Live Updates

کراچی قومی معیشت کا انجن ،ساڑھے تین کروڑ آبادی ، لیکن شہر ی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ، منعم ظفر خان

پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اختیارات و وسائل نچلی سطح پر منتقل کرنے پر تیار نہیں ،گورنر ہائوس پر دھرنا گاہ میں بلدیاتی کنونشن سے خطاب جماعت اسلامی اپنے ٹائونز میں تعمیر و ترقی کے کام کے ساتھ عوام کے حق کے لیے مزاحمت و جدو جہد بھی کر رہی ہے ،امیر جماعت اسلامی کراچی

اتوار 23 اگست 2026 21:35

چی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اگست2026ء) پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی اور آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف گورنر ہائوس سندھ پر جماعت اسلامی کا احتجاجی دھرنا اتوار کو آٹھویں روز بھی جاری رہا ، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے دھرنا گاہ میں بلدیاتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کا انجن ، پورٹ سٹی اور ساڑھے تین کروڑ آبادی والا شہر ہے لیکن شہری بنیادی ضروریات اور سہولیات سے محروم ہیں ، نصف شہر کو پانی میسر نہیں ، خواتین اور بزرگ شہر ی چنگ چی رکشوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں ، سڑکیں ٹوٹی اور انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے ، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اختیارات و وسائل نچلی سطح پر منتقل کرنے پر تیار نہیں ہے اور حکومت کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا جا رہا ،بی آرٹی کے نام پر کراچی کے عوام کو دھوکا دیا گیا اور مستقل اذیت کا شکار کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

شہر میں 14 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، اسٹریٹ کرائمز بڑھ رہے ہیں امن و امان میسر نہیں ہے۔ جماعت اسلامی ایک جانب سندھ حکومت کی طرف سے اختیارات و وسائل نہ دینے کے باوجود اپنے ٹائونز میں تعمیر و ترقی کے کام اور دوسری جانب عوام کے حق کے لیے مزاحمت و جدو جہد بھی کر رہی ہے ۔جماعت اسلامی پورے عزم و حوصلے کے ساتھ عوام کے حق کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور پورے پاکستان کے صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنے جاری ہیں ۔

خواتین اور بزرگ بھی بڑی تعداد میں شریک ہو رہے ہیں ۔ جدوجہد دن بدن تیز ہورہی ہے اور لوگ انفاق کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں ، ان ظالموں کو 25 کروڑ عوام کا حق دینا پڑے گا۔جماعت اسلامی نے حکومت میں نہ ہونے کے باوجود شہریوں کے مسائل حل کروائے۔ مسئلہ کے الیکٹرک کا ظلم و لوٹ مار ہو یا بحریہ ٹاون،نادرا کے مسائل ہوں جماعت اسلامی نے عوام کو ریلیف دلوایا ، شہر میں قبضہ مافیا کے خلاف جماعت اسلامی نے احتجاج کیااور قبضہ مافیا کو بھاگنے پر مجبور کیا۔

بلدیاتی کنونشن سے جماعت اسلامی سندھ کے سکریٹری و ٹاون چیئرمین نیو کراچی محمدیوسف، نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ ، کراچی کے سکریٹری و یوسی چیئر مین توفیق الدین صدیقی،امیر ضلع وسطی و یوسی چیئر مین ناظم آباد سید وجیہ حسن، جماعت اسلامی حلقہ خواتین صوبہ سندھ کی ناظمہ و ممبر سٹی کونسل رخشندہ منیب، خواتین کراچی کی ناظمہ و ممبر سٹی کونسل جاوداں فہیم،جماعت اسلامی منارٹی ونگ کراچی کے صدر یونس سوہن ایڈوکیٹ،پاکستان اسلاملک میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی کی صدر ڈاکٹر ذکیہ اورنگزیب و دیگر نے بھی خطاب کیا ، جبکہ امیر ضلع کیماڑی و ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سٹی کونسل مولانا فضل احد نے نظامت کے فرائض انجام دیے ، جماعت اسلامی کے مختلف ٹائون اور یوسیز کے چیئر مینوں ، سٹی کونسل اور ٹائون و یوسیز کی سطح کے کونسلرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی جن میں خواتین بلدیاتی نمائندگان بھی شامل تھیں ،کنونشن میں یوسی چیئرمین صفورہ و رکن سٹی کونسل نعمان الیاس نے ایک قرارداد پیش کی جس میں قابض میئر اور سندھ حکومت کی نا اہلی و ناقص کارکردگی اور کرپشن کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات، سرکاری اراضی، کھیلوں کے میدانوں، رفاہی پلاٹوں پر حکومتی سرپرستی میں قبضے کیے جارہے ہیں ، شہر کا بنیادی انفراسٹرکچر، نالوں پر تجاوزات اور کچرے کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں ، ایس بی سی سے اور متعلقہ انتظامی ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سٹی کونسل و یوتھ کونسلر تیمور احمد نے کے ایم سی کے تحت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نام پر سرکاری اراضی اور پارکوں کو من پسند افراد کے حوالے کرنے اور تجارتی استعمال کے خلاف قرار دادجبکہ کاشف شمسی نے بھی ایک قرار داد پیش کی جس میں سندھ حکومت سے اختیارات و وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی کا مطالبہ کیا گیا ،چیئرمین یوسی کورنگی قاری منصور نے گزشتہ10 ماہ کا اعزازیہ چیک منعم ظفر خان کودھرنا فنڈ میں جمع کروادیا، انجینئر صابر احمد نے جماعت اسلامی کے 9 ٹاونز کے 3 سالہ ترقیاتوں کاموں پر مشتمل ڈاکومینٹری پیش کی۔

محمد یوسف نے کہا کہ بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ ہم نے سندھ میں بلدیاتی نظام دیا ہوا ہے لیکن حقیقت یہ ہے سندھ میں جو بلدیاتی نظام ملا ہے وہ لنگڑا لولا اور اندھا ہے۔شہر میں ایسا بلدیاتی نظام ہے کہ جس میں کچرا اٹھانے کا کام بھی ٹائون و یوسی سے چھین لیا گیا ہے۔ قابض میئر صبح و شام جماعت اسلامی کے ٹائون کے خلاف بات کرتے رہتے ہیں۔ ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اپنے 14 ٹائونز میں سے کوئی ایک ٹائون لے آئے جو جماعت اسلامی کے ٹائون کے ساتھ مقابلہ کرسکے ۔

جب بھی جماعت اسلامی کے ٹائون میں گلیوں کی تعمیر، سڑکوں کی تعمیر اور پارک بحال ہوتے ہیں تو تکلیف قابض میئر کو ہوتی ہے، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کو جھوٹ بولنے پر بین الاقوامی ایوارڈ دینا چاہیئے ، اس کی جانب سے ٹائون اور یوسی کو جو رقم دی جاتی ہے وہ تو صرف تنخواہوں میں پوری ہوجاتی ہے۔ پیپلز پارٹی ترقیاتی فنڈ کی رقم ٹائون کو منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

پیپلزپارٹی کے ٹائون نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں ایک روپیہ اضافہ نہیں کیا جبکہ جماعت اسلامی نے اپنے ٹائونز میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ نیو کراچی ٹاون نے 32 کمروں پر مشتمل نئی عمارت تعمیر کی ہے،پیپلزپارٹی بتائے کہ اس نے سرکاری اسکولوں کے لیے کیا کیا نیو کراچی ٹاون نے 25 ہزار گھرانوں کو لائن کے ذریعے پانی پہنچایا ہے۔

سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہمیں مکمل اعتماد ہے کہ ہماری جدوجہد ضرور رنگ لائے گی۔ کراچی میں جماعت اسلامی کی واحد جماعت ہے جو اہل کراچی کے حق اور مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کر رہی ہے ، ہم سٹی کونسل میں بھی موجود ہیں ، ٹائون اور یوسی کی سطح پر بھی ہمارے نمائندے عوامی خدمت میں مصروف ہیں ، ہم ماضی کی طرح عوام کے بھروسے اور اعتماد پر پورا اتریںگے ،توفیق الدین صدیقی نے کا کہا کہ کراچی میں بااختیار شہری حکومت ہی مسائل کا حل ہے۔

کراچی وفاق کو 63 اور صوبہ کو 96 فیصد ریونیو جرنیٹ کر کے دیتا ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ کراچی کی سڑکیں ٹوٹی اور انفرااسٹرکچر تباہ حال ہے۔بلدیاتی انتخابات میں عوام نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیے لیکن عوامی مینڈیٹ اور کراچی کی مئیر شپ پر ڈاکا ڈالا گیا اور پیپلز پارٹی کا مئیر لاکر بٹھادیا گیا۔آئین کے آرٹیکل 140 اے کے مطابق اگر اختیارات نچلی سطح کے منتقل کیے جائیں تو مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے کراچی کے اداروں پر قبضہ کرکے کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کا دھندا شروع کیا ہوا ہے۔ سید وجیہ حسن نے کہا کہ سٹی کونسل کے تمام ممبران مبارکباد کے مستحق ہیں جو محدود وسائل کے باوجود دن رات محنت کررہے ہیں۔ سینکڑوں ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ رکھنے والی پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت ٹاؤن چیئرمین کو ترقیاتی فنڈ دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔

کراچی سے جو ٹیکس وصول کیا جاتاہے اس کا عشر عشیر بھی کراچی کو نہیں دیا جاتا۔ رخشندہ منیب نے کہا کہ سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے دور میں مخصوص نشستوں والی خواتین اور اقلیتوں نمائندوں کو بھی برابر فنڈز دیے گئے تھے۔ہم نے خواتین کے لیے لائبریری بنوائی تھیں اور ناظم آباد کی سڑکیں بھی ہمارے ہی دئے گئے فنڈز سے بنائی گئی۔ موجودہ بلدیاتی نظام میں تو ٹاؤن و یوسی چیئرمین تک کو فنڈز نہیں دیے جاتے۔

سٹی کونسل میں خواتین کو بات نہیں کرنے دی جاتی،مائیک بند کردیا جاتاہے ۔ پیپلز پارٹی نے کراچی کوسندھ سے زیادہ تباہ و برباد کردیا ہے۔ جاوداں فہیم نے کہا کہ گورنر ہاؤس پر جاری دھرنا تاریخ رقم کررہا ہے۔ کراچی کے حقوق کے لیے ماضی میں بھی طویل دھرنا دیا گیا ۔ سٹی کونسل میں قبضہ مئیر کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔ کونسل میں قرارداد ارکان کی منظوری کے بغیر تسلیم کرلی جاتی ہے۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس ختم ، آئی پی پیز سے عوام دشمن معاہدے منسوخ کیے جائیں، یونس سوہن ایڈوکیٹ نے کہا کہ حکمران روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم لیوی کے نام پر ڈاکا ڈال رہے ہیں۔ جب تک مہنگائی و بے روزگاری رہے گی دھرنا بھی جاری رہے گا۔ مسیحی ،سکھ ، ہندو برادری جماعت اسلامی کے شانہ بشانہ ہے ،اپوزیشن لیڈر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ وہ سٹی کونسل میں اقلیتوں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔

گورنر ہائوس پر اتوار کو سارا دن زبردست گہما گہمی رہی ، شہر بھر سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا اور شرکاء میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا، علاوہ ازیں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شپ دھرنا گاہ میں نشید نائٹ کا انعقاد کیا گیا جس میں حمدیہ و نعتیہ کلام اور نظمیں بھی پیش کی گئیں ، شرکاء نے بھر پور دلچسپی کا اظہار کیا ، رات گئے تک گورنر ہائوس کے سامنے سما بندھا رہا ، اس موقع پر نوجوانوں نے حلیم بھی پکایا جس سے شرکاء کی تواضع کی گئی ۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات