پاکستان بمقابلہ ورلڈ الیون (پہلا ٹی20 )

Pakistan Vs World Xi

پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے بہترین سکیورٹی کی یقین دہانی پر بین الاقوامی کھلاڑیوں نے پاکستانی عوام کے ساتھ ایک دفعہ پھر یہاں کرکٹ بحالی کیلئے قدم بڑھا دیا ہے جسکی وجہ سے یقینا مستقبل قریب میں ایک دفعہ پھر بین الاقوامی کرکٹ کا پاکستان شہروں میںمیدان لگے گا

Arif Jameel عارف‌جمیل بدھ ستمبر

Pakistan Vs World Xi
کم وبیش ساڑھے آٹھ سال بعد پاکستان میں 7 ممالک کے 14 نامور بین الاقوامی کرکٹرز " ورلڈ الیون" کی حیثیت میں پاکستان میں ٹی20 سیریز کے تین میچ کھیلنے آئے ہیں۔ جسکے لیئے پاکستانی قوم اُنکی شُکر گزار ہے ۔کیونکہ مارچ 2009ءکو لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں اور کرکٹرزنے آنے سے انکار کر دیا ہوا تھا۔

یہ خوش آئندہ رہا کہ اس دفعہ2017ءمیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے بہترین سکیورٹی کی یقین دہانی پر اِ ن بین الاقوامی کھلاڑیوں نے پاکستانی عوام کے ساتھ ایک دفعہ پھر پاکستان میںکرکٹ بحال کروانے کیلئے قدم بڑھا دیا ہے۔جسکی وجہ سے یقینا مستقبل قریب میں ایک دفعہ پھر بین الاقوامی کرکٹ کا پاکستان شہروں میںمیدان لگے گا۔ ورلڈ الیون کے کھلاڑی کن کن ممالک سے: ورلڈ الیون کی طرف سے جو14کرکٹرز پاکستا ن آئے ہیں ان میں سے 5جنوبی افریقہ ،3آسٹریلیا اور 2ویسٹ انڈیزسے ہیں اور نیوزی لینڈ ،انگلینڈ، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے ایک ایک بین الاقوامی کرکٹر شامل ہے۔

(جاری ہے)

اِسطرح14 کرکٹرز کے نام بمعہ ملک ذ یل میں بالترتیب ہیں: ٭ فاف ڈوپلیسی(کپتان)، ہاشم آملہ ،عمران طاہر ،مورنے مورکل اور ڈیوڈ ملر (جنوبی افریقہ) ٭ ٹم پین (وکٹ کیپر) ، جارج بیلی اور بین کٹنگ ( اَسٹریلیا) ٭ ڈیرن سیمی اور سیموئیل بدری (ویسٹ انڈیز) ٭ گرانٹ ایلیٹ (نیوزی لینڈ) ،پال کالنگ ووڈ( انگلینڈ) ،تمیم اقبال (بنگلہ دیش) اور تھیسارا پریرا(سری لنکا) آزاد ی کرکٹ کپ: پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان " آزادی کرکٹ کپ" کے نام سے موسوم کی جانے والی ٹی20 سیریز کے تینوں میچ شیڈول کے مطابق 12، 13 اور15 ستمبر2017ءکو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلنے کا پروگرام دیا گیا اور پہلا میچ منگل کو شام 7بجے شروع ہوا۔

پہلے میچ میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم: سرفراز احمد(کپتان و وکٹ کیپر)، فخر زماں، احمد شہزاد،بابر اعظم، شعیب ملک، عماد وسیم، فہیم اشرف، شاداب خان، حسن علی،رومان رئیس اور سہیل خان۔ پہلے میچ میں ورلڈ الیون کی طرف سے حصہ لینے والے کھلاڑی: فاف ڈوپلیسی(کپتان)، ہاشم آملہ ،عمران طاہر ،مورنے مورکل ، ڈیوڈ ملر (جنوبی افریقہ)،ٹم پین (وکٹ کیپر) ، بین کٹنگ (اَسٹریلیا)، ڈیرن سیمی (ویسٹ انڈیز)،گرانٹ ایلیٹ (نیوزی لینڈ) ،تمیم اقبال (بنگلہ دیش) اور تھیسارا پریرا(سری لنکا) امپائر©: علیم ڈار، احسن رضا ۔

تھرڈ امپائر: شوزب رضا ٹاس: ورلڈ الیون کے کپتان فاف ڈوپلیسی نے جیتا اور پاکستان کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دے دی۔پاکستان کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ اگر وہ ٹاس جیت جاتے تو پھر بھی وہی پہلے بیٹنگ کرتے۔ میچ کا آغاز: پاکستان کی طرف سے فخر زماں اور احمد شہزاد نے بیٹنگ سے کیا لیکن فخر زماں پہلے ہی اوور میں دو چوکے مار کر کیچ آﺅٹ ہو گئے جسکے بعد بابر اعظم کھیلنے کیلئے آئے اور گراﺅنڈ کے چاروں طرف زور دار شاٹس کھیلتے ہوئے نصف سنچری مکمل کی اور 52گیندوں پر86رنز بنا کر آﺅٹ ہوگئے۔

احمد شہزاد 39اور شعیب ملک جارحانہ کھیلتے ہوئے 38 رنز بنا کر آﺅٹ ہوئے۔کپتان سرفراز احمد صر ف 4رنز بنا کر ہی آﺅٹ ہو گئے ۔ عماد وسیم15رنزبنا کر ناٹ آﺅٹ رہے، 20اوورز مکمل ہو ئے تو پاکستان نے5کھلاڑی آﺅٹ 197رنز بنا ئے تھے ۔ ورلڈ الیون کی طرف سے باﺅلر تھیسارا پریرانے 2وکٹیں حاصل کیں ۔ مورنے مورکل،بین کٹنگ اور عمران طاہر ایک ایک وکٹ لینے میں کامیاب ہو ئے۔

ورلڈ الیون کے سامنے ٹارگٹ بڑا تھا اور انکے بلے باز بھی بہترین تھے لیکن پا کستانی کپتان سرفراز احمد کی باﺅلنگ اور فیلڈنگ میں بہترین حکمت عملی نے انھیں مطلوبہ سکور نہ کر نے دیا ۔ (کپتان)فاف ڈوپلیسی 29رنز اور ٹم پین 25رنز بنا کر آﺅٹ ہو ئے۔ڈیرن سیمی 29رنز بنا کر ناٹ آﺅٹ رہے ۔ پاکستان کی طرف سے رومان رئیس ،سہیل خان اور شاداب خان نے 2،2کھلاڑی آﺅٹ کیئے اور20اوورز مکمل ہو نے پر ورلڈ الیون کی ٹیم 7کھلاڑی آﺅٹ پر 177رنز بنا سکی ۔

اسطرح پاکستان نے پہلا میچ20رنز سے جیت لیا۔ مین آف دی میچ ©" بابر اعظم" ہوئے اور انھیں انعام میں ایک موٹر سائیکل بھی دی گئی۔ اہم واقعات: ٭ پاکستان کے8کھلاڑیوں نے ہوم گراﺅنڈ پر پہلی دفعہ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی۔ ٭ فاسٹ باﺅلر محمد عامر کے گھر لندن میں بیٹی کی ولادت ہو ئی ہے لہذا وہ ٹیم کا حصہ نہ بن سکے۔اُنکی جگہ سہیل خان کو شامل کیا گیا۔

٭ میچ کے آغاز سے پہلے پاکستان کے روایتی رکشوں کو خوبصورتی سے سجا کر کھلاڑیوں کو اسٹیڈیم کا چکر لگوایا گیا۔آتش بازی بھی کی۔ ٭ یہ میچ انتہائی سکیورٹی میں کھیلا گیا۔ میچ کا مختصر تجزیہ : شائقین ِ پاکستان کیلئے اپنے ملک میں کرکٹ دیکھنا اور اپنے کھلاڑیوں کی اچھی پرفارمنس سے لُطف اندوز ہو نا ہی اس سیریز کا اہم خاصہ ہے جو پہلے میچ میںہی پاکستان ٹیم کی بہترین کارکردگی سے نظر آیا لیکن ماضی کی طرح ایک سوال پھر اہم رہا کہ”پچ“کیسی بنائی گئی تھی؟ نہ فاسٹ باﺅلر کا ساتھ دیا اور نہ ہی وکٹ میں کچھ خاص سپن نظر آیا۔

سابق کرکٹرز کے مطابق وکٹ بھی ورلڈ کلاس ہونی چاہیئے۔ بہرحال ہوم گراﺅنڈ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے پاکستانی بلے بازوں نے جارحانہ بیٹنگ کی لیکن دونوں طرف سے صرف میچ جیتنے والی اننگز بابر اعظم نے کھیلی اور پاکستان کے اس ابھرتے ہوئے کھلاڑی کو شائقین سے داد بھی بہت ملی۔کپتان سرفراز احمد کے مطابق اگلے میچ میں مزید بہتر کھیل پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments