ابوظہبی میں آج پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین پہلا ون ڈے معرکہ

Abu Dhabi Series Starts Today

پاکستانی ٹیم عمرگل اور مصباح الحق پر انحصار کریگی،کرس گیل اور چندرپال کیربیئن امیدوں کے محور اب تک دونوں 110میچز میں ویسٹ انڈیز64اورپاکستان نے 44میں فتح حاصل کی

بدھ 12 نومبر 2008

اعجازو سیم باکھری : پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین آج ابوظہبی میں تین میچزپر مشتمل ون ڈے سیریز کا آغاز ہورہا ہے۔ابوظہبی کے شیخ زید کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جانیوالی اس سیریز کا افتتاحی میچ آج کھیلا جائیگا جس کیلئے دونوں ٹیموں نے بھر پورتیارکررکھی ہے۔پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں ورلڈکپ 2007ء کے افتتاحی معرکے کے بعد پہلی بارآج آمنے سامنے آرہی ہیں۔

دونوں ٹیمیں میگاایونٹ میں خاطر خواہ کھیل پیش کرنے میں ناکام رہیں البتہ برائن لارا کی قیادت میں کیربیئن سائیڈ نے عالمی کپ کے دوسرے راؤنڈ تک رسائی حاصل کرنے کا اعزاز کیا تھا جبکہ پاکستانی ٹیم ائرلینڈ جیسی کمزور ٹیم کے خلاف شکست کھا کر میگاایونٹ کے پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہوگئی تھی۔ابوظہبی میں ہونیوالی تین میچز کی سیریز کیلئے دونوں ٹیموں نے فتح کادعوی کیا ہے جبکہ سیریز کیلئے قومی کرکٹرز نے اپنے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ پینٹگولر کپ میں خوب پریکٹس کی جبکہ ویسٹ انڈین سٹارز نے 20ملین ڈالر ز کی انعامی رقم پر مشتمل سٹینفورڈ سیریز میں عمدہ کھیل پیش کرکے اپنی فارم ثابت کرچکے ہیں۔

(جاری ہے)

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلی بار1980میں ون ڈے سیریز کھیلی گی ۔پاک سرزمین پر کھیلی گئی اس سیریز میں کالی آندھی نے پاکستان کو تینوں میچوں میں شکست سے دوچار کرکے پاک ویسٹ انڈیز اولین ایک روزہ سیریز میں وائٹ واش کیا۔تاہم اب بہت کچھ بدل چکا ہے کیونکہ اُس وقت کیرئیبن ٹیم میں ویون رچرڈز ،ڈیسمینڈ ہینر اور گورڈن گرینج جیسے سفاک بلے باز جبکہ مارشل ،گارنر،اور اینڈی ربراٹس جیسے دہشت کی علامت سمجھے جانیوالے فاسٹ بالرز موجود تھے جنہوں نے دنیا بھر میں اپنی لازوال پرفارمنس کی بدولت ویسٹ انڈیز کو ”کالی آندھی “کاخطاب دلوایا۔

اگر پاکستانی ٹیم کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو اُس وقت پاکستان کے پاس بھی عمران خان جیسا عظیم کپتان اور بیٹنگ میں جاوید میانداد ،ظہیر عباس اور مدثر نذر جیسے بلے باز تھے جو پاکستانی ٹیم کی فتح کی ضمانت سمجھے جاتے تھے اور بولنگ میں خود عمران خان ،سرفراز نواز اور بعدمیں وسیم اکرم اور وقار یونس پاکستانی ٹیم کی فتوحات میں کلیدی کردار ادا کیا۔

مگر آج پاکستان کے پاس وسیم اکرم اور وقاریونس اور بیٹنگ میں جاوید میانداد اورا نضمام الحق جیسا بلے باز نہیں ہے لیکن اس کے باوجود پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے مقابلے میں انتہائی مضبوط سائیڈ تصور کی جاتی ہے۔ماضی کے برعکس ویسٹ انڈیز کی ٹیم آج کل اپنے بیٹسمینوں پر انحصار کرتی ہے کیونکہ موجودہ ٹیم میں کوئی ایسا گیندباز نہیں جوجوئیل گارنر ،اینڈی ربراٹس ،میلکم مارشل،مائیکل ہولڈنگ،کورٹنی والش،یاکرٹلی ایمبر وز کا ہم پلہ ہو۔

یہی وجہ ہے کہ ویسٹ انڈیز اپنے بیٹسمینوں کے سرپر چل رہی ہے ۔گوکہ سابق کپتان و عظیم بیٹسمین برائن لاراکی ریٹائرمنٹ کے بعد ویسٹ انڈیز کمزور سائیڈ قرار دی جارہی ہے لیکن موجودہ ٹیم میں کپتان کرس گیل ،چندرپال ،ساروان،براوواور ڈیوین سمتھ جیسے بیٹسمین دنیا کی تمام بڑی بولنگ لائن اپ کو ادھیڑ کر رکھ دینے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے ان کھلاڑیوں نے اپنی بیٹنگ کارکردگی کی بدولت ویسٹ انڈیز کے وقار بحال رکھا ہوا ہے۔

کرس گیل دور حاضر کا ایک ایسا اوپنربلے باز ہے جس کی سفاک بیٹنگ کا شاید ہی کوئی ٹیم شکار نہ ہوئی ہو ۔گیل جب وکٹ پر موجود ہوتو اس کے سامنے ہمالیہ جیسے ٹارگٹ بھی معمولی سے لگتے ہیں اور اگر چندرپال کی کارکردگی پر نظردوڑائی جائے تو یہ ایک ایسا بیٹسمین جو ہمیشہ شدید اضطرابی صورتحال میں کھیل کا پھانسہ پلٹ کر حریف ٹیم اور دیکھنے والوں انگشت بدنداں کردیتا ہے ۔

دوسری جانب قومی ٹیم میں بھی بھر پور صلاحیتوں کے مالک کھلاڑیوں کی کمی نہیں ہے اور ایک طویل عرصے بعد شعیب اختر کو ون ڈے کرکٹ میں دیکھا جائیگا۔بیٹنگ میں محمد یوسف کے جانے کے بعد اب تمام تر بوجھ سلمان بٹ ،مصباح الحق ،یونس خا ن اور کپتان شعیب ملک پر ہوگا جبکہ کامران اکمل اور شاہدآفریدی بھی ٹیم کو فتح دلاسکتے ہیں اورپاکستانی ٹیم کو سب سے بڑا ایڈواٹیج نئے کوچ انتخاب عالم کی موجودگی کا ہوگا کیونکہ انتخاب عالم ایک منجھے ہوئے کوچ ہیں اورانہیں کمزور اورجونیئر کھلاڑیوں سے عمدہ کارکردگی لینے کا فن آتا ہے لہذا مذکورہ سیریز میں پاکستانی ٹیم فیورٹ کی حیثیت سے میدان میں اتر رہی ہے لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کی ہم پلہ ہیں اور توقع ہے کہ شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔

قارئین کی دلچسپی کیلئے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے مابین اب تک کھیلے گئے ون ڈے میچز کا خلاصہ پیش کیا جارہا ہے جہاں اگر ریکارڈ ز کے حوالے سے دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جائے تو کیربیئن سائیڈ کو پاکستان پر واضح برتری حاصل ہے لیکن موجودگی کارکردگی کے لحاظ سے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں متوازن سمجھی جارہی ہیں۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان اب تک 110ایک روزہ میچز کھیلے گئے ہیں جن میں 64ویسٹ انڈیز اور 44میں پاکستان نے فتح حاصل کی جبکہ دو میچز ٹائی ہوئے۔

دونوں ٹیموں کے مابین کھیلی گئی آخری سیریز جوکہ پاکستانی سرزمین پر کھیلی گئی میں میزبان پاکستان نے 3-1سے کامیابی حاصل کی جبکہ آخری بار ورلڈکپ 2007ء کے افتتاحی معرکے میں دونوں ٹیموں کے مابین مقابلہ ہوا جہاں ویسٹ انڈیز نے 54رنزسے فتح حاصل کی۔ون ڈے میچزمیں ویسٹ انڈیز نے اب تک 339رنز کا سب سے بڑا مجموعہ تشکیل دیا ہے جبکہ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک میچ میں سب سے زیادہ 307رنز بنائے۔

دونوں ٹیموں کے مابین کھیلے گئے میچز میں اب تک سب سے کم 43 رنز پر آؤٹ ہونے کا ریکارڈ پاکستان کے پاس ہیں،1993ء میں کیپ ٹاؤن جنوبی افریقہ میں قومی ٹیم محض 19ویں اوور میں ڈھیر ہوگئی۔اس کے علاوہ بھی پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف 71اور 91رنز کے قلیل سکور پر بھی آؤٹ ہوئی۔ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف سب سے کم 103رنز سکور کیے۔دونوں ٹیموں کے مابین سب سے بڑے مارجن سے فتح کا اعزاز پاکستان کے پاس ہے۔

1999ء کے اوائل میں شارجہ کے میدان پر پاکستان نے 138رنز سے فتح حاصل کی جبکہ ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 1992ء میں سڈنی میں 133رنز سے ہرایا۔کم مارجن سے فتح کا اعزازبھی پاکستان کے پاس ہے ۔1991ء میں شارجہ میں پاکستان نے محض ایک رنز سے فتح حاصل کی۔دونوں ٹیموں کے مابین اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز ویسٹ انڈین بیٹسمین ڈیسمنڈہینز کوحاصل ہے،ہینز نے پاکستان کے خلاف 65میچز میں 2390رنز بنائے جن میں چارسنچریاں اور18نصف سنچریاں شامل ہیں۔

دوسرے نمبر پر رچرڈسن نے 61میچز میں1988رنز سکور کیے ،تیسرے نمبر پرپاکستان کے جاوید میانداد ہیں انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 64میچز کھیل کر 1930رنز بنائے جبکہ برائن لارا نے پاکستان کے خلاف 48میچز میں 1771رنز سکور کیے۔ایک اننگز میں سب سے لمبی اننگز کھیلنے کا اعزاز برائن لارا کے پاس ہے ،انہوں نے پاکستان کے خلاف جنوی 2005ء میں ایڈیلیڈ میں 156اور93ء کے اوائل میں 153رنز کی اننگز کھیلی۔

پاکستان کی جانب سے سب سے لمبی اننگز کھیلنے کا اعزاز سعید انور کے پاس ہیں انہوں نے93ء میں شارجہ کے مقام پر ویسٹ انڈیز کے خلاف 131کی اننگز کھیلی۔ویسٹ انڈیز کی جانب سے برائن لارا نے پاکستان کے خلاف پانچ جبکہ سعیدانور نے کیریبئن سائیڈ کے خلاف دو سنچریاں سکور کیں ہیں۔بولنگ میں پاکستان کے وسیم اکرم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 64میچز کھیل کر سب سے زیادہ 89وکٹیں حاصل کیں جبکہ ویسٹ انڈیز کی جانب سے کرٹلی امبروز نے پاکستان کے خلاف 44میچز میں 69کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

کورٹنی والش 65اور وقاریونس 60کھلاڑیوں کوآؤٹ کرچکے ہیں۔دونوں ممالک کے مابین پہلی وکٹ پر سب سے لمبی شراکت کا اعزاز ہینز اور گورڈن گرینج کے پاس ہے۔دونوں نے پاکستان کے خلاف 1981ء میں میلبورن میں پہلی وکٹ کی پارٹنر شپ میں 181رنز بنائے ۔دوسری وکٹ کی پارٹنر شپ میں برائن لارا اور فلیپ سیمنز نے 197رنزبنائے ۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments