آسٹریلیا اور بھارت کو فیورٹ سمجھنا دیوانے کے خواب جیسا ہے

Australia Or India Ko Favorite Samjhna Dewane K Khawab Jaisa Hai

دونوں بے تحاشہ کرکٹ کھیل کر تھک چکے، ویسٹ انڈیز ، جنوبی افریقہ خطرناک ثابت ہونگے سری لنکا ہمیشہ بڑے ایونٹس میں حیران کرتا ہے، لیکن وارم اپ میچ میں زمبابوے نے انہیں ہرا کر سب کو حیران کردیا

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری جمعہ 13 فروری 2015

کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں سر فہرست ٹیم آسٹریلیا اس مرتبہ کے عالمی کپ کی فیورٹ ٹیم قرار دی جارہی ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ کچھ حلقے بھارت کو بھی فیورٹ قرار دے رہے ہیں لیکن اگر اعداد شمار پر نظر دوڑائی جائے تو دونوں فیورٹ نہیں ہیں اور نہ ہی دونوں دوسری ٹیموں کیلئے خطرہ ہیں۔
آسٹریلیا ورلڈکپ کا میزبان ہے اور اُسے یہی ایڈواٹیج حاصل ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ گزشتہ سال بھارت میزبان تھا تو وہ چیمپئن بن گئے اور اس بار آسٹریلیا میزبان تو آسٹریلیا چیمپئن بن جائیگا ایسا نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ ٹیسٹ میچز اور ون ڈے ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا کی کارکردگی متاثر کن تھی لیکن جہاں انہیں گزشتہ دو ماہ میں کامیابیاں ملی ہیں اس بات کی گارنٹی کیسے دی جاسکتی ہے کہ وہ ابھی بھی تازہ دم ہونگے اورحریف ٹیموں پر ٹوٹ پڑیں گے۔

(جاری ہے)

میزبانی کے فائدہ اپنی جگہ لیکن فیورٹ کے گن گانا مناسب نہیں ہے ، ماضی کا ریکارڈ دیکھا جائے تو آسٹریلیا سب سے زیادہ چار بار ورلڈکپ جیتنے والی واحد ٹیم ہے ۔ دنیا کی دیگر ٹیموں کی طرح آسٹریلوی کھلاڑیوں کی فٹنس کا معیار کچھ اچھا نہیں ہے، بیٹنگ میں آسٹریلیا کو اپنے گروپ میں سب پر برتری حاصل ہوگی کیونکہ ڈیوڈ وارنر اور گلین میکسویل فارم میں نظر آرہے ہیں لیکن آسٹریلیا کو کنٹرول کرنا بھی کوئی مشکل نہیں ہے۔آسٹریلیا اس سے قبل 1999ء، 2003ء اور 2007ء میں کرکٹ کا عالمی کپ جیت چکا ہے۔33 سالہ کلارک سات ہزار سے زائد رنز کے ساتھ آسٹریلیا کی موجودہ ٹیم کے سب سے زیادہ تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔ 2007ء کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم میں بھی وہ شامل تھے۔ اگر وہ مقررہ وقت تک مکمل طور پر صحت یاب نہ ہو سکے تو ٹیم کی ذمہ داری نائب کپتان جورج بیلی کے کندھوں پر ہو گی۔اس کے علاوہ آل راوٴنڈر جیمز فولکنر بھی مکمل طور پر فٹ نہیں ہو سکے ہیں۔ اس صورتحال میں اگر آسٹریلیا کی ٹیم کا بالنگ کا توازن بگڑا تو اسے کچھ میچوں میں پارٹ ٹائم بالرز پر بھروسہ کرنا پڑے گا۔ سپنر خاویر ڈوہیرتھے بھی ٹیم میں شامل ہیں تاہم اگر انہیں زیادہ میچوں میں شامل نہ کیا گیا تو میچ کے درمیانی اووروں میں آسٹریلیا کو مخالف ٹیم رنز روکنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بہرحال ایک بات تو واضح ہے کہ آسٹریلیا ٹورنامنٹ کے ناک آوٴٹ راوٴنڈ تک باآسانی پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس بات کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی کہ یہ ٹیم ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوگی۔
یہی حال بھارت کا ہے۔ دفاعی چیمپئن ہونے کے بعد باوجود بھارت کو آسٹریلیا میں خوب مار پڑی ہے، چار ٹیسٹ میچز کی سیریز میں شکست ہوئی جبکہ تین ملکی ون ڈے کپ میں بھی بھارت فائنل تک رسائی حاصل نہ کرسکا۔ ایشانت شرما زخمی ہوکر ورلڈکپ سے باہرہوگئے ہیں لیکن بھارتی ٹیم محمد شامی پر انحصار کریگی۔ بھارتی ٹیم آسٹریلیا میں طویل عرصہ کرکٹ کھیل کر ذہنی طور پر تھک چکی ہے اور اگر پاکستان نے بیٹنگ اچھی کی تو بھارتی ٹیم کی افتتاحی میچ میں شکست یقینی ہوگی۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments