آسٹریلین اوپن 2019 جوکووچ کے نام ، نڈال کو آؤٹ کلاس کردیا

Australian Open 2019 Djokovic Ke Naam, Nadal Ko Out Class Kar Dia

سربیا کے ٹینس سٹار نے سات مرتبہ آسٹریلین اوپن جیت کر فیڈرر کا ریکارڈ توڑ دیا، ویمنز سنگلز میں اوساکا کی مسلسل دوسری ٹائٹل فتح سرینا ولیمز سمیت سیمونا ہالپ،کیرولین وزنیاکی،انجلیک کربر، پیٹرا کویٹوا ، ماریہ شیرا پواوا اور وکٹوریا آزرینکا کے خواب چکنا چور

Syed Azam Shah سید اعظم شاہ منگل جنوری

Australian Open 2019 Djokovic Ke Naam, Nadal Ko Out Class Kar Dia

سربیا کے نوویک جوکووچ نے سپین کے رافیل نڈال کو سٹریٹا سیٹس میں زیر کرکے ساتویں مرتبہ آسٹریلین اوپن کے مینز سنگلز کا ٹائٹل جیتنے کا منفرد اعزاز اپنے نام کرلیا ہے ۔دوسری جانب ابھرتی ہوئی ٹینس سٹار نیامی اوساکا نے چیک ری پبلک کی پیٹرا کوویٹوا کو ہرا کر ویمنز سنگلز کے فائنل میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ وہ 2018 کا یو ایس اوپن بھی جیت چکی ہیں اور گرینڈ سلام جیتنے والی ایشیا کی پہلی ٹینس پلیئر ہیں۔ آسٹریلین اوپن 2019 کے مینز سنگلز کا فائنل اس دفعہ سب کی توجہ کا مرکز تھا ۔ جوکووچ اور نڈال ابتدا ہی سے ایونٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آئے تھے ۔ سیمی فائنلز میں دونوں پلیئرز نے اپنے حریفوں کو سٹریٹ سیٹس میں شکست دی جس کے پیش نظر فیصلہ کن معرکے میں ان کے مابین سخت مقابلے کی توقع کی جارہی تھی ۔

(جاری ہے)

ٹورنامنٹ کے فائنل میں ٹینس حلقوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی ایک وجہ رافیل نڈال کی بیس سالہ یونانی کھلاڑی سٹیفینوس ٹیٹیپاس کے خلاف6-2,6-4,6-0 کے سکور سے فتح تھی ۔

ٹیٹیپاس نے قبل ازیں راؤنڈ آف سکسٹین میں 20 مرتبہ کے گرینڈ سلام چیمپئین راجر فیڈرر کوسخت مقابلے کے بعد 6-7,7-6,7-6,7-6 سے شکست دے کر بڑے کھلاڑیوں کے لیے خطرے کا الارم بجا دیا تھا ۔ توقع کی جارہی تھی کہ وہ نڈال کو بھی ٹف ٹائم دیں گے تاہم رافیل نڈال نے قیاس آرائیوں کے برعکس ٹیٹیپاس کو آسان مقابلے میں شکست دے کر نہ صرف ان کے مداحوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا بلکہ جوکووچ کو بھی چوکنا کردیا ۔ جوکووچ ، جو ہارڈ کورٹ کے بہترین پلیئر سمجھے جاتے ہیں،کے لیے ان فارم رافیل نڈال کا مقابلہ کرنا اگرچہ ایک چیلنج ضرور تھا تاہم ماضی کے ریکارڈ کی بدولت انہیں اپنے حریف پر نفسیاتی برتری حاصل تھی ۔یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ نڈال نے2013 کے یو ایس اوپن کے بعد ہارڈ کورٹ پر جوکووچ کے خلاف ایک بھی کامیابی حاصل نہیں کی ۔یوں جوکووچ ہر لحاظ سے اس میچ کے لیے فیورٹ تھے ۔اس کے باوجود نڈال جیسے کھلاڑی کو فائنل میں ہرانا ان کے لیے آسان نہیں تھا اور وہ اس غیر معمولی مقابلے کے لیے ذہنی و جسمانی لحاظ سے پوری طرح تیار بھی دکھائی دیے ۔ بنیادی طور پر نڈال کے زوردار فورہینڈ اور نپی تُلی سرو کا توڑ کرنا جوکووچ کی اولین ترجیح تھا جس میں نہ صرف وہ کامیاب ہوئے بلکہ عمدہ کھیل کی بدولت نڈال کے تمام حربے ناکام بنامیچ میں تاریخی فتح سمیٹی ۔

یہ پہلا موقع تھا جب نڈال گرینڈ سلام کے فائنل میں سٹریٹ سیٹس سے ہارے ۔جوکووچ نے میچ کے پہلے سیٹ میں ہی 6-3 سے کامیابی حاصل کرکے نڈال کو امتحان میں ڈال دیا تھا ۔ ایسے میں خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ دوسرے سیٹ میں نڈال جارحانہ کھیل کے ذریعے مقابلہ برابر کردیں گے مگر جوکووچ نے یہ سیٹ بھی 6-2 سے جیت کر ہسپانوی ٹینس سٹار کی مشکلات میں اضافہ کردیا ۔سربئین کھلاڑی جہاں بیک ہینڈ کے ذریعے شاندار انداز میں ریٹرن کررہے تھے ،وہیں ان کا فورہینڈ بھی لاجواب تھا ۔ یوں وہ کورٹ کے دونوں اطراف پر حاوی نظر آئے ۔ یہی نہیں بلکہ نڈال کی ڈراپ شاٹس بھی ان کے کام نہیں آئیں اور تیسرے سیٹ میں بھی انہیں 6-3 کی خفت کا سامنا کرنا پڑا۔نڈال نے پریس کانفرنس میں بھی اعتراف کیا کہ جوکووچ کے خلاف جس سطح کے کھیل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا، وہ اس میں ناکام ہوئے ۔ میچ کی خاص بات یہ تھی کہ جوکووچ نے ایک جانب تو یکے بعد دیگرے تین گرینڈ سلام ٹائٹل جیتے ،دوسری جانب سات مرتبہ آسٹریلین اوپن جیت کر سوئزر لینڈ کے راجر فیڈرر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جنہوں نے اب تک 6 مرتبہ آسٹریلین اوپن کا ٹائٹل اپنے نام کررکھاہے ۔

علاوہ ازیں انہوں نے مجموعی طور پر 15 گرینڈ سلام ایونٹس کے فائنلز میں فتوحات سمیٹ کر سابق امریکی کھلاڑی پیٹ سمپراس پر بھی سبقت حاصل کرلی ہے ۔پیٹ سمپراس نے اپنے کیرئیر میں 14 گرینڈ سلام جیتے ۔ اس فہرست میں راجر فیڈرر 20 ٹائٹلز کے ساتھ پہلے جبکہ رافیل نڈال 17 گرینڈ سلام ٹائٹلز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ ایونٹ میں شریک دیگر کھلاڑیوں میں برطانیہ کے اینڈی مرے پہلے ہی راؤنڈ میں سپین کے بوٹیسٹا کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوکر ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہوگئے تھے جبکہ جاپان کے نیشیکوری کوارٹر فائنل میں جوکووچ کے خلاف ریٹائرڈ ہرٹ ہو ئے۔ان کے علاوہ لوکس کو بھی جوکووچ کے ہاتھوں سیمی فائنل میں شکست ہوئی ۔ امریکا کے فرینسز ٹیافو،سپین کے بوٹیسٹا آگوٹ اور کینیڈا کے ملس راؤنک کا قصہ کوارٹر فائنل میں ہی تما م ہوگیا تھا۔

آسٹریلین اوپن کے ویمنز سنگلز میں رواں برس سرینا ولیمز کو فیورٹ قرار دیا جارہا تھا ۔انہوں نے اب تک 23 گرینڈ سلام ٹائٹل جیت رکھے ہیں ۔سرینا کے علاوہ کیرولین وزنیاکی، انجلیک کربر،سیمونا ہالپ،ماریہ شیراپووا، کرولینا پلسکووا،نیامی اوساکا اور پیٹر کوویٹوا بھی ایونٹ کے اعتبار سے اہم پلیئرز میں شامل تھیں۔اس کیٹگری میں بھی شائقین کی توقعات کے برعکس نتائج سامنے آئے اور سرینا ولیمز سمیت کئی اہم پلیئرز ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئیں ۔نتیجتاََ جاپان سے تعلق رکھنے والی نیامی اوساکا نے فائنل میں اپنی حریف چیک ری پبلک کی پیٹرا کوویٹوا کو دلچسپ مقابلے کے بعد 7-5,7-7,6-4 سے ہرا کر مسلسل دوسری مرتبہ گرینڈ سلام ٹائٹل جیت لیا ۔ وہ یہ منفرداعزاز حاصل کرنے والی ایشیا کی پہلی خاتون پلیئر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اوساکا نے 2015 ء کے بعد یکے بعد دیگرے گرینڈ سلام ٹائٹل جیتنے والی پہلے پہلے خاتون پلیئر ہونے کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا ہے۔دوسری جانب فائنل ان کی حریف کوویٹوا 2011 ء اور2014 ء میں ومبلڈن کے ٹائٹلز جیت چکی ہیں ۔ حالیہ ایونٹ میں بھی کوویٹوا کی کارکردگی نہایت متاثر کن رہی ۔ خصوصاََ آسٹریلیا کی بارٹی کو کوارٹر فائنل میں 6-1 اور6-4 سے ہرانے کے بعد ان کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا ۔ پیٹرا کوویٹوا کا اہم ہتھیار ان کا بھرپور سرو اور نہایت ہی عمدہ فورہینڈ ہے ۔ اسی بنا پر انہوں نے پورے ایونٹ میں مخالف پلیئرز کو پریشان کیے رکھا تاہم فائنل میں نیامی اوساکا کے خلاف ان کا اعتماد پہلی دفعہ متزلزل ہوا ۔

اوساکا نے نا تجربہ کاری کے باوجود کوویٹوا کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا اور ریلیز(Rallies ) میں کووٹیوا کی زوردار شاٹس کا نہ صرف کامیابی سے دفاع کیا بلکہ ان کے خلاف کئی اہم پوائنٹس بھی حاصل کیے۔یوں انہوں نے اس میچ میں 2-1 سے کا میابی سمیٹ کر ٹینس کی دنیا میں اپنے کھیل کا لوہا منوایا ۔مبصرین کے مطابق عالمی نمبر ایک نیامی اوساکا مستقبل قریب کے ایونٹس میں بھی بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور مزید گرینڈ سلام ٹائٹل اپنے نام کرسکتی ہیں۔ 15 کے آسٹریلین اوپن کا ایک اہم میچ 23 جنوری کو راڈ لیور ارینا میں امریکا کی سرینا ولیمز اور چیک ری پبلک کی کیرولینا پلسکووا کے درمیان کھیلا جانے والا کوارٹر فائنل تھا جس میں پلسکووا نے ڈرامائی فتح حاصل کرکے شائقین ٹینس کو دنگ کردیا۔پہلے دو سیٹس میں مقابلہ1-1 سے برابر تھا ۔ تیسرے سیٹ میں سرینا ولیمز نے نہایت آسانی سے 1 کے مقابلے میں پانچ گیمز جیت لیں اور فتح سے محض ایک شاٹ کی دوری پر رہ گئیں مگر کیرولینا پلسکووا نے حیران کن طور پر میچ میں واپس آتے ہوئے محض مقابلہ برابر ہی نہیں کیا بلکہ آخری سیٹ نہایت غیر متوقع طور پر 7-5 سے جیت کر سرینا ولیمز کو ٹائٹل کی دوڑ سے باہر کردیا ۔23 مرتبہ کی گرینڈ سلام چیمپئین کی کئی شاٹس نیٹ سے ٹکرائیں اور پلسکووا نے اس کا فائدہ اٹھایا ۔ کہا جارہا ہے کہ ان کی شکست کی ایک وجہ ان کی ایڑی کی تکلیف بھی بنی جس کے باعث وہ مطلوبہ معیار کے کھیل کا مظاہر نہ کرسکیں، حالانکہ انہوں نے ٹورنامنٹ کی فیورٹ رومانیہ کی سیمونا ہالپ کو راؤنڈ آف سکسٹین میں 6-1,4-6,6-4 سے شکست دی تھی۔جرمنی کی انجلیک کربر کا سفر بھی راؤنڈ آف سکسٹین تک محدود رہا ۔ انہیں امریکا کی کولنز نے سٹریٹ سیٹس میں 6-0,6-2 سے ہرایا جبکہ کیرولین وزنیاکو کو روس کی ماریہ شیراپووا نے راؤنڈ آف 32 میں 6-4,4-6,6-3 سے قابو کیا ۔ چار مرتبہ کی گرینڈ سلام چیمپئین ماریہ شیرپووا اس دفعہ قدر ے بہتر فارم میں نظر آئیں۔ابتدا میں انہوں نے برطانیہ کی ڈارٹ کو 6-0,6-0 اور سوڈان کی پیٹرسن کو 6-2,6-1 سے زیر کیا تاہم راؤنڈ آف سکسٹین میں آسٹریلیا کی ایشلے بارٹی نے انہیں 2-1 سے مات دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کردیا ۔اگرچہ شیراپووا نے پہلے سیٹ میں کامیابی حاصل کی تاہم اگلے دونوں سیٹس میں اپنی عمدہ کارکردگی کا تسلسل برقرار نہ رکھ سکیں ۔

ایک طرف توان کا زیادہ فوکس طاقت کے استعمال پررہا، دوسری طرف طویل مدت تک ٹائٹل فتح سے محرومی کا دباؤ بھی ان کے کھیل پر اثر انداز ہوتا رہا جس کا بارٹی نے فائدہ اٹھایا اور سیمی فائنلسٹس کی فہرست میں جگہ بنا لی۔وہ پہلی آسٹریلوی خاتون کھلاڑی ہیں جنہوں نے 2009 ء کے بعد گرینڈ سلام کے ویمنز سنگلز میں کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔امریکا کی وکٹوریہ آزرینکا بھی غیر متوقع شکست سے دوچار ہوکر پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہوگئیں جن سے اچھے کھیل کی توقعات وابستہ کی گئی تھیں۔ دیکھا جائے توسرینا ولیمز،انجلیک کربر، شیراپووا اور وزنیاکی جیسی پلیئرز کا ٹورنامنٹ سے اخراج جاپان کی نیامی اوساکا کے حق میں بہتر ثابت ہوا جنہوں نے اپنی فارم کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کوویٹوا کی کامیابیوں کا سفر روک دیا اور ایک اور ٹائٹل فتح سمیٹ کر ٹینس کے حلقوں کو پیغام دیا کہ ان کی فتوحات کی داستان رُکنے والی نہیں۔اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ویمنز سنگلز میں فیصلہ کن مرحلے سے قبل ہی ٹاپ سیڈڈ کے آپس میں مقابلے ہوئے ۔خصوصاََ ہالپ اور سرینا کے میچ سے مقابلے کی فضا بڑی حد تک تبدیل ہوئی ۔سیمونا ہالپ کے بارے میں ٹینس حلقے یقین سے کہہ رہے تھے کہ وہ فائنل میں رسائی پائیں گی تاہم سرینا نے ان کا یہ خواب پورا نہیں ہونے دیا۔ صورت حال نے حیران کن طور پر اس وقت پلٹا کھایا جب سرینا ولیمز خود کیرولینا پلسکووا کے ہاتھوں غیریقینی شکست سے دوچار ہوگئیں جس کے نتیجے میں فائنل جیتنے والی اوساکا کے لیے راستہ مزید صاف ہوگیا اور انہوں نے سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا ۔ 19سال کے پہلے گرینڈ سلام کے مینز ڈبلز میں فرانس کی جوڑی ماہوٹ اور ہربرٹ،ویمینز ڈبلز میں چین کی ژانگ شوئی اور آسٹریلیا کی سٹوسر پر مشتمل جوڑی جبکہ مکسڈ ڈبلز میں امریکا کے راجیو رام اور چیک ری پبلک کی باربرا نے کامیابیاں سمیٹیں۔ ایشیائی شائقین کے لیے آسٹریلین اوپن2019 اس لیے بھی اہم رہا کہ جاپان کی اوساکا نے دوسری مرتبہ گرینڈ سلام ٹائٹل جیتا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے ایونٹس میں وہ اس طرز کی کارکردگی جاری رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں یا نہیں ۔علا وہ ازیں ٹینس حلقوں کی نظریں فیڈرر اور نڈال پر بھی مرکوز ہیں اور اس امر میں دلچسپی لے رہے ہیں کہ یہ دونوں ٹاپ پلیئرز مستقبل کے ایونٹس میں کس حد تک اپنی فارم اور سٹیمنا برقرار رکھ کر مزید ٹائٹل اپنے نام کرتے ہیں!

مزید مضامین :

Your Thoughts and Comments