امریکہ کا کمزور جمہوری نظام‘سیاسی تاریخ کا تلخ باب

کیپٹل ہل پر سابق امریکی صدر کے حامیوں کا دھاوا تشدد اور انتہاء پسندی کی بدترین مثال ہے

ہفتہ فروری

America Ka Kamzoor Jamhori Nizam
محبوب احمد
امریکی تاریخ میں صدر کے مواخذے کی بہت کم ہی مثال ملتی ہے،ٹرمپ وہ واحد صدر ہیں جن کے خلاف 2 مرتبہ تحریک سینیٹ میں سماعت کے مرحلے تک پہنچی،اختیارات کے ناجائز استعمال اور حلق سے انحراف کرنے کا معاملہ یقینا آئین کی کسوٹی پر بڑے جرائم اور نامناسب روئیے کے زمرے میں آتا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ الزامات پر ہونے والی ووٹنگ کے بعد اب ٹرمپ کو سزا نہیں ہو سکے گی۔

سینیٹ میں ٹرمپ کیخلاف ان کی اپنی ہی جماعت کے 7 ارکان کی طرف سے ووٹ دیئے جانے کے باوجود ڈیمو کریٹ پارٹی کا 2 تہائی اکثریت تک نہ پہنچ پانا اور سابق امریکی صدر کا سنگین نوعیت کے الزامات سے بری قرار دیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ امریکہ کا جمہوری نظام ابھی بہت کمزور ہے جو سیاسی تاریخ کا ایک تلخ باب ہے،اگر تشدد اور انتہاء پسندی کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں تو پھر 6 جنوری کو کیپٹل ہل پر حملے کے لئے کس نے اکسایا؟کیونکہ واضح ثبوت ہونے کے باوجود اس بات کا فیصلہ نہ ہونا المیے سے کم نہیں ہے۔

(جاری ہے)


مواخذے کی کارروائی کے حوالے سے یہ پیشن گوئی کی گئی تھی کہ یہ فیصلہ سابق صدر کے حق میں آئے گا اور ہوا بھی کچھ ایسا ہی،یہاں قابل غور امر یہ بھی ہے کہ سینیٹ میں ڈیمو کریٹ کے 48 ارکان کے علاوہ 7 رپبلکن اور 2 آزاد سمیت 57 نے ٹرمپ کے خلاف جبکہ 43 نے ان کے حق میں ووٹ کاسٹ کیا حالانکہ مجرم ٹھہرانے کے لئے 67 ووٹ درکار تھے، یاد رہے کہ امریکی تاریخ میں 4 مرتبہ مواخذے کی جو کارروائیاں ہوئیں ان میں یہ سب سے مختصر رہی ہے کیونکہ محض 5 روز بعد یہ ختم ہو گئی۔

جوبائیڈن انتظامیہ سمجھتی ہے کہ نئے صدر کی سیاسی حکمت عملی ”کرونا“ کے خلاف ہونے والی کامیابی،معاشی استحکام اور امریکہ کے دوسرے مسائل کے حل پر منحصر ہے وہ اس لئے ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کو اپنے مستقبل کے لئے اہم نہیں سمجھتے،نئے قوانین کی راہ میں یہ مقدمہ زیادہ رکاوٹوں کا باعث نہیں بنا۔سابق صدر کے خلاف اس مقدمے نے ایک ایسی مثال قائم کر دی ہے جس سے آئندہ سیاسی مقابلوں کیلئے میدان سج چکا ہے بنیادی طور پر یہ ٹرمپ کی فتح ہے جس سے بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ وہ 2024ء میں دوبارہ صدارتی امیدوار بن سکتے ہیں۔

ٹرمپ کے جارحانہ روئیے سے بھی یہی اشارے مل رہے ہیں کہ وہ امریکی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بجائے ایک فعال کردار ادا کرتے رہیں گے۔
امریکہ کے 46 ویں صدر جوبائیڈن کے دور کا آغاز صدارتی حکمناموں سے ہوا کیونکہ سابق صدر کی متنازع پالیسیوں کو ختم کرنے سے متعلق پہلے ہی دن جو 15 ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط ہوئے ان میں متنازع سفری پابندیوں کا خاتمہ اور تمام وفاقی املاک میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا،واضح رہے کہ ہر آنے والا امریکی صدر شروع کے دنوں میں ایسے بہت سارے حکمنامے جاری کرتا ہے ٹرمپ نے بھی ایسا ہی کیا تھا لیکن بعد ازاں انہیں عدالت میں چیلنج کر دیا گیا تاہم نئے جاری کردہ حکمناموں کا وہ انجام نہیں ہو گا جو پہلے ہوا تھا کیونکہ نومنتخب امریکی صدر کے حوالے سے یہ مشہور ہے کہ وہ قانون کی روح کو سمجھتے ہیں۔

سینیٹ کے ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب سے 35 برس تک رکن رہنے والے نومنتخب امریکی صدر کے بارے میں ایک عام تاثر یہ ہے کہ وہ مفاہمت پسند سیاستدان ہیں کیونکہ عموماً سب کو ساتھ ملا کر ہی کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔نومنتخب امریکی صدر کے ویژن پر مکمل طور پر عملدرآمد کے لئے کانگریس کو کئی قوانین کی منظوری دینا ہو گی جن میں 1.9 ٹریلین ڈالرز کے اخراجات بھی شامل ہے اور وہاں اگر ایسا ہوتا ہے تو اس میں امریکہ کے تمام شہریوں کو 1400 ڈالر کی رقم کی ادائیگی بھی شامل ہے۔


ماحولیات کا معاملہ امریکہ میں سیاسی تقسیم کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ جوبائیڈن کو اقتدار میں آنے سے پہلے یہ کہنا پڑا تھا کہ وہ اپنے دور صدارت کے پہلے ہی دن پیرس ماحولیاتی معاہدے میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کریں گے اور انہوں نے ایسا کرکے بھی دکھا دیا۔ ٹرمپ نے کینیڈا کے صوبہ البرٹا سے امریکی ریاست نبراسکا تک تیل کی ترسیل کیلئے 12 ہزار میل لمبی جوسٹون ایکس ایل پائپ لائن کی منظوری دی تھی اسے بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

امریکہ نے اقوام عالم کے تحفظات اور مسئلہ کشمیر بالائے طاق رکھتے ہوئے بھارت کے ساتھ ہمیشہ سے ہی تعلقات کو پروان چڑھایا ہے لیکن نومنتخب امریکی صدر و نائب صدر نے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی پامالی پر جو مذمتی بیانات جاری کئے ان سے امید کی ایک کرن پیدا ہوئی تھی کہ شاید اب مودی کے ظلم و ستم کی روک تھام کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے کشمیر میں جاری کرفیو کو ختم کروا دیا جائے گا لیکن تاحال ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلاء بھی ممکن دکھائی نہیں دے رہا جس سے امن معاہدہ کے اب کھٹائی میں پڑنے کے روشن امکانات ہو چکے ہیں۔ جوبائیڈن ایک ایسے دور میں صدر بنے ہیں جب ”کووڈ 19“ کی عالمی وباء زوروں پر ہے اور امریکہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں اب تک اس سے 5 لاکھ کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو چکے ہیں لہٰذا سب سے بڑا مسئلہ موذی وائرس سے نمٹنے کا انداز تھا جس پر ٹرمپ کو بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔دنیا میں ایک طرف جہاں امریکی جمہوریت پر مختلف نوعیت کے سوال اٹھائے جا رہے ہیں وہیں دوسری طرف مشرق وسطیٰ،افریقہ اور ایشیاء کو سامراج کی جارحانہ پالیسیوں نے خانہ جنگی کا شکار کر رکھا ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

America Ka Kamzoor Jamhori Nizam is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 27 February 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.