پاکستان کرکٹ غیرملکی لیگز کیلئے ”گولڈ“ کی”چڑیا“ کیوں بنتی جارہی ہے؟۔۔۔۔۔

منگل دسمبر
کمرشل ازم کی سفید پوشی کی آڑ میں جس باریکی سے پاکستان کرکٹ کے معاملات چلائے جارہے ہیں یقین کیجیے۔۔۔ ان کے وائٹ کالر پر بوسہ دینے کو جی چاہتا ہے۔
ہمارے ہاں ان دنوں سیاسی ماحول اپنے عروج پر ہے تو دیگر اہم مسئلے حکومتی یا قوم کی توجہ سے اوجھل ہوکر رہ گئے ہیں حالانکہ جس طرح سیاسی میدان میں کئی اکھاڑے لتاڑے جارہے ہیں اسی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ میں بھی ایک بڑا میدان لگ چکا ہے جس میں لڑائی بڑی واضح ہے، سسٹم کی آڑ لیکرمال بنانا۔۔۔اور۔۔۔ پاکستان کرکٹ کو بچانا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ان پر ہاتھ کون ڈالے۔

۔۔۔ ہمارے ملک میں بندہ اگر شاطر ہو تو بلیک منی کی بوریاں اونٹوں پر لاد کے بڑی آسانی سے صحرا میں بھیجتا رہے تو اگر زیادہ نہیں آپکو پانچ برس مل جاتے ہیں جہاں آپ کو ”بوجھے جھاڑ“ کر پچھلے دروازے سے دوبارہ اندر آ جانے کا وقت مل جاتا ہے۔ ان پر ہاتھ کون ڈالے، سوال کا جواب تو آپ کو اوپر والی سطروں میں مل چکا ہوگا۔

(خبر جاری ہے)

اب اصل رونا روتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ میں جاری ”کولڈ وار“میں پی سی بی ہیڈ کوارٹر کی بلڈنگ کے پہلے اور دوسرے فلوراور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ایڈمن بلاک کے کمروں میں بیٹھے افسران ان دنوں بہت محتاط چل رہے ہیں۔

کرکٹ بچانےوالوں کی مجبوری سمجھ میں آتی ہے کیونکہ انہیں بھی معلوم ہے کہ ”ممی، بیٹی، ڈیڈی کے ہم پیالہ دوستوں اور دور کے رشتہ داروں پر ہاتھ ڈالنے کا مطلب ”ڈاون سائزنگ“ نامی اڑدھا پر پاوں رکھنے والی بات ہے۔ اس لیے کھل کر کوئی نہیں بول رہا۔ مال بنانے والے اس لیے محتاط چل رہے ہیں کیونکہ ان کو بھی معلوم پڑ چکا ہے کہ ان کی گھڑیاں الٹی گتنی پر لگ چکی ہیں۔

اس لیے جتنے دن مل رہے ہیں ان میں رولا ڈالنے کی ضرورت نہیں، جو ہاتھ میں آتا ست بسم اللہ ، باقی اپنی سی وی کو مضبوط بناتے رہو اور زیادہ توجہ غائبانہ پراجیکٹس کو ”گولڈن چانس“ سمجھ کر مضبوط بنانے پر دو کی ہدایت پر کیا خوبصورت اور کمال مہارت سے عمل کیا جارہا ہے۔ کمرشل ازم کی سفید پوشی کی آڑ میں جس باریکی سے پاکستان کرکٹ کے معاملات چلائے جارہے ہیں یقین کیجیے۔

۔۔ ان کے وائٹ کالر پر بوسہ دینے کو جی چاہتا ہے۔ بعض کرکٹ کے دل جلوں کو ایسا لگے گا کہ میں نے تردیدی پریس ریلیز آنے کے خدشہ کی بنیاد پر حقائق واضح نہیں لکھے، ایسا ہرگز نہیں، سمجھداروں اور پاکستان کرکٹ کی بقاءکی خواہش کرنے والوں کیلئے اشارے ہی کافی ہیں۔ ویسے تردیدی پریس ریلیزسے اچانک یاد آیا۔۔۔ وہ ٹی ٹین لیگ وال بات پورا پاکستان کتنی جلد بھول گیا۔۔۔۔ ہیں نا ؟ بہرحال آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ پاکستان کرکٹ کی بقاءکیلئے لڑنے والے پی سی بی افسران جو ایمانداری اورملکی کرکٹ کی تباہی روکنے میں دبے الفاظ میں بھی مذمت کرتے ہیں حوصلہ نہ ہاریں۔۔۔ کیونکہ ان کی ایمانداری کی وجہ سے ہی گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں اللہ نے بڑے نقصان سے بچایا ہوا ہے۔