ورلڈکپ 2003ء: آسٹریلیا تیسری بار چیمپئن بنا

Punter Stole The Show

پاکستانی ٹیم دوسرے راؤنڈ تک بھی رسائی حاصل نہ کرسکی بھارت کیخلاف میچ میں قومی ٹیم شکست کھا گئی، وسیم ، وقار کا آخری ورلڈکپ ثابت ہوا

Ejaz Wasim Bakhri اعجاز وسیم باکھری پیر فروری

Punter Stole The Show
2003ء کے آٹھویں ورلڈ کپ کی میزبانی مشترکہ طور پر جنوبی افریقہ، زمبابوے اور کینیا کے حصے میں آئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ یہ عالمی مقابلے براعظم افریقہ میں منعقد ہوئے۔9 فروری سے 24 مارچ تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ میں دو گروپس میں تقسیم کی گئی14 ٹیمیں شامل تھیں جنہوں نے 54 میچوں میں حصہ لیا۔ یہ ٹورنامنٹ بھی راؤنڈ رابن اور ناک آؤٹ سسٹم کے تحت کھیلا گیااس ٹورنامنٹ کے دوران انگلینڈ نے زمبابوے میں اور نیوزی لینڈ نے کینیا میں کھیلنے سے انکار کیا۔

ہر گروپ سے پہلی دو پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم سیمی فائنل میں داخل ہوئی۔ پہلے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے سری لنکا کو جب کہ دوسرے سیمی فائنل میں ہندو ستان نے کینیا کو ہرا کر فائنل کھیلنے کا حق پایا۔1983 کے بعد ہندو ستان کی ٹیم دوسری مرتبہ فائنل میں پہنچی۔

(جاری ہے)

جو ہانسبرگ میں کھیلے گئے فائنل میں آسٹریلیا نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے کپتان رکی پونٹنگ کی شاندار سنچری کی بدولت مقررہ50 اوور وں میں صرف2 وکٹ کے نقصان پر359 رن بنائے۔

جواب میں ہندوستان کی پوری ٹیم صرف234 رن بنا کر آؤٹ ہوگئی اور آسٹریلیا نے لگاتار دوسری اور مجموعی طور پر تیسری مرتبہ عالمی کپ کا خطاب حاصل کیا۔رکی پونٹنگ کو مین آف دی میچ جب کہ ٹورنامنٹ میں 673رن بنانے والے سچن ٹنڈولکر کو مین آف دی سیریز کے خطاب سے نوازا گیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم گزشتہ ورلڈکپ میں سیمی فائنل تک پہنچی تھی اور اس بار کپتان وسیم اکرم تھے، 2003ء میں وقاریونس کی قیادت میں قومی ٹیم نے جنوبی افریقہ میں ہونیوالے میگاایونٹ میں شرکت کی اور قومی ٹیم جوکہ گزشتہ ورلڈکپ کی فائنلسٹ تھی اس بار پہلے راؤنڈ کو ہی پار نہ کرسکی۔

وسیم اکرم اور وقاریونس کیلئے یہ ورلڈکپ آخری ثابت ہوا جبکہ سعید انور بھی اس ورلڈکپ کے بعد کھیل کے افق پر نظر نہ آئے ۔ قومی ٹیم کی بدترین شکست کے بعد جنرل توقیر ضیاء نے ٹیم میں آپریشن کلین اپ کیا اور 8سینئر کھلاڑیوں کو ڈراپ کردیا تاہم شعیب اختر واحد سینئر کھلاڑی تھے جو ٹیم کا حصہ رہے۔ ورلڈکپ کے فوراً بعد پاکستان نے انگلینڈ کا دورہ کیا اور راشد لطیف کو کپتانی سونپ دی گئی۔

جنوبی افریقی سرزمین پر ہونیوالے ورلڈکپ میں آسٹریلیا کا جادو سرچڑھ کر بولتا رہا اور اس میگاایونٹ میں جنوبی افریقہ کو نیوزی لینڈ کیخلاف اہم میچ میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ایلن ڈونلڈ اور شان پولاک جیسے بڑے کھلاڑی کھیل سے کنارہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ رکی پونٹنگ نے فائنل میں بھارت کی ایک نہ چلنے دی اور سٹیووا کے بعد بننے والے کپتان نے سٹیووا کی راہ پہ چلتے ہوئے آسٹریلیا کو ناقابل تسخیر بنادیا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments