Live Updates

جماعت اسلامی کی طرف سی27مارچ کو تاریخی امن مارچ کا اعلان، پورا بنوں بند کیا جائے گا ‘پروفیسر ابراہیم

جمعرات 5 مارچ 2026 17:45

ر*بنوں(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 05 مارچ2026ء) بنوں امن جرگے کے رہنما اور امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخو ا جنوبی پروفیسر محمد ابر اہیم خان نے گرینڈ قومی جرگے میں اعلان کیا ہے کہ 27 مارچ کو تاریخی امن مارچ کیا جائے گا اور پورا بنوں بند کیا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے دفتر بیرون ہوید گیٹ بنوں میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا، سڑکوں کی بندش اور دیگر مسائل کے حوالے سے منعقدہ گرینڈ قومی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

قومی جرگے سے شوکت ایاز خان، ملک حکمت یار خان، ملک ادریس خان، مئیر بنوں عرفان خان درانی، ملک شہزاد خان، اقبال جدون، میاں محفوظ الرحمن سمیت دیگر عمائدین نے خطاب کیا اور تجاویزپیش کیں۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان نے مطالبہ کیا کہ بنوں میں بند تمام بڑی اور چھوٹی سڑکیں فوری طور پر کھولی جائیں۔

(جاری ہے)

بنوں کی میران شاہ روڈ، کوٹ عادل، کوٹ براڑہ روڈ، آمندی حنیف روڈ، جمعہ خان روڈسمیت دیگر تمام راستے عوام کے لیے کھولے جائیں۔

کوٹ براڑہ کے متاثرین کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اعلانات پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوا جو قابلِ افسوس ہے۔پروفیسر محمد ابراہیم خان نے مطالبہ کیا کہ صمد خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے کیونکہ ان پر سندھ اور چترال میں جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا کام لوگوں پر بے بنیاد مقدمات قائم کرنا نہیں بلکہ انصاف فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اس بات پر متحد ہوں کہ فوج کو اپنے آئینی کردار تک محدود ہونا چاہیے، بصورتِ دیگر قوم کا ہاتھ اس کے گریبان تک پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ہم فوج کے لیے طالبان سے اور طالبان کے لیے فوج سے نہیں لڑ سکتے۔ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ شریعت بندوق کے زور پر نافذ نہیں ہو سکتی بلکہ علما کی قیادت میں پرامن جدوجہد کے ذریعے ہی اس کا نفاذ ممکن ہے۔

انہوں نے فوج کو بھی اپنے طرزِ عمل پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملہ کھلی دہشت گردی ہے۔ انہوں نے ایرانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی نااتفاقی کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ کا ایجنڈا آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے ابو ظہبی میں بنوں سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالی مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق نصیب فرمائے اور امت کو امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی شکل میں بننے والی تثلیثِ خبیثہ سے محفوظ رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک ناسور اور امتِ مسلمہ کی پیٹھ میں گھونپا گیا خنجر ہے جسے اتحاد و اتفاق کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔

پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ باگرام ائیربیس کی تباہی سے امریکہ کو کوئی بڑا نقصان نہیں ہوگا، اس لیے کابل اور اسلام آباد کو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہییں۔انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر فوج کو آئین کے دائرے میں لائیں کیونکہ آئین سے ماورا فوج کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے اور فوج کو سیاست سے الگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اے این پی کے رہنما سینیٹر باز محمد خان اور سابق وزیر علی اکرم خان درانی کی صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔۔۔۔۔ اعجاز خان
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات