پاکستان کا ایک روزہ میں| سری لنکا کا ٹی20میں وائٹ واش

Sri Lanka Won T20 Series 3-0

سری لنکا کی نئے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم نے پاکستان کو ہوم گراﺅنڈ پر ٹی 20 سیریز میں وائٹ واش کر کے دنیا کو حیران کر دیا

Arif Jameel عارف‌جمیل پیر اکتوبر

Sri Lanka Won T20 Series 3-0
پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان پاکستان میں ستمبر/ اکتوبر2019ءمیں ایک روزہ انٹرنیشنل اورٹی20 میچوں کی سیریز کھیلی گئی جس میں پاکستان نے سری لنکا کو ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں میں وائٹ واش کر دیا اور سری لنکا کی نوجوان اور زیادہ تر بالکل نئے کھلاڑیوں پر مشتمل کرکٹ ٹیم نے پاکستان کی ہوم گراﺅنڈ پر ٹی 20 سیریز میں پاکستان کو وائٹ واش کر کے دُنیا ِکرکٹ کو حیران کر دیا۔

مصباح الحق بحیثیت چیف سلیکٹرو ہیڈ کوچ پہلی سیریز: پاکستان کرکٹ بورڈ نے ستمبر2019ءکو پاکستان کے سابق کامیاب کپتان اور بلے باز مصباح الحق کو پاکستان کرکٹ ٹیم کا چیف سلیکٹر ، ہیڈ کوچ اور بیٹنگ کوچ مقرر کر دیا۔ساتھ میں پاکستان کے نامور فاسٹ باﺅلر یونس خان کو ایک دفعہ پھر باﺅلنگ کوچ کی ذمہداری دے دی گئی۔

(جاری ہے)

جس کے چند روز بعد ہی سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کا پاکستان کے دورے پر آنے کی خبریں گرم ہو گئیں۔

سری لنکا کی موجودہ انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم کے کپتان اور چند اہم کھلاڑیوں نے جب ذاتی وجوہات کی بنیاد پر پاکستان آنے سے انکار کر دیا تو سری لنکا کرکٹ بورڈ نے چند نئے کھلاڑیوں کے کو شامل کر کے دونوں فارمیٹ کیلئے کپتان مقر ر کیئے اور کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھیج دیا۔ مختصر تجزیہ: چیف سلیکٹر مصباح الحق پر تو کوئی اعتراض نہیں لیکن وقار یونس کا کسی بھی حیثیت میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ منسلک ہو نا ماضی میں بھی اچھے تجربات نہیں رکھتا ۔

دوسرا کراچی میں دو ایک روزہ میچوں میں چیف سلیکٹر مصباح الحق کی منتخب کی ہوئی ٹیم کی کارکردگی پر کوئی سوال نہیں اُٹھا۔لیکن جب اُنھوں نے ٹی20 کیلئے امام الحق،رضوان احمد اور عابد علی کی جگہ احمد شہزاد ،عمر اکمل اور فہیم اشرف کو چانس دیا اور پھر وہ تینوں کوئی کارکردگی بھی نہ دکھا سکے تو اس میں مصباح الحق کا کوئی قصور نہیں تھا۔ کیونکہ تینوں اپنی صلاحیتوں کے مطابق پاکستان ٹیم کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور اُنکو تازہ ترین قومی سطح پر بھی اچھی کارکردگی پر ٹیم میں شامل کرنا ایک چیف سلیکٹر کا حق ہے۔

فتح شکست کھیل کا حصہ ہے جو کھلاڑی کی میدان میں جیتنے کی کوششوں سے منسلک ہوتا ہے۔لہذا پہلے فارمیٹ میں کامیابی پر چیف سلیکٹر مبارک باد کے مستحق ہیں اور دوسرے فارمیٹ میں اُنکے لیئے مستقبل کی سلیکشن پر نظر انہی نوجوان کھلاڑیوں میں سے موتیوں کی لڑی بنا نے کے مترادف ہو گی۔ الیکٹرونک میڈیا پر تنقید سے ٹیم نہیں بنتی۔ آج تنقید کرنے والے کل بھی تنقید کر رہے تھے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع کیوں نہیں فراہم کیا جارہا ہے؟ واہ! حالانکہ پاکستان کے سابق کپتان سوئنگ کے سلطان فاسٹ باﺅلر وسیم اکرم نے ایک بیان میں واضح الفاظ میں کہا کہ مصباح الحق کو وقت دینا چاہیئے وہ اپنی ذمہداری بھر پور انداز میں نبھانے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان بمقابلہ سری لنکا ایک روزہ انٹرنیشنل کرکٹ سیریز: کے 3میچ کراچی میں کھیلے جانے تھے لیکن 27ستمبر2019ءکو ہونے والاپہلا میچ بارش کی نذر ہو جانے کی وجہ سے دوسرا میچ 30ستمبرکو کھیلا گیا۔ 10سال بعد کراچی میں کھیلے جانے والے اس انٹرنیشنل میچ میں پاکستان نے ٹاس جیتا اور پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 7وکٹوں کے نقصان پر307رنزبنائے ۔بابر اعظم نے115رنز کی شاندار اننگز کھیلی ۔

نصف سنچری بنائی فخر زمان نے۔پھر پاکستانی فاسٹ باﺅلر عثمان شنواری نے کمال دکھایااور سری لنکا کے 5کھلاڑی آﺅٹ کر کے اُنکے بلے بازوں کے پاﺅں اُکھیڑدیئے ۔ نتیجہ شکست کی صورت میں نکلا ۔سری لنکا 46.5اوورز میں 238رنز پر آل آﺅٹ ہو گئے۔پاکستان نے67رنز سے پہلا میچ جیت لیا۔ سری لنکا کی طرف سے نوجوان بلے باز جے سوریا نے96اورداسن شناکا نے68 رنز بنائے کپتان لہروتھری مانے صفر پر آﺅٹ ہو ئے۔

مین آف دی میچ :عثمان شنواری۔ دوسرا میچ2 اکتوبر کوکھیلا گیا۔ٹاس سری لنکا نے جیتا بیٹنگ کی اور9وکٹوں پر297رنز بنانے میں کامیاب ہو گئے۔اوپنر گنا تھلاکا 133رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے۔پاکستان کی طرف سے محمد عامر نے3کھلاڑی آﺅٹ کیئے۔لیکن دن پھر پاکستان کا تھا ۔ اوپنر امام الحق کی جگہ عابد علی کو موقع فراہم کیا گیا جو دُرست ثابت ہوا ۔

اُنھوں نے37گیندوں پر نصف سنچری بنا ڈالی اور74رنز کی فخر زمان کے ساتھ شاندار اننگز کھیلی جنہوں نے76رنز بنائے۔ حارث سہیل نے بھی56رنز بنائے۔ اچھا آغاز پاکستان کیلئے خوشخبری لے کر آیا اور5کھلاڑی آﺅٹ پر 299 رنز بناکر 5وکٹوں سے میچ جیت کر 2۔0 سے سیریز بھی جیت لی ۔ ساتھ میں اس سال کی ایک روزہ سیر یز کی پہلی ٹرافی بھی جیت لی۔ مین آف دی میچ :عابد علی اور مین آف دی سیریز:بابر اعظم ہوئے۔

پاکستان نے ایک روزہ انٹرنیشنل کرکٹ سیریز وائٹ واش کر لی۔ بابر اعظم : نے اپنے 71ویں ایک روزہ انٹرنیشنل میچ میں11ویں سنچری بنا کر انڈیا کے کپتان ویرات کوہلی کا 82 ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں میں 11 سنچریاں بنانے کا ریکارڈ توڑ دیا۔ پہلے نمبر پر یہ ریکارڈ جنوبی افریقہ کے بلے باز ہاشم آملہ کے پاس64میچوں میں ہے ۔ دوسرے نمبر پر بھی اُنکے ہم وطن کو ڈی کوک 65میچوں میں یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔

تیسرے نمبر پر اب بابر اعظم ہیں۔ 3میچوں کی ٹی20 کرکٹ سیریز : کا آغاز پہلے میچ کے ساتھ قذافی اسٹیڈیم لاہو ر میں 5اکتوبر 2019ءکو ہوااور دوسرا و تیسرا میچ بھی قذافی اسٹیڈیم میں ہی 7اور9اکتوبر کو کھیلا گیا۔ پہلے میچ میں پاکستان کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیتا اور بیٹنگ کروائی سری لنکا کو اور اگلے دونوں میچوں میں ٹاس جیتا سری لنکا کے کپتان داشون شناکا نے اور پہلے بیٹنگ کو ترجیح دی۔

اسطرح تینوں میچوں میں سری لنکا کو پہلے بیٹنگ کا موقع ملا اور تینوں میچ بھی سری لنکا نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی ہوم گراﺅنڈ پر جیت کر نہ کہ صرف سیریز وائٹ واش کر لی بلکہ پاکستان میں پاکستان کے خلاف پہلی دفعہ سیریز بھی جیت لی۔ پہلے میچ میں سری لنکا نے5 کھلاڑی آﺅٹ پر 165رنز بنائے اور پاکستان کی ٹیم101کے مجموعی ٹوٹل پر پویلین لوٹ گئی۔سری لنکا کو فتح ہوئی 64رنز سے۔

مین آف دی میچ ہو ئے سری لنکا کے :گونا تھلیکا نصف سنچری بناے پر۔اس میچ میں پاکستان کی طرف سے نوجوان فاسٹ باﺅلر حسنین نے ہیٹرک کر کے ٹی 20 کے فارمیٹ میں سب سے کم عمر باﺅلر کا ہیٹرک کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔ پاکستان کی طرف سے اس سے پہلے ا س فارمیٹ میں فہیم اشرف ہیٹرک کر چکے ہیں۔ دوسرے میچ میں سری لنکا نے 6 کھلاڑی آﺅٹ پر 182رنز بنائے اور پاکستان کو 147پر آل آﺅٹ کر دیا۔

فتح ہو ئی سری لنکا کو 35رنز سے۔مین آف دی میچ ہو ئے سری لنکا کے:راج پکسے77رنز بنانے پر۔ ان دونوں میچوں میں پاکستان کی طرف سے احمد شہزاد اور عمر اکمل کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ عمر اکمل نے تو دونوں میچوں میں صفر کیا۔ تیسرا میچ بریسٹ کینسر کی جان کاری کیلئے پنک میچ قرار دیا گیا۔ تیسرے میچ میں سری لنکا کی ٹیم بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہی لیکن پھر بھی 7کھلاڑی آﺅ ٹ پر 147رنز بنا لیئے ۔

لیکن پاکستان کی بلے بازی اس ہدف کو بھی حاصل کرنے میں ناکام رہی اور مقررہ 20اوورز میں 6کھلاڑی آﺅٹ پر 134رنز بنا کر 13رنز سے شکست کھا گئی۔ مین آف دی میچ ہوئے ایک بار پھر سری لنکا کے کھلاڑی : نام واناندوہسرانگا3کھلاڑی آﺅٹ کیئے اور مین آف دی سیریز کا اعزاز بھی واناندوہسرانگاکو ملا۔سری لنکا0۔3 سے سیریز جیت گئی۔ "آگے کھیلتے ہیں دیکھتے ہیں اور ملتے ہیں "۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments