ویسٹ انڈیز میں پہلی دفعہ سیریزجیتی: الوادع مصباح ،یونس

West Indies Main Pehli Dafa Series Jeeti

پاکستان ویسٹ انڈیز کی 3ٹیسٹ کی اس سیر یز میں کتنے ریکارڈ بنے ،کتنے واقعا ت پیش آئے اور کتنے تنقیدی تیر چلے ۔لیکن تاریخی حقیقت یہی رہی کہ پاکستان نے 65سالہ کرکٹ کی تاریخ میں ویسٹ انڈیز میں مصباح الحق کی قیادت ،یونس خان کے ساتھ،اظہر علی کی بیٹنگ،یاسر شاہ کی باؤلنگ اور ٹیم کے باقی کھلاڑیوں کی محنت سے سیریز جیت لی

Arif Jameel عارف‌جمیل منگل مئی

West Indies Main Pehli Dafa Series Jeeti
پاکستان ویسٹ انڈیز کی 3ٹیسٹ کی اس سیر یز میں کتنے ریکارڈ بنے ،کتنے واقعا ت پیش آئے اور کتنے تنقیدی تیر چلے ۔لیکن تاریخی حقیقت یہی رہی کہ پاکستان نے 65سالہ کرکٹ کی تاریخ میں ویسٹ انڈیز میں مصباح الحق کی قیادت ،یونس خان کے ساتھ،اظہر علی کی بیٹنگ،یاسر شاہ کی باؤلنگ اور ٹیم کے باقی کھلاڑیوں کی محنت سے سیریز جیت لی۔ کوچ مکی آرتھر کی خصوصی کوشش اور ایک دفعہ پھر چیف سلیکٹر انضمام الحق کا عزم اپنی جگہ تعریف کے قابل نظر آیا۔


مختصر تجزیہ:
21 اپریل 2017ء تا 14مئی2017ء تک ویسٹ انڈیز میں کھیلی جانے والی 3 ٹیسٹ میچوں کی کرکٹ سیریزمیں پاکستان نے پہلی دفعہ اُنکی سرزمین پر سیریز میں کامیابی حاصل کی اور دوسرا اُنکی سرزمین پر پاکستان کے دو بڑے کھلاڑیوں مصباح الحق اور یونس خان نے اپنا الوادعی میچ اکٹھے کھیلا ۔

(جاری ہے)

جب دونوں تیسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں آؤٹ ہو ئے تو پہلے تو پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے دونوں کو باری باری "گارڈ آف آنر " بیٹوں(بلوں)کے سائے میں اور پھر اسٹیڈیم میں لگی اسکرین پروہاں کی انتظامیہ نے I YOU MIS لکھ کر (مصباح یونس)لکھ کر اُنھیں خراج ِتحسین پیش کیا۔

پھر سیریز میں کامیابی کی ٹرافی بھی دونوں نے مل کر اُٹھائی۔
یونس خان نے اُنکی سرزمین پر پہلے ٹیسٹ میں اپنے10 ہزار رنز مکمل کیئے اور مصباح الحق نے بحیثیت کپتان26فتوحات سمیٹ کر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
اس ٹیسٹ سیریز میں پہلے سے تیسرے ٹیسٹ تک اگر غور کیا جائے تو ویسٹ انڈیز کی وکٹیں بیٹنگ کیلئے بالکل سازگار نہیں تھیں۔ لہذ اس سیریز میں انتہائی آہستہ بیٹنگ دیکھنے کو ملی۔

صرف پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے400رنز سے زائد اسکور کیئے۔بامشکل 4سنچریاں ہوئیں 2اظہر علی نے اور2 راسٹن چیز نے کیں اور وہ بھی دونوں بلے بازوں نے دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ میں۔اس دوران پہلے ٹیسٹ میں مصباح الحق 99پر ناٹ آؤٹ رہے اور دوسرے میں 99پر آؤٹ ہو گئے۔
ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی طرف سے اہم نوجوان بلے باز احمد شہزاد،بابر اعظم اور اسد شفیق خاص کارکردگی نہ دِکھا سکے ۔

بلکہ بابر اعظم نے تین صفر بناڈالے۔ جس پر اُنکے کوچ کو مستقبل میں اُنکی بیٹنگ کو بہتر بنانے کیلئے کوشش کرنا پڑے گی ۔ تیسرے ٹیسٹ میں احمد شہزاد کی جگہ اوپنر شان مقصود کو موقع فراہم کی گیا تو وہ بھی پہلی اننگز میں9اور دوسری میں21رنز بنا سکے۔
پاکستانی اور ویسٹ انڈیز کے باؤلرز کی کارکردگی کا فی بہتر نظر آئی جسکی اہم وجہ بھی وہاں کی وکٹوں کی حالت تھی ۔

جسکی وجہ سے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو شکست ہو ئی اور آخری ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو۔سوال یہ ہے کہ اگر وکٹیں ایسی تھیں تو چوتھی اننگز میں سرفراز احمد، محمد عامر بعدازاں ویسٹ انڈیز کے راسٹن چیز انفرادی اسکور بنانے میں کیوں کامیاب ہو گئے؟
تجربہ کا ر کرکٹر جانتے ہیں کہ اِن حالات میں 11کھلاڑیوں میں سے کوئی ایک وکٹ پر کھیلنے کی کوشش میں کچھ نہ کچھ اسکور بھی کر لیتا ہے۔

جو کوئی انہونی نہیں ہوتی بس کسی ایک کی کوشش سے اسکور میں کچھ اضافہ ہو جاتا ہے۔جس میں جیت بھی ہو جاتی ہے۔لیکن اس صورت میں بھی وکٹ کی صورت ِحال اہم ہوتی ہے اور اسکے لیئے کوئی خاص منصوبندی کامیاب ہو نا بہت کم ممکن ہو تا ہے۔
بہرحال محمد عامر، محمد عباس اور یاسر شاہ نے اپنی بہترین باؤلنگ سے ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ لائن کو کھڑا نہیں ہو نے دیا ۔

خصوصاً اوپنرز کو۔تیسرے ٹیسٹ میں حسن علی کو بھی ٹیسٹ کیپ پیش کی گئی اور اُس نے بھی اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے دوسری اننگز میں3وکٹیں لیکرپاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔اگر سلیکٹرز اور کوچ اُس پر توجہ دیں تو وہ مستقبل کا آل راؤنڈر"عبدالرزاق" ہو سکتا ہے جسکی نپی تُلی باؤلنگ مخالف کیلئے مشکلات پیدا کر سکے گی۔


بہرحال پاکستان کے اہم بلے باز یونس خان اور مصباح الحق انتہائی تنقید کے باوجود شاندار کیر ئیر ریکارڈز کے ساتھ کرکٹ کی دُنیا سے ریٹائر ہو گئے ہیں ۔لہذا اب چیف سلیکٹر،کوچ اور سینئر کھلاڑیوں پر ذمہداری عائد ہوتی ہے کہ مستقبل کے نوجوان کھلاڑیوں پر نظر اُنکی کارکردگی کے حوالے سے رکھیں نہ کہ سیاست و سفارش پر۔
ویسٹ انڈیز کیلئے یہ سیریز ہارنا ایک لمحہ فکریہ ہو نا چاہیئے۔

کیونکہ اُنکے کھلاڑی اس وقت آئی پی ایل کھیل کر اپنی کارکردگی سے اُنکو دلچسپی مہیا کر رہے ہیں لیکن اُنکا ملک اُنکی غیر موجودگی میں کرکٹ کے میدان میں شکست سے دوچار ہے۔چیز، ہولڈر، گیبرئیل،بشو اور جوزف میں ایسی صلاحیتیں ہیں کہ اگر اُنکے ساتھ چند اور تجربہ کار کھلاڑی شامل ہو جائیں تو وہ ایک دفعہ پھر بہترین ٹیم کی صورت میں میدان مار سکتی ہے۔


تیسرا ٹیسٹ میچ:
ڈومینیکا کے دارالخلافہ روسوکے اسٹیڈیم ونڈسرپارک میں 10مئی 2017ء کو 3 ٹیسٹ کی سیریز کے آخری کرکٹ ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز نے نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ پہلے دِ ن بارش کی وجہ سے کھیل میں تسلسل برقرار نہ رہ سکا لہذا پاکستان نے 2وکٹوں کے نقصان پر 169 رنز بنائے اور اُسکے دو بلے باز آؤٹ ہو ئے۔

لیکن دوسرے دِن وکٹ کی حالت کو مد ِنظر رکھتے ہوئے پاکستا ن کے بلے باز محتاط انداز میں کھیلتے ہوئے مجموعی اسکور میں اضافہ کرتے چلے گئے۔ اوپنر اظہر علی نے اپنی 14ویں سنچری مکمل کی اور121رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ بابر اعظم نے 55، کپتان مصباح الحق نے 59 ، وکٹ کیپر سرفرازاحمد نے51 رنز بنا ئے اورپاکستا ن کی ٹیم376کے اسکور پر آل آؤٹ ہو گئی ۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے سپین باؤلرچیز نے4، کپتان جیسن ہولڈر نے 3، بشو نے 2اور جوزف نے1کھلاڑی آؤٹ کیا۔


ویسٹ انڈیز کی ٹیم کی کوشش تھی کہ پاکستان کے پہلی اننگز کے اسکور پر برتری حاصل کر کے میچ کو اپنے حق میں کیا جائے لیکن پاکستان کے باؤلنگ اٹیک نے اُنکے بلے بازوں کو دباؤ میں رکھا اورپہلی اننگز میں اُنکی ٹیم کو247کے اسکور پر پویلین بھیج دیا۔ اُنکی طرف سے ایک دفعہ پھر چیز نے ذمہدارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 69رنز بنائے اور دوسرے بلے بازوں میں اوپنر پاؤل 31، کپتان ہولڈر30اور ہوپ و گریگ برتھویٹ 29،29رنز بنا کر نمایاں رہے۔

پاکستان کی طرف سے محمد عباس نے اُنکی کمر توڑی اور 46رنز دیکر5وکٹیں لے کر اپنے کیرئیر کی بہترین باؤلنگ کر ڈالی۔یاسر شاہ نے126رنز دیکر3کھلاڑی آؤٹ کیئے۔ محمد عامر اوراظہر علی نے ایک ایک وکٹ لی۔
پاکستان نے پہلی اننگز کی 129رنز کی برتری کے ساتھ دوسری اننگز میں بیٹنگ کا آغاز کیا جو خاص اچھا نہ رہا ۔ پہلے اوپنر اظہر علی 3رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے اور پھر بابر اعظم تیسری دفعہ سیریز میں صفر پر آؤٹ ہو گئے۔

شان مقصود، مصباح الحق ، سرفراز احمد بھی کوئی خاص بلے بازی نہ کر سکے ۔ اس دوران یونس خان35 رنز بنا کر آؤٹ ہو ئے اور بعدازاں یاسر شاہ اور محمد عامر کی شراکت میں61رنز کا اہم اضافہ ہوا۔ دونوں نے بالترتیب 38اور 27رنز بنائے ۔جب پاکستان کی ٹیم کا 8کھلاڑی آؤٹ پر مجموعی اسکور 174ہوا تو کپتان مصباح الحق نے اننگز ڈیکلیئر کر دی۔ اُس وقت یاسر شاہ کے ساتھ حسن علی15رنز پر کھیل رہے تھے۔

ویسٹ انڈیز کی طرف سے الرازی جوزف نے3،گیبرئیل اور بشو نے2 ،2 اور چیز نے ایک کھلاڑی آؤٹ کیا۔
ویسٹ انڈیز کیلئے ٹیسٹ میچ جیتنے کیلئے ہدف تھا 304رنز اور پاکستان کیلئے تاریخی سیریز جیتنے کیلئے 10وکٹیں۔ابھی چوتھے دِن کے چند منٹ باقی تھے جس میں پاکستان کے باؤلر یاسر شاہ نے پہلی وکٹ حاصل کر لی اور 5ویں پورے دِن کا کھیل ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد اُس وقت پاکستان کے حق میں ختم ہوا جب دِن کے آخری 2اوورز رہ گئے تھے اور ویسٹ انڈیز کی آخری شراکت جاری تھی۔


یاسر شاہ میچ کاسکینڈ لاسٹ اوور کر رہے تھے جو اُنکا آخری اوور تھا۔ اُس اوور کی آخری گیند پر اُنھوں نے گیبرئیل کو آؤٹ کر کے فتح کا نعرہ لگا دیا۔14مئی 2017ء کو تیسرا ٹیسٹ بھی جیت لیا اور پاکستان کرکٹ کی 65سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ مصباح الحق کی قیادت میں ویسٹ انڈیز میں سیریز بھی جیت لی۔
دوسری اننگز میں ویسٹ انڈیز کے راسٹن چیز نے سیریز کی دوسری سنچری بنا کر اپنی ٹیم کو شکست سے بچانے کی بہت کوشش کی اور وہ101رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

اُنکا سا تھ دیا ہیٹمائر نے 25رنز بنا کر اور ایک دفعہ پھر کپتان ہولڈر نے22رنز بنا کر۔ لیکن پھر آل ٹیم202رنزپر آؤٹ ہو گئی۔ پاکستان کی طرف سے یاسر شاہ نے5اور حسن علی نے3وکٹیں حاصل کیں۔محمد عامر اور محمد عباس نے ایک ایک کھلاڑی آؤٹ کیا۔
راسٹن چیز کو اس میچ کا "مین آف دِی میچ "قرار دیا گیا اور یاسر شاہ کو سیریز میں 25وکٹیں لینے پر " مین آف دِی سیریز" کا اعزاز حاصل ہوا۔

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments