Live Updates

خیبرپختونخوا پولیس گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے، فیصل کریم کنڈی

پیر 24 اگست 2026 20:51

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 اگست2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پولیس، سابقہ لیویز اور خاصہ دار فورس نے امن کے قیام کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہیں اور مراعات باقی صوبوں کے مقابلے میں کم ہیں حالانکہ خیبرپختونخوا پولیس گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس پشاور میں قبائلی اضلاع کی تاجر برادری اور سابقہ لیویز و خاصہ دار فورس کے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جرگہ میں پاکستان بارڈرز ٹریڈ کونسل کے چیئرمین سید جواد حسین کاظمی، آل فاٹا لیویز خاصہ دار فورس ایکشن کمیٹی کے چیئرمین سید جلال وزیر، معروف صنعتکار سابق ایم این اے حاجی باز گل آفریدی، آل فاٹا لیویز خاصہ دار فورس ایکشن کمیٹی کے نائب چیئرمین حبیب اللہ، سید طاہر عباس، حاجی قدیر اللہ وزیر صدر نارتھ وزیرستان چیمبر ، حاجی امیر خان صدر مہمند چیمبر ، صاحبزادہ فخر عالم صدر نوشہرہ چیمبر ، حاجی سبحان اللہ سابقہ صدر کرم چیمبر، خواجہ عبدالقدوس، منیب احمد اوردیگر نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اراکین جرگہ نے گورنر کو تاجر برادری اور سابقہ لیویز و خاصہ دار فورس کو درپیش مسائل اور تحفظات سے آگاہ کیا۔ گورنر نے کہا کہ امن کے لیے قربانیاں دینے والے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے والے آج ایک چھت تلے موجود ہیں، مگر افسوس ہے کہ امن اور معیشت کے لیے کردار ادا کرنے والوں کے مسائل پر مناسب توجہ نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے خیبرپختونخوا میں انضمام کو نو سال مکمل ہو چکے ہیں تاہم انضمام کے وقت کیے گئے وعدے تاحال مکمل طور پر پورے نہیں کیے گئے۔

قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے ملنے والے وسائل بھی مؤثر انداز میں استعمال نہیں ہو رہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشتگرد جدید اسلحے، تھرمل اور نائٹ وژن ٹیکنالوجی سے لیس ہیں جبکہ پولیس کے پاس آج بھی جدید وسائل کی کمی ہے۔ دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس کو جدید اسلحہ، ٹیکنالوجی اور دیگر ضروری وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔ گورنر نے کہا کہ جرگہ کے مطالبات کے حل کے لیے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے بات کریں گے جبکہ مطالبات پر باقاعدہ ڈرافٹ تیار کرکے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو بھجوایا جائے گا۔

گورنر نے کہا کہ پاکستان نے افغان عوام کی چالیس سال سے زائد عرصے تک میزبانی اور خدمت کی اور افغان مہاجرین کے ساتھ اپنا کھانا پینا اور دکھ سکھ بانٹا تاہم خیبرپختونخوا میں امن و امان کے مسائل میں کہیں نہ کہیں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے پاکستان میں مداخلت روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گزشتہ سال مئی میں بھارتی حملے کا پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا۔ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ثالثی کردار ادا کرنے پر دنیا نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو سراہا۔ جنگ خواہ کتنی ہی طویل ہو، اس کا خاتمہ بالآخر مذاکرات کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی و عسکری قیادت نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

صدر مملکت ، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے دنیا کو پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے تمام بنیادی وسائل موجود ہیں، معدنیات، سستی بجلی، گیس اور سیاحت سمیت کاروبار کے لیے ہر ضروری وسیلہ صوبے میں دستیاب ہے تاہم امن کے بغیر یہاں کاروبار اور سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے اب تک کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا اور صوبائی حکومت امن و امان کے معاملے سے لاتعلق نظر آ رہی ہے۔ خیبرپختونخوا کے امن اور ترقی کے لیے ہم ہر فریق کے ساتھ بیٹھنے اور بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، شہید بے نظیر بھٹو نے پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی دی جبکہ صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کو جے ایف 17 تھنڈر کا تحفہ دیا۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پاکستان کو آج دنیا امن کے داعی ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ملک کے اندرونی مسائل بھی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں گی ، خیبرپختونخوا کے امن، ترقی اور عوام کے حقوق کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات