مسلم لیگ (ن)2024 میں خیراتی مینڈیٹ اور دھاندلی کے ذریعے پنجاب میں حکومت میں آئی،وزیر اطلاعات سندھ

پیپلز پارٹی پہلے دن سے یہ مؤقف رکھتی ہے کہ مسلم لیگ (ن)کے پاس عوامی مینڈیٹ موجود نہیں ہے،پریس کانفرنس سے خطاب جن حلقوں میں دھاندلی کی نشاندہی کی گئی ہے، وہاں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں، بالخصوص چودھری یاسین کے حلقے میں دوبارہ انتخاب ہونا چاہیے

بدھ 29 جولائی 2026 22:35

�راچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 جولائی2026ء) سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن)2024 میں خیراتی مینڈیٹ اور دھاندلی کے ذریعے پنجاب میں حکومت میں آئی، پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے اور جمہوری نظام کے تسلسل کے لیے کھڑی رہی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی پہلے دن سے یہ مؤقف رکھتی ہے کہ مسلم لیگ (ن)کے پاس عوامی مینڈیٹ موجود نہیں ہے، پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ مسلم لیگ (ن)جعلی طریقے سے حکومت میں آئی اور اب اسی طرح کشمیر میں بھی حکومت بنانا چاہتی ہے۔

پیپلز سیکریٹریٹ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی بھی صورت میں زیادتی برداشت نہیں کرے گی اور عوام کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن حلقوں میں دھاندلی کی نشاندہی کی گئی ہے، وہاں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں، بالخصوص چودھری یاسین کے حلقے میں دوبارہ انتخاب ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دیا جائے گا اور پیپلز پارٹی اپنے مینڈیٹ کو چوری ہونے نہیں دے گی بلکہ اس کے لیے ہر قانونی راستہ اختیار کرے گی۔انہوں نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق نے شہدا کے خلاف بات کی جبکہ خواجہ آصف نے کشمیریوں کی توہین اور تذلیل کی۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف خود کہا کرتے تھے کہ "کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہی"، لیکن آج ان کی اپنی جماعت کے اقدامات عوام کے سامنے ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) دھاندلی کے ذریعے پنجاب میں حکومت کر رہی ہے، جعلی مینڈیٹ کے ذریعے مریم نواز وزیراعلی بنیں، جبکہ مینڈیٹ کسی اور کا تھا اور یہ پورے پاکستان نے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف بھی چور دروازے سے اقتدار میں آئے تھے اور مریم نواز بھی چور دروازے سے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ رینٹل ایگریمنٹ پر اقتدار میں بیٹھے ہیں، عوامی مینڈیٹ پر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کا موازنہ کیا جاتا ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ سندھ بھی ہمارا ہے اور پنجاب بھی ہمارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سے پنجابی، اردو، بلوچی اور پشتو بولنے والے بھی منتخب ہوکر اسمبلیوں میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں صحت کے شعبے میں جو کام ہوا ہے، ایسا پورے پاکستان میں نہیں ہوا۔ ہم شناختی کارڈ اور ڈومیسائل نہیں دیکھتے، اگر سندھ میں کام نہیں ہوا تو پھر پورے پاکستان سے لوگ روزگار اور علاج کے لیے کراچی کیوں آتے ہیں انہوں نے کہا کہ آپ خیراتی مینڈیٹ کے ساتھ پنجاب میں بیٹھے ہیں جبکہ سندھ سے آپ کو ایک بھی نشست نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ ایک صحافی خرم اقبال نے مریم نواز کی سلپ آف ٹنگ سے متعلق ٹویٹ کیا تو اسے غائب کرا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ آمرانہ سوچ ہے، ایک صحافی کو صرف ٹویٹ کرنے پر اٹھا لیا گیا، جبکہ عوامی ووٹ سے آنے والے حکمران ایسا طرز عمل اختیار نہیں کرتے۔ برسات کی تباہی پر ایک ٹکر بھی چلانے نہیں دیا جاتا اور اشتہارات بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو جب بھی حکومت ملی، دھاندلی سے ملی اور یہ جماعت کبھی عوامی مینڈیٹ کے تحت اقتدار میں نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے بیگ بھر کر جانے والوں کو لوگ ووٹ نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کردار کے اعتبار سے پیپلز پارٹی سے بڑی کسی جماعت کی تاریخ نہیں، ملک کو آئین پیپلز پارٹی نے دیا، پاکستان کو ایٹمی طاقت بھی پیپلز پارٹی نے بنایا، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ملک کو میزائل ٹیکنالوجی دی اور ہماری قیادت نے ملک کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، جبکہ یہ لوگ مشکل وقت میں ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہاٍ کہ سندھ میں کتنا کام ہوا، اس کا فیصلہ سندھ کے عوام کریں گے۔ ہر الیکشن میں پیپلز پارٹی کو پہلے سے زیادہ نشستیں ملیں اور یہ مینڈیٹ عوام کی خدمت کی وجہ سے ملا۔ انہوں نے کہا کہ تھر سے پیدا ہونے والی بجلی پورے پاکستان میں جائے گی، الیکٹرک گاڑیاں سب سے پہلے سندھ حکومت لے کر آئی، آپ بعد میں لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ صوبوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور چند نشستوں کے لیے لسانیت کی سیاست کرتے ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گلگت میں بھی ہمیں جیتی ہوئی نشستوں سے کم نشستیں ملیں، جبکہ کشمیر میں بھی دھاندلی کی گئی ہے اور اس کے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود پیپلز پارٹی کشمیر انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی، میدان نہیں چھوڑے گی اور اپنے حق کے لیے ہر قانونی راستہ اختیار کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر ووٹروں اور معصوم لوگوں کو مار دیا جائے تو کیا ہم روئیں بھی نہیں یہ ایسا مائنڈ سیٹ ہے کہ جو روتا ہے اسے کمزور سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی روایت رہی ہے کہ جب مشکل میں ہوتے ہیں تو پیر پکڑتے ہیں اور جب مشکل میں نہیں ہوتے تو گلے پھاڑتے ہیں۔ خیراتی مینڈیٹ والوں کے گلو بٹوں نے دھاندلی کی، یہ اقتدار کے لیے سب کچھ کر سکتے ہیں، حتی کہ لوگوں کو مار بھی سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں ایک ہی سمجھدار شخص وزیراعظم شہباز شریف ہیں، جبکہ پنجاب میں حکمرانی کرنے والے خود وزیراعظم کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔

ہم سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے، تاہم پنجاب حکومت سمجھ لے کہ وہ ڈمی حکومت ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے ذریعے ماورائے عدالت قتل کی مثالیں قائم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیصلے پولیس نے ہی کرنے ہیں تو پھر عدالتیں بند کر دینی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ووٹ نہیں دے گا تو کیا اسے مروا دیا جائے گا کیا کشمیر کے لوگ ایسے لوگوں کو ووٹ دیں جو ملک سے بھاگ جائیں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہر صورت اپنے ووٹ، اپنے مینڈیٹ اور عوام کے حق کے تحفظ کے لیے قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔