پاکستان میں بین الاقومی کرکٹ کے دروزاے بند

Pakistan Main Cricket K Darwaze Band

پانچ سال سے پہلے تک یہاں غیر ملکی ٹیم کا آکر کھیلنا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا سپورٹس سے وابستہ افراد کے چہروں پر مایوسی کے ڈیرے،بہت سوں نے اس پروفیشن سے بغاوت کا فیصلہ کرلیا

اتوار 8 مارچ 2009

اعجاز وسیم باکھری : بدقسمتی نے ایک بار پھر پاکستان کرکٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس بارتو وہ سب کچھ ہوگیا جس کا تصوربھی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ بات اب تصور سے نکل کر حقیقت میں بدل چکی ہے۔ممبئی حملوں کے بعد پاک بھارت ٹیشن بڑھی تو سب سے پہلے پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچا ۔بھارت نے تناؤ کی وجہ سے اپنی ٹیم کا شیڈول دورہ منسوخ کردیا تو پی سی بی نے کسی دوسری ٹیم کو اپنے وطن بلانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کردئیے اوربالآخر سری لنکن ٹیم پاکستان آنے پر راضی ہوگئی۔

سری لنکن ٹیم کا ابتدائی شیڈول یہ تھا کہ ایک ہی دورے میں مہمان ٹیم پاکستان میں ون ڈے اور ٹیسٹ سیریز کھیلے گی ۔بھارتی حکومت کو پاکستان اور سری لنکا کا آپس میں گٹھ جوڑ پسند نہ آیا اور ہندوستانی وزیر خارجہ پرناب مکھرجی نے واضح الفاظ میں سری لنکن حکومت کو حکم دیا کہ وہ اپنی ٹیم کو پاکستان نہ بھیجیں مگر سری لنکن حکومت نے بھارتی آرڈرکو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو پاکستان بھیجنے کا حتمی فیصلہ سنادیا۔

(جاری ہے)

اس کے بعد بھارتی حکومت اور بی سی سی آئی نے سری لنکن حکومت پر زور دیکرسری لنکا کو اپنی ٹیم کے ساتھ پانچ میچز کی ون ڈے سیریز کھیلنے پر راضی کر لیا اور یوں سری لنکن ٹیم پاکستان میں تین ون ڈے میچ کھیلنے کے بعد فوری وطن لوٹ گئی جہاں اُس نے بھارت کے خلاف ہوم گراؤنڈز پر پانچ میچز کھیلے ۔دورہ پاکستان کے دوسرے مرحلے کے سلسلے میں ایک بار پھرسری لنکن ٹیم پاکستان لوٹ آئی۔

کراچی کی ڈیڈ وکٹ پر ہونیوالے پہلے ٹیسٹ میچ میں شروعات میں سری لنکا نے اچھی کارکردگی پیش کی اور بعد میں قومی ٹیم کے کپتان یونس خان نے ٹرپل سنچری سکور کرکے نہ صرف اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکالا بلکہ 300سے زائد رنز بنانے والے تیسرے پاکستانی بیٹسمین بننے کا بھی اعزاز حاصل کیا۔یونس خان کی ٹرپل سنچری کے بعد کراچی ٹیسٹ دلچسپ صورتحال کے بعد ڈرا ہوا تو شائقین شدت سے دوسرے ٹیسٹ کا انتظار کرنے لگے۔

دوسرا ٹیسٹ لاہور میں کھیلا جانا تھا جہاں میچ سے کچھ روز قبل سپریم کورٹ کے فیصلے نے پنجاب کے سیاسی منظرنامے کویکسر بدل کررکھ دیا ۔صوبے میں گورنر راج لگنے کے بعد سلمان تاثیر نے تمام اعلیٰ پولیس افسران کی چھٹی کروا کراپنے دوستوں کو نوازنے کا عمل شروع کیا تو دوسری جانب قذافی سٹیڈیم میں ٹیسٹ میچ بھی آغاز ہوگیا۔میچ کے دوسرے روز سری لنکن بیٹسمین سمارا ویرا نے ڈبل سنچری مکمل کی اوریوں وہ لگاتار دومیچز میں ڈبل سنچریاں سکور کرنے والے دنیائے کرکٹ کے چھٹے بیٹسمین بنے۔

پاکستان نے دوسرے روز کھیل کے اختتام پرایک وکٹ کے نقصان پر100سے زائد رنز بنارکھے تھے اور کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اگلے روز مہمان ٹیم پر دن دہاڑے فائرنگ کی جائیگی اور 25منٹ تک جاری رہنے والی یہ دہشت گردی پاکستان میں کرکٹ کا مستقبل تاریک کردیگی۔ کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلاموقع تھا جب کسی مہمان ملک کی ٹیم پر حملہ ہوا اور بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ یہ واقعہ پاکستان میں پیش آیا ۔

پاکستان پہلے ہی سے بین الاقومی ٹیموں کیلئے خطرناک جگہ سمجھی جاتی تھی اور آسٹریلین ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ پاکستان غیر محفوظ جگہ ہے لیکن ہم ایسے ضدی تھے کہ پوری دنیا کو غلط قرار دیکر پاکستان کو کھیلوں کیلئے ایک محفوظ ملک قراردیتے ہوئے حد سے گزر جاتے تھے لیکن 3مارچ کو جو کچھ ہوا اس نے ہمیں غلط اور پاکستان پر انگلیاں اٹھانے والوں کو سچا ثابت کردیا ۔

اب ایسا کوئی جواز نہیں بچا اور نہ ہی کوئی ایسی مثال ہے جس کو پیش کرکے پاکستان کو غیرملکیوں کیلئے محفوظ ملک قرار دیا جائے ۔جوالفاظ اس وقت میں اپنے آرٹیکل میں تحریر کررہا ہوں میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں اپنے ہاتھوں سے پاکستان کو غیر ملکیوں کیلئے غیر محفوظ ملک لکھوں گا لیکن مجبوراً آج یہ اعتراف کرنا پڑرہا ہے کہ ہاں! پاکستان غیر ملکیوں کیلئے غیر محفوظ ملک ہے ۔

جن لوگوں نے اس واقعہ کی پلاننگ کی وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے ہیں ان کا بنیادی مقصد پاکستان کو بدنام کرنے کیساتھ ساتھ اس ملک کی معیشت کو تباہ کرنا تھا سو وہ اپنے کام میں انتہائی مہارت کے ساتھ سرخرو ہوگئے ہیں ۔یوں تو پاکستان میں آئے روز بم دھماکے ہوتے رہتے ہیں جیسے آج پشاور میں ہوا ہے ،اس طرح کے واقعات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ بین الاقومی میڈیا نے ان واقعات کی کوریج ترک کردی تھی لیکن سری لنکن کرکٹ ٹیم پر پاکستان کے شہرلاہور میں حملہ ایک ایسا چونکہ دینے والا واقعہ تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کررکھ دیا ۔

ابھی چنددن پہلے کی بات ہے کہ ناروے میں قیام پذیر ایک قریبی عزیز”جنہیں حال ہی میں پاکستان آنے کا اتفاق ہوا“ نے مجھے کہا،بھئی تم ہر وقت پاکستان پاکستان کرتے رہتے ہو، کیا ہے وہاں ،میرا مشورہ یہی ہے کہ تم پاکستان چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں چلے جاؤ اچھے پیسے بھی کما لوگے اور ہر قسم کے خطرے سے بھی محفوظ رہو گے ۔یہ سب سننے کے بعد میں نے جواب میں سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہاکہ ”جناب آپ پاکستان کو ہماری نظر سے دیکھا کریں امید ہے آپ اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور ہوجائیں گے “مگر جب 3مارچ کا سانحہ پیش آیا تو مجھے اس کی باتیں سچ لگیں اور پہلی بار محسوس ہوا کہ ہم کسی جنگ زدہ ملک میں رہتے ہیں اور بیرون ملک رہنے والوں کو یہ مکمل حق پہنچتا ہے کہ وہ جیسے چاہیں ہماری اور ہمارے ملک کی تصویر کشی کرسکتے ہیں ۔

سانحہ لاہور گزرتے دنوں کے ساتھ اپنے اثرات میں تیزی پیدا کررہا ہے جہاں پاکستان کو غیر ملکی ٹیموں کیلئے” نوگو ایریا“قرار دیا جاچکا ہے اور ہم بے بسی کے عالم میں دنیا والوں کی باتیں سن رہے ہیں ۔اس سال سری لنکا کے بعد نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان آنا تھا جنہوں نے حملے کے دوسرے دن پاکستان کادورہ کینسل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ چیمپئنزٹرافی کی میزبانی ہم پہلے ہی سے گنوا چکے ہیں ۔

رواں سال ستمبر کے اوائل میں پاکستان میں ایشین ہاکی چیمپئنزٹرافی ہونا تھی جس میں ایشیا کی آٹھ ٹیموں نے حصہ لینا تھا اُس کا انعقاد بھی غیر یقینی ہوگیا ہے ۔میری ذاتی رائے کے مطابق اگلے چار سے پانچ سال تک کوئی بھی گورا ملک اپنی ٹیم کو پاکستان نہیں بھیجے گا البتہ ہاں ایک سال کے بعد کوئی معمولی حیثیت کی مالک ٹیم پاکستان آنے کی غلطی کرسکتی ہے ۔لاہورسانحہ کے بعد سپورٹس سے وابستہ ہر شخص کا چہرہ اترا ہوا ہے اور بہت سوں نے اپنے پروفیشن سے بغاوت کافیصلہ کرلیا ہے کیونکہ اب اگر کوئی ملک پاکستان کے ساتھ کھیلنے پر راضی بھی ہوا تو وہ اپنے سرزمین پر پاکستان کے خلاف کھیلے گا کیونکہ ہم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہم اس قابل ہی نہیں کہ کسی غیر ملکی ٹیم کی مہمان نوازی کریں۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments