فرسودہ تعلیمی نظام اور پاکستان کا مستقبل

گزشتہ سات دہائیوں سے پاکستان میں جہاں ہر شعبہ جمود کا شکار ہے وہاں تعلیمی نظام کی بہتری ، ترقی اور مو ثر منصوبہ بندی بھی سست روی کا شکار رہی ہے‘ گذ شتہ حکومتوں کے مطمع نظر کبھی بھی تعلیمی شعبہ کی ترقی اور سنجیدہ منصوبہ بندی نہیں رہی

Sheikh Jawad Hussain شیخ جواد حسین منگل جنوری

Farsoda Taleemi Nizam
کسی بھی قوم کی ترقی اور کامیابی کا انحصار اس ملک کے تعلیمی نظام پر ہوتا ہے اور تعلیمی نظام کی کامیابی میں جہاں اس قوم کے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کا کردار اہم ہے وہاں  تعلیمی نظام کی  ٹھوس منصوبہ بندی ، نصاب اور  اس کی سمت اور منزل کا درست تعین کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری  ہے۔گزشتہ سات دہائیوں سے پاکستان میں جہاں ہر شعبہ جمود کا شکار ہے وہاں تعلیمی نظام کی بہتری ، ترقی اور مو ثر منصوبہ بندی بھی سست روی کا شکار رہی ہے‘  گذ شتہ حکومتوں کے مطمع نظر کبھی بھی تعلیمی شعبہ کی ترقی اور سنجیدہ منصوبہ بندی نہیں رہی‘ اگر یوں کہا جاۓ کہ شعبہ تعلیم گذ شتہ حکمرانوں کے ایجنڈا میں ہمیشہ آخری نمبر پر رہا ہے تو اس میں کچھ غلط نہ ہو گا-اسی لئے پاکستان کی نئی نسل کا مستقبل اس ملک کے معماروں کی بجائے ہمیشہ ان چند مفاد پرست نجی تعلیمی اداروں کی مافیا کے ہاتھوں میں رہا ہے‘ کہ جو مال و دولت کے لیے قوم کے نوجوانوں کو قومیت اور اسلام  کے  دھرے میں ڈھا لنے کی بجاے نجانے کون کون سے نظام متعارف کرواتے رہتے ہیں ۔

(جاری ہے)

آپ سب  جا نتے ہیں کہ وطن عز یز میں یکساں نظام تعلیم کی بجاۓ رنگ رنگ کا نظام تعلیم رائج ہے۔کسی تعلیمی ادارے میں امریکی نظام تعلیم ہے تو کسی میں برطانوی اور کسی میں تر کش تو کسی میں نام نہاد فرقہ واریت پر مبنی اسلامی نظام تعلیم  رائج ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر تعلیمی ادارے کی اپنی اپنی سوچ اور فکر ہے‘ ہر ادارہ نو جوانوں  کو کہ جو ملک و قوم کا مستقبل ہیں اپنے اپنے نصاب کے ذر یعہ اپنی اپنی تعین کردہ منزل کی طرف لے کر  گا مزن ہے اس سوچ اورفکر سے آزاد کہ پا کستان کو کس قسم کی افرادی قوت  کی ضرورت ہے۔

  پاکستان کا مستقبل کیا ہے اور پاکستان کو آج سے دس سال بعد کہا کھڑا ہو نا چا ئیے۔کیوں کہ اگر کسی بھی شعبہ میں کوئی مو ثرمنصوبہ بندی نہ کی جا ۓ تو ہم بحثیت قوم کوئی خاص نتائج حا صل  نہیں کر سکیں گے۔  حد تو یہ ہے کہ آج تک  ستر برس گزرنے کے باوجود حکومت پاکستان ملک میں کوئی یکسا ں تعلیمی نظام رائج نہیں کر سکی اور ظاہر ہے کہ جب تعلیمی نظام کہ جو کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے درست سمت میں نہ ہو تو پھر کیوں نہ قوم سندھی‘ بلوچی‘ پنجابی اور پختون کی آواز بلند کرے‘ کیوں نہ سا نحہ ڈ ھا کہ ہو۔

کیو نکر کشمیر آزاد ہو، آ خر کیوں نہ ملک سودی نظام کے چنگل میں ہو، کیوں نہ اسلامی جمہوریہ اسلام سے کو سوں دور ہو، آ خر کیوں نہ بچوں کو نوچ کر کوڑے دانوں میں پھنکا دیا جاۓ، آخر کیوں نہ ماوراے عدالت قتل ہوں ، آخر کیوں نہ ڈاکٹرز اور وکلا ایک دوسرے سے دست و گرباں ہوں ، آخر کیوں نہ قوم ڈیم جیسی نعمت سے محروم رہے، آخر کیوں نہ رشوت ، سفارش ، ملاوٹ اور حرص ہمارا مقدر بنے۔

آخر کیوں نہ ملک بہترین اسا تذہ سے محروم ہو، آخر کیوں نہ کو ئی غر یب انصاف کی بھیک ما نگتے ما نگتے  منوں مٹی تلے جا پہنچے۔
جب بچوں کے تعلیمی نصاب میں کسی خاص سمت کا تعین ہی نہیں کیا گیا اور تو پھر کس طرح ایک قوم معرض وجود میں آسکتی ہے‘ کس طرح ملک کے اداروں کو بہترین لوگ میسر ہو سکتے ہیں کیسے لفافہ صحافی‘ کرپٹ سیاستدان‘ ٹیکس چور بزنس مین‘ اور فرقہ واریت میں اٹے گروپوں کو پیدا ہونے سے روکا جاسکتا ہے‘ ہم کیسے اپنے ملک کی باگ ڈور اہل افراد کے سپرد کر سکیں گے۔

  ہم کس طرح فیض اور اقبال جیسے استاد قوم کو دیں  سکیں گے؟
دوسری جنگ عظیم کے دوران کچھ اہم لوگوں کی ہلاکتوں  کا معاملہ جب ہٹلر کے سامنے آیا تو ہٹلر نے تاریخی الفاظ سے اپنی قوم کی راہنمائی کی اس نے کہا کہ ”جاﺅ اور اگر چھپا سکتے ہوتو اپنے اساتذہ کو کہیں چھپا دو‘ اگر تمہارے اساتذہ بچ گئے تو وہ ایسے اہم اور ذہین لوگوں کو دوبارہ تعلیم دے کر تمہاری صفوں میں شامل کر دینگے“ ذرا سوچیئے دوسری جنگ عظیم میں مکمل طور پر تباہ و برباد ہوجانے والے جرمنی نے پاکستان سے امداد مانگی اور پھراس  مشکل گھڑی کے بعد اس قوم نے  ساری توجہ اپنے تعلیمی نظام اور انفراسٹرکچر کو ترقی د ینے پر دی کہ آج جرمنی اپنے تعلیمی نظام اور یو نیورسٹیوں سے ایک ٹکا بھی کما کر اپنی معیشت میں شامل نہیں کرتا بلکہ تعلیمی نظام  کی ترقی اور کامیابی پر خرچ کر تا ہے جر منی کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حا صل کرنےکی  غرض سے آنے والے   دنیا بھر کے طالب علم مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں‘ اسی جرمن تعلیمی نظام نے اوڈی، مرسڈیز، بی ایم ڈبلیو وکس ویگن جیسے عظیم  کاروں کو بنانے والے ماہرین پیدا کیے کہ جنہوں نے جرمنی کا لوہا پوری دنیا میں منوایا اور جرمنی میں پیدا ہونے والی اشیا کو نئی جدت دی۔

اس کے علاوہ ہمارے ہاں ڈاکٹر علامہ اقبالؒ جیسے عظیم مفکر پیدا کئے اور اسی تعلیمی نظام نے ڈاکٹر منصورالحسن علویؒ جیسے عظیم پیتھالوجسٹ پیدا کئے‘ کہ جو آج بھی ملک و قوم کیلئے مشعل راہ ہیں جنہوں نے شیخ زید ہسپتال لاہور کے زیر انتظام انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سا ئنسسز کے قیام میں اہم کردار ادا کیا جہاں مجھے بھی پاکستان سٹڈیز کے استاد کی حیثیت سے ان کے زیر سایہ بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

جنرل ضیاءالحق کے دور میں تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے چند کاوشوں کا آغاز کیا گیا‘ ان کاوشوں کے آغاز میں ایک فنڈ قائم کیا گیا جس کو اقراءسرچارج کا نام دیا گیا‘ آج کی تاریخ تک حکومتیں اقراءسرچارج کی مد میں لاکھوں اربوں روپے پاکستانی عوام سے مختلف طریقوں سے لے چکی ہیں مگر اس رقم کا ایک روپیہ بھی کبھی تعلیم پر خرچ نہیں کیا گیا‘ جنرل مشرف کے دور میں بہت سے کالجوں کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا جس کیلئے ڈاکٹر عطاءالرحمن کی کاوشیں قابل ستائش ہیں مگر سوال یہ نہیں کہ کتنے تعلیمی ادارے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا نصاب کو درست سمت میں لکھا گیا ہے؟ کیا یکساں نصاب متعارف کروایا گیا ہے؟ کیا پاکستان کی آنیوالی نسلوں کی تربیت اسی تعلیمی نظام سے ایسے ہو سکے گی کہ وہ ایک قوم اور ملت کی حیثیت سے اس ملک پاکستان کی باگ ڈور مستقبل میں احسن طریقے سے سنبھال سکیں؟  مگر اس کے بر عکس کیا ہم ایسی نسل تیار نہیں کر رہے جو امریکہ‘ برطانیہ اور یورپ میں زندگی گزرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم ایسے لوگوں کا ہجوم پیدا نہیں کر رہے کہ جو اپنی منزل اور راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں جن کے ہیرو صلاح الدین ایوبی اور ٹیپو سلطان کی بجائے مائیکل جیکسن اور جیکی چن ہیں جن کو مغربی نظام زندگی نے اس قدر متاثر کر رکھا ہے کہ آج ان کو پاکستان سے نکلنے کا موقع ملے تو وہ پاکستان کو چھوڑ کر بھاگ نکلیں گے۔

میرا مقصد یہ نہیں کہ پاکستان سے باہر سفر کرنا درست نہیں یہ تو ہمارے نبی کریمﷺ کا بھی فرمان ہے کہ ”علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین کیوں نہ جانا پڑے“ یقینناتعلیم حاصل کرنے کی غرض سے سفر کرنا یا کاروبار کیلئے ہجرت کرنا درست ہے مگر اپنے ملک کیلئے ایک قوم ہونے کی سوچ نہ رکھنا غلط ہے‘ اپنے ملک کو کسی گنتی میں نہ لانا اور اس کیلئے کچھ کرنے کا جذبہ نہ رکھنا افسوس ناک ہے۔

جنگ کے دوران جب صاحب علم قیدی مسلمانوں کی تحویل میں آتے تو حضرت محمدﷺ ان قیدیوں سے جہاں نہایت اعلیٰ سلوک فرماتے تھے وہاں ان کو یہ بھی حکم دیتے کہ ”اگر تم کسی بھی مسلمان کو تعلیم دو گے تو تمہاری سزا ختم کر دی جائے گی“ تعلیم کی یہ اہمیت تھی نبی آخرالزمانﷺ کی نظر میں اور پھر قرآن پاک میں بھی پہلی بات ہی اقراءہے کہ پڑھ‘ یہ ہے اسلام میں تعلیم کی اہمیت‘ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس میں ہر ہر طرح سے زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی دی گئی ہے‘ اس میں قانون معاشرت‘ معیشت اور تعلیم کا ایک مکمل ضابطہ حیات موجود ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو درست انداز میں نافذ کیا جائے۔

کیا پاکستان میں کوئی قرآن ریسرچ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے کہ جہاں قرآن کی ہر آیت پر ریسرچ کی جائے اور اپنی پالیسیاں اور نظام اس ریسرچ سینٹر کی سفارشات کے مطابق عمل میں لائی جائیں۔ کیا کسی نے کبھی سوچا ہے کہ اس قرآن ریسرچ یونیورسٹی میں 6666 شعبہ جات بنائے جائیں‘ ہر شعبہ صرف ایک آیت قرآنی پر ریسرچ کرےاور اس کا فائدہ پوری نسل انسانی کو ہو - اگر ہم ایسا کر سکیں تو شاید ہم فلاح پا جائیں۔

گزشتہ 70سال سے ہم نے کتنے محقق‘ سائنسدان‘ ریسرچر‘ فلاسفر‘ قانون دان اور ہسٹری کے استاد پیدا کئے ہیں کہ جن کو پوری دنیا میں بوعلی سینا اور جابر بن حیات کی طرح تسلیم کیا جائے۔ اس فرسودہ‘ زنگ آلودہ ‘ نظام تعلیم سے نہ تو کوئی فائدہ ہے ۔اور نہ ہی اس سے قوم کو کوئی منزل حاصل ہو گی۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نافع علم عطا فرماۓ اور پھر ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو عمل صالح کی توفیق عطا فرماۓ۔
آخر میں بس یہی کہوں گا کہ خدا ہمارے حال پر رحم فرمائےاور ہمیں اپنے اسلاف سے سبق سیکھنے اور یکساں تعلیمی نظام کے ذریعے کہ جس کی کوئی منزل اور مقصد ہو  ہمیں ایک ملک کے بعد ایک قوم بن کر دنیا کے نقشے پر اُبھارے۔  آمین

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Farsoda Taleemi Nizam is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 07 January 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.