترادف ہے، پریس کانفرنس
بدھ 23 جولائی 2025 21:10
(جاری ہے)
انہوں نے بتایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر تمام پارٹی کارکنان اور قیادت عوام کے ساتھ موجود ہیں اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
گورنر پنجاب کے حالیہ دوروں کے تناظر میں بھی انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے مکمل ہم آہنگی اور اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔بلوچستان میں ہونے والے افسوسناک واقعے پر شرجیل انعام میمن نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم اور بے گناہ لوگوں کے قتل میں ملوث افراد کو سخت ترین سزائیں دی جانی چاہئیں، پاکستان پیپلز پارٹی اس طرح کے واقعات کی شدید مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر موجود ہے اور ہم وفاقی سطح پر بھی امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کاروباری طبقے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے سندھ حکومت نے ریڈ ٹیپ ازم کے خاتمے کے لیے آن لائن ون ونڈو آپریشن شروع کیا ہے، پاکستان میں اس وقت کاروبار کے لیے سنہری موقع موجود ہے، اور سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ صنعت کاروں اور تاجروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں حالیہ بلڈنگ گرنے کے واقعے پر سخت ایکشن لیا گیا ہے۔ 61 انتہائی خطرناک عمارتوں میں سے 59 انتہائی خطرناک عمارتوں کو خالی کروایا جا چکا ہے۔ جہاں غیر قانونی تعمیرات ہو رہی ہیں، وہاں فوری کارروائی کی جا رہی ہے اور متعدد عمارتیں مسمار کر دی گئی ہیں۔ کرایہ داروں کو چھ ماہ کا کرایہ سندھ حکومت کی جانب سے فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عوام سے اپیل ہے کہ جہاں بھی غیر قانونی تعمیرات نظر آئیں، فوری اطلاع دیں، کیونکہ ان سے قیمتی انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی میں میگا پروجیکٹس تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ جام صادق پل اگست تک مکمل ہو کر عوام کے لیے کھول دیا جائے گا جبکہ شاہراہ بھٹو پر بھی تعمیراتی کام جاری ہے۔ یلو لائن اور ریڈ لائن بی آر ٹی کے منصوبے جلد پایہ تکمیل تک پہنچنے والے ہیں۔ جہاں عوام کو تکلیف ہے، وہاں کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جا رہا ہے۔کے فور منصوبے پر بھی وزیراعلی سندھ مسلسل میٹنگز کر رہے ہیں، اور یہ منصوبہ جلد مکمل ہو جائے گا۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اگر کسی سیاسی رہنما کو سزا دی جاتی ہے، تو ہم اس پر خوشی نہیں مناتے، لیکن اگر وہ ریاستی املاک پر حملے کریں، جلا ئوگھیرا ئوکریں، تو یہ کسی طور معافی کے قابل نہیں۔ پیپلز بس سروس، ایمبولینسز اور قائداعظم کے گھر کو آگ لگانا بدترین دہشتگردی کے مترادف ہے۔ ایسے عناصر کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے جلائو گھیرائو کا ماسٹر مائنڈ اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہے، جس نے خود اپنے بچوں کو بیرون ملک رکھا لیکن عام گھروں کے بچوں کو سڑکوں پر نکال کر ریاست کے خلاف استعمال کیا۔ یہ سیاست نہیں بلکہ دہشتگردی ہے، جسے ہر صورت روکا جانا چاہیے۔شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ تاریخ میں پہلی بار غیر قانونی تعمیرات پر بڑے سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ بہت سی جگہوں پر بغیر نقشے کے تعمیرات کی گئی ہیں، جن کے خلاف سروے کے بعد کارروائیاں جاری ہیں۔ جو بلڈر قانون کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے ہیں، ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ کسی کو انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہ دی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک ایم کیو ایم کا تعلق ہے، ان کی عوامی پذیرائی سب کے سامنے ہے۔ اب وہ مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیںکبھی اجرک کے نام پر، کبھی لسانیت کے نام پر نفرت پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کسی سے جواب میں بھی نفرت آمیز بیان آئے اور انہیں سیاسی ہمدردی حاصل ہو۔"شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان کی وکٹ پر نہیں کھیلیں گے۔ ان کی اصلیت عوام جان چکی ہے۔ جب افاق احمد صاحب جیسی شخصیات جو کبھی کبھار جاگتی ہیں، بڑے جلسوں کا اعلان کرتی ہیں لیکن آخری رات کو واپس ہو جاتی ہیں، تو عوام کو خود سوچنا چاہیے کہ کون ان کا خیرخواہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کا اصل چہرہ 1940 سے 1980 کے درمیان کا تھا۔ 1986 کے بعد حالات بدلنا شروع ہوئے، ادارے کمزور کیے گئے اور شہر کو کنٹروورسی میں جھونک دیا گیا۔ آج کراچی کے مسائل کے پیچھے کئی دہائیوں کی سیاسی چالاکیاں اور ادارہ جاتی ناکامیاں ہیں۔ ہم ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن سے عوام کا روزمرہ متاثر ہوتا ہے۔مزید اہم خبریں
-
بھارت نے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑ دیا
-
موجودہ حکومت میں پانی کے ذخائرنہیں بلکہ پیسا بنانے والے لوگ ہیں
-
دریا کنارے طاقتور شخصیات کی اراضی بچانے کیلئے پوری پوری بستیاں اجاڑ دی گئیں
-
پانی جب بہاولپور سے ہوتا ہوا پنجند پر جائے گا تو خطرہ ٹلے گا‘ ڈی جی پی ڈی ایم اے
-
کاہنہ ،آسمانی بجلی گرنے سے 2 افراد جاں بحق
-
سیلاب کے متاثرہ علاقوں میں حکومت کی امدادی سرگرمیوں کا اثر کہیں بھی نظر نہیں آرہا
-
ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کا سیلاب متاثرین کیلئے 3ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان
-
پاکستان میں سیلاب بھارت کی آبی جارحیت ہے، عالمی عدالت سے رجوع کیا جائے
-
ملک میں ڈیمز کیوں نہیں بنتے؟ کیونکہ ہر ڈیم سیاست کی نذر ہوجاتا ہے
-
لاہور: راوی کنارے قائم شاہدرہ میں کئی نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں سیلاب سے بری طرح متاثر
-
حالیہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے اب تک 15 ارب ڈالرز سے زائد کے نقصان کا اندازہ ہے
-
"علیم خان نے راوی کی حدود میں 300 ایکڑ زمین لی جو غیر قانونی تھی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.