آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات بے نتیجہ

گزشتہ روز حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے جس کے بعد آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو فی الوقت قرضہ جاری نہیں کیا جائے گا۔

منگل نومبر

imf ke sath mazakraat be nateeja

احمدجمال نظامی

  معاشی و اقتصادی حلقوں کے مطابق حکومت کے پاس یہ اچھا موقع ہے کہ آئی ایم ایف سے جان چھڑا لے جبکہ دوسری طرف سعودی عرب سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ایک ارب ڈالر کی امداد حاصل کی جا چکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان سعودی اور چین کے دورے کے بعد ابوظہبی اور ملائیشیا کا دورہ بھی کر چکے ہیں جس حوالے سے حکومتی حلقے بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں تاہم ملکی معیشت اس وقت ہچکولے کھا رہی ہے۔ موجودہ حکومت کی طرف سے معیشت کی زبوں حالی پر بار بار لب کشائی کی جا رہی ہے اور سارا ملبہ سابقہ حکومت پر ڈالا جا رہا ہے۔ وزیرخزانہ اسدعمر اور وزیراعظم عمران خان سے لے کر تقریباً تمام حکومتی وزراء اور میڈیا کے سامنے حکومتی فرنٹ مین معیشت کی بدحالی کا واویلا کرتے ہوئے سابقہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

دیگر ممالک کی طرح وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کے دورے پر بھی گئے جہاں سے حکومت کو تین ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات کی مد میں تقریباً 6ارب ڈالر کا پیکج مل گیا۔ حکومت اسے اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے اور یقینی طور پر ہمارے ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر جس نہج پر کھڑے ہیں سعودی عرب سے بیل آؤٹ پیکج ملنا اور وہ بھی آئی ایم ایف کے قرضے سے پہلے حاصل ہونا ایک کامیابی ہے۔ سٹیٹ بینک کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر کا پیکج ملنے کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم اور برآمدات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ وزیرخزانہ اسدعمر نے اس بیل آؤٹ پیکج کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جو بات کہی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آئندہ آئی ایم ایف سے جو قرضہ حاصل کیا جائے گا اس کی شرح میں کمی لائی جائے گی اور یہ پاکستان کا آئی ایم ایف سے حاصل کیا جانے والا آخری قرضہ ہو گا لیکن تاحال حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ہیں۔ حکومت سے قبل بھی انتخابات سے پہلے اور انتخابات کے بعد تحریک انصاف کے مختلف عہدیداران جن میں عمران خان اور اسدعمر بالخصوص شامل ہیں وہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ کسی طور پر آئی ایم ایف سمیت کسی بھی غیرملکی مالیاتی ادارے سے قرضہ حاصل نہیں کیا جائے گا لیکن بعدازاں خود اسدعمر کو یہ کہنا پڑا کہ اگر آئی ایم ایف کے پاس گئے تو یہ پہلی دفعہ نہیں ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی وزیرخزانہ اسدعمر کو آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کی اجازت دے دی اور اس طرح سے آئندہ ماہ آئی ایم ایف کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے بعد موجودہ حکومت آئی ایم ایف سے اپنے دوراقتدار کے دوران پہلی مرتبہ قرض حاصل کرے گی۔ آئی ایم ایف ہو یا ورلڈ بینک یا ایشین ڈویلپمنٹ بینک، یہ سارے عالمی مالیاتی ادارے ترقی پذیر ممالک میں مختلف معاشی و اقتصادی ایجنڈوں کو لے کر بظاہر آتے ہیں لیکن ان کی کڑی شرائط اور معاشی و اقتصادی پالیسیوں میں حد سے زیادہ مداخلت ایسے کسی بھی ملک کی معیشت کی مزید زبوں حالی کا موجب بن جاتے ہیں۔ پاکستان بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے اسی قسم کے مسائل کا شکار ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ 1999ء میں جب پرویزمشرف نے نوازشریف کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹا تو اس دور میں وزیراعظم کی حیثیت سے نوازشریف قرض اتارو ملک سنوارو مہم چلا رہے تھے۔ جب نوازشریف کو اقتدار سے باہر کیا گیا اور پرویزمشرف سال 2000ء کے نام نہاد ریفرنڈم میں باوردی صدر منتخب ہو گئے تو انہوں نے ایک مرتبہ پھر یہ واویلا کیا کہ ملکی خزانہ خالی ہے اس لئے آئی ایم ایف ، ورلڈبینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے پاس جانا ضروری ہو چکا ہے۔ پرویزمشرف نے آئی ایم ایف سے بھاری بھر کم قرضے حاصل کئے اور بہت سارے لوگوں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ شوکت عزیز کو وزیراعظم صرف اس لئے بنایا گیا تھا کہ ایک بڑا عالمی مالیاتی ادارہ ایسا چاہتا تھا اور شوکت عزیز بیرون ملک ایک بڑے بینک کے اعلیٰ ترین افسر تھے جنہیں ملک میں لا کر وزیراعظم بنایا گیا جس کا مقصد عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے ان کے ذریعے وطن عزیز میں نج کاری کروانا تھا۔ پاکستان سٹیل مل کی نج کاری پر شوکت عزیز کے کردار کی بنا پر ہی پرویزمشرف آمرانہ حکومت کا اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے ایک فیصلے پر پھڈا پڑ گیا تھا اور اس پھڈے کے نتیجہ میں ملک میں عدلیہ کی آزادی کی جو تحریک چلی جس میں سول سوسائٹی اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے احباب نے شرکت کی تو پرویزمشرف کو بالاخر اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا۔ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کسی دور میں بھی پاکستان کو اپنے شکنجے سے آزاد نہیں ہونے دیتے اور ہر آنے والی حکومت اگر واقعی مجبور ہو کر عالمی مالیاتی اداروں جیسے کہ آئی ایم ایف وغیرہ سے قرضے حاصل کرتی ہے تو پھر آئی ایم ایف اور ورلڈبینک وغیرہ کی پالیسیوں کے اصرار کے نتیجہ میں وہ حکومت متواتر معاشی و اقتصادی بحرانوں کی زد میں دھنستی چلی جاتی ہے اور نتیجتاً وطن عزیز میں حکومتوں کو عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے کشکول کرنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا۔ ان مسائل پر وزیراعظم عمران خان تحریک انصاف کے چیئرمین کی حیثیت سے 2018ء کے عام انتخابات سے قبل سیرحاصل روشنی ڈالتے رہے ہیں لیکن افسوس اب ان کی حکومت بھی آئندہ آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے جا رہی ہے۔ اگر اب فوری طور پر آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل نہیں ہو رہا تو حکومت اپنے وعدے کے مطابق پاکستانی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرے لیکن خودانحصاری کا نعرہ فی الوقت ایک مفروضے اور خواب سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ اگر حکومت خودانحصار ی کا عملاً نفاذچاہتی ہے تو آئی ایم ایف سے پانچ سالوں میں مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور معیشت سے متعلقہ تمام معاملات کو نظرانداز کرنے کی بجائے اس پر بھرپور توجہ دینا ہو گی لیکن موجودہ حالات و واقعات اس امر کی طرف غمازی کر رہے ہیں کہ حکومت فی الوقت صرف اور صرف زرمبادلہ کے ذخائر، حکومتی اخراجات، درآمدی بل وغیرہ کی سوچ سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ وزیرخزانہ اسدعمر بینکنگ سسٹم سے مختلف اقسام اور سیکٹرز کی رقم کو بیشتر شعبوں میں ٹیکنیکی انداز میں منقسم کرنا چاہتے ہیں مگر سوال وہیں آ کر رکتا ہے کہ آخر کس طرح ایک مصنوعی انداز کو اپنا کر مستقل بنیادوں پر معیشت کو رواں دواں رکھا جا سکے گا۔ شوکت عزیز کے دور کا دوبارہ تذکرہ کریں اس دور میں آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہر طرف پیسے کی گردش دوچند ہو گئی تھی اس کی بنیادی وجہ بینکنگ سیکٹر کے ذریعے پلاسٹک منی کو عام کرنا اور زیادہ سے زیادہ غیرملکی مالیاتی اداروں سے قرضے لے کر سٹیٹ بینک کے ذریعے نجی مالیاتی اداروں میں زر کی گردش کو رواں دواں رکھنا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جیسے ہی پرویزمشرف حکومت اقتدار سے باہر گئی تو پیپلزپارٹی کی حکومت آتے ہی آصف علی زرداری کو اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو کہنا پڑا کہ آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دیں اور قرضے کی اقساط کا دور شروع کیا جائے جس پر اس وقت نوازشریف پیپلزپارٹی کو آئی ایم ایف سے اجتناب کرنے کا مشورہ دیتے رہے لیکن بعدازاں 2013ء کے عام انتخابات کی صورت میں حکومت قائم ہونے پر نوازشریف کو بھی آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دینا پڑی۔ اب پرویزمشرف کی آمریت کے بعد یہ تیسری جمہوری حکومت ہے جسے آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دینی پڑی ہے۔ عمران خان اور ان کی کابینہ میں شامل وزراء نے دعوے تو بہت کئے تھے آئندہ کے لئے بھی وہ بڑے دعوے کر رہے ہیں۔ کرپشن کے خاتمے کے ذریعے وہ معیشت کو سنبھالا دینے کی باتیں بھی کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ عمران خان پانچ سالوں میں کیا کرتے ہیں۔ اگر وہ ان پانچ سالوں میں پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کے شکنجے سے باہر نکال جائیں تو یہ ہی ان کی بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

Your Thoughts and Comments

imf ke sath mazakraat be nateeja is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 27 November 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.