سرد جنگ کے عروج میں بھی روس اور مغربی ممالک کے مابین تجارت بند نہیں ہوئی تھی: میاں زاہد حسین

پاکستان اصولی موقف پر کمپرومائیز کئے بغیرتمام پڑوسی ممالک سے کھل کر تجارت کرے،چین ایران میں چار سو ارب ڈالر لگا رہا ہے،پاکستان بھی تجارت بڑھائے

سرد جنگ کے عروج میں بھی روس اور مغربی ممالک کے مابین تجارت بند نہیں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 اپریل2021ء) ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے سرد جنگ کے عروج میں بھی روس اور مغربی ممالک کے مابین تجارت بند نہیں ہوئی تھی اس لئے ہمیں بھی بڑھتی ہوئی غربت کم کرنے کے لئے اصولی موقف پر کمپرومائیز کئے بغیرتمام پڑوسی ممالک سے کھل کر تجارت کرنی چائیے۔

کشمیر کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک پاکستان معاشی لحاظ سے اتنا مستحکم نہ ہو جائے کہ بھارت سمیت کوئی ملک اسے ناراض کرنے کا خطرہ نہ مول لے سکے کیونکہ تمام سفارتی و سیاسی حربے ناکام ہو چکے ہیں اورجنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کشیدگی کی وجہ سے سارک کے خطے کی ترقی رکی ہوئی ہے جس میں بنیادی کردار پاکستان اور بھارت کے مابین تناؤ کا ہے۔

(جاری ہے)

بھارتی تعصب،ہٹ دھرمی اور جنگی جنون کی وجہ سے افریقہ سے زیادہ غریب اس خطے میں رہتے ہیں اور انکا معیار زندگی مسلسل گر رہا ہے جسے بہتر بنانے کا سب سے سہل راستہ رواداری اورباہمی تجارت ہے۔ پاکستان پڑوسی ممالک سے سرد تعلقات یا لا تعلق ہو کر ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ اگر ایسا ہونا ہوتا تو ستر سال میں ہو جاتا اس لئے متعلقہ پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ چین نے ایران میں چار سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کر لیا ہے جس سے ایران کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔معاہدے کے تحت ایرانی تیل اور گیس کی بحیرہ کیسپین اور قازقستان کے زریعے چین پہنچایا جائے گا، پائپ لائن بھی تعمیر کی جائے گی جبکہ خلیج فارس سے بحر اسود تک لینڈ کاریڈور بھی بنایا جائے گا جبکہ ایک ریلوے نیٹ ورک بھی بنایا جا سکتا ہے جس سے ایران کی افغانستان وسط ایشیاء اور روس تک رسائی آسان ہو جائے گی۔پاکستان بھی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران سے تجارتی تعلقات بڑھائے ، پاک ایران کاریڈور اور ایران سے گیس کی درآمد کے منصوبے کو آگے بڑھانے پر سنجیدگی سے غور کرے۔

Your Thoughts and Comments