جوبائیڈن کی کابینہ میں خواتین کا اضافہ

132 سالہ تاریخ میں پہلی بار وزارت خزانہ کسی خاتون کے سپرد

جمعہ فروری

Jeo biden ki cabinet mein khawateen ka izafa
بشریٰ شیخ
امریکہ میں انتقال اقتدار کا مرحلہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہے۔نومنتخب صدر جوبائیڈن نے اپنی مکمل ٹیم کا بھی اعلان کر دیا ہے۔وزیر خزانہ کیلئے فیڈرل ریزرو کی سابق سربراہ جینیٹ یلن کے نام کا اعلان کیا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کی 132 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہو گا جب ایک خاتون امریکہ کے محکمہ خزانہ کی قیادت کریں گی۔

دیکھا جائے تو نومنتخب صدر کی معاشی ٹیم میں بھی خواتین کا دبدبہ ہے۔بائیڈن نے انتظامی اور بجٹ کے امور سے متعلق محکمے کی ڈائریکٹر کیلئے نیرا ٹنڈن کا انتخاب کیا ہے۔سینیٹ سے اُن کی منظوری کی صورت میں ٹنڈن پہلی ایشیائی امریکی خاتون ہوں گی جو اس عہدے کی سربراہی کریں گی۔ٹنڈن اس وقت سینٹر فار امریکن پروگریس نامی تنظیم کی صدر ہیں۔

(جاری ہے)

نومنتخب صدر نے ویلی ایڈیومو کو وزیر خزانہ یلن کا نائب مقرر کیا ہے وہ پہلی افریقی نژاد امریکن ہیں جو محکمہ خزانہ میں یلن کے بعد عہدے میں دوسرے نمبر پر ہوں گی۔

جوبائیڈن نے لیبر اکانومسٹ سیسیلیا روز کو وائٹ ہاؤس کونسل آف اکنامک ایڈوائزرس کی سربراہ نامزد کیا ہے وہ پہلی سیاہ فام خاتون ہوں گی جو یہ عہدہ سنبھالیں گی۔بائیڈن نے جیرڈ برسٹین اور ہیتھر بوشی کو اکنامک کونسل کارکن منتخب کیا ہے۔جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ہمیں کرونا پر قابو پانا ہے اس لئے یہ ٹیم فوری طور پر امریکی عوام کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے کام کرے گی اور معیشت کو پٹری پر لائے گی۔


یاد رہے کہ الیکشن کے بعد بائیڈن نے کرونا وائرس پر قابو پانے اور معیشت کی بحالی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا تھا۔جوبائیڈن نے اپنی حکومت میں خواتین کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دے کر امریکی سیاست میں نئی تاریخ رقم کی ہے۔نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو وزارت خزانہ کے عہدے کے لئے نامزد کیا ہے۔

جینیٹ یلن اس سے قبل فیڈرل ریزرو بینک کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔یلن نے 2014ء سے 2018ء تک بطور چیئر پرسن فیڈرل ریزرو خدمات سر انجام دی ہیں اور وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔انہوں نے اپنی نامزدگی کے بعد کہا تھا کہ امریکہ کو اس وقت بڑا چیلنج درپیش ہے۔بطور وزیر خزانہ وہ تمام امریکیوں کے امریکی خواب کی تعمیر نو کیلئے پرعزم رہیں گی۔

بائیڈن نے اسی روز سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکہ کو درپیش معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔نئی حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی ،نئی معاشی ٹیم کووڈ۔19 کی وبا سے متاثرہ لوگوں کی امداد اور امریکی معیشت میں ساختی عدم توازن کو درست کرنے کی کوشش کرے گی۔
بائیڈن کی کابینہ میں نائب صدر سے لے کر وزارت خزانہ اور خفیہ اداروں کی کمان تک سبھی خواتین سنبھالیں گی،نیا صدر،نئی ٹیم،نئی تاریخ، جوبائیڈن نے امریکہ کو چلانے کیلئے ایسی ٹیم بنائی ہے،جس کی مثال امریکی تاریخ میں نہیں ملتی۔

امریکی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون نائب صدر ہے،کملا ہیرس سینیٹر اور کیلی فورنیا کی اٹارنی جنرل بھی رہ چکی ہیں،امریکی وزارت خزانہ اور خفیہ اداروں کی قیادت کرنے والی بھی خواتین ہوں گی۔ایورل ہینز کو ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس نامزد کیا گیا ہے۔سفارت کاری کا 35 سالہ تجربہ رکھنے والی لنڈا تھامس گرین فیلڈ کو اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نامزد کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کا قلم دان دینے کیلئے ایک تارک وطن کیوان نژاد الحاندرو مایور کاس کا انتخاب کیا گیا ہے،نئے امریکی وزیر خارجہ اوباما انتظامیہ میں کام کرنے والے انتھونی بلنکن ہوں گے۔جوبائیڈن کے مشیروں میں بھارتی اور پاکستانی نژاد شہری بھی شامل ہیں،پاکستانی نژاد علی زیدی ڈپٹی نیشنل کلائمٹ ایڈوائزر اور سلمان احمد خارجہ پالیسی کی ٹیم میں شامل ہیں۔

کشمیری نژاد سمیرہ فضیلی کو نیشنل اکنامک کونسل کا ڈپٹی ڈائریکٹر نامزد کیا گیا ہے،اسی طرح کشمیری نژاد عائشہ ڈیجیٹل اسٹریٹیجی کے لئے پارٹنر شپ منیجر ہوں گی۔
جوبائیڈن کی اہلیہ ڈاکٹر جل بائیڈن وائٹ ہاؤس کی نئی مہمان اور خاتون اول ہیں۔جل بائیڈن ایک سلجھی ہوئی اور سمجھ دار محب وطن خاتون ہیں۔انہوں نے امریکیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے امریکیوں میں جو تقسیم کی لکیر کھینچی ہے جوبائیڈن اسے ختم کریں گے۔

انہتر سالہ جل بائیڈن ان کلیدی ریاستوں کے دورے کیے جہاں سے اس کے شوہر کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی اور ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی توقعات کے برعکس ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔مختلف مواقع پر اپنے خطابات میں ڈاکٹر جل بائیڈن نے کسی سیاسی تعلق یا تفریق کے بغیر سب کو یکساں الفاظ میں مخاطب کیا۔دیہات ہوں یا شہر،ری پبلیکن کے حامی ہوں یا ڈیمو کریٹس کے حامی،انہوں نے امریکیوں کی صفوں میں وحدت کی بات کی۔

انہوں نے کئی مواقع پر کہا کہ کووڈ 19 کی وبا کسی خاص سیاسی طبقے کے خلاف نہیں بلکہ یہ پورے امریکی عوام کے خلاف ہے اور اس کے معاشی نتائج بھی سب کو یکساں اٹھانا ہوں گے۔جل کی جوبائیڈن کے ساتھ شادی 1977ء میں ہوئی۔جوبائیڈن کی پہلی بیوی کی وفات اور ایک بیٹی کی ٹریفک حادثے میں موت کے پانچ سال بعد وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ جوبائیڈن کی پہلی اہلیہ سے دو بیٹے بو اور ہنٹر تھے جو اس وقت کم سن تھے۔

1981 ء میں جوبائیڈن اور جل آشلی نامی بیٹی کے ماں باپ بنے۔بچی کی پیدائش کے بعد کچھ عرصے جل نے حصول تعلیم کا عمل روک دیا مگر جلد ہی انہوں نے یہ سلسلہ بحال کیا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی وہ اب بھی تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں اور امریکہ کی شمالی ورجینیا کی ایک یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن نے سیاہ فام کملا ہیرس کو نائب صدر کا امیدوار چن کر امریکی انتخابات میں نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

امریکی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا جب کوئی سیاہ فام خاتون نائب صدر کی امیدوار کی حیثیت سے صدارتی انتخابات میں حصہ لے گی۔سینیٹر کملا ہیرس پرائمریز کی دوڑ میں جوبائیڈن کی حریف تھیں اور ان کی جانب سے اپنی سابقہ حریف کو بطور نائب صدر منتخب کرنا بہت سے سیاسی پنڈتوں کیلئے حیران کن فیصلہ ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق 55 سالہ ہیرس بائیڈن کی نائب کی حیثیت سے تقریری ڈیمو کریٹ پارٹی کیلئے ان انتخابات میں گیم چینجر ہیں۔

وہ 1984ء میں ڈیمو کریٹک جیرالڈین فریرو اور 2008ء میں ریپبلکن سارہ پیلن کے بعد کسی بڑی جماعت کیلئے تیسری خاتون اور پہلی سیاہ فام خاتون نائب صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئیں وہ کیلیفورنیا کی اٹارنی جنرل کے طور پر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون تھیں اور امریکی سینیٹ میں خدمات انجام دینے والی دوسری سیاہ فام خاتون ہیں جن کی جڑیں جنوبی ایشیاء سے ملتی ہے۔بطور اٹارنی جنرل وہ کبھی کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں یہاں تک کہ بعض معاملات میں انہوں نے سابق صدر باراک اوباما کے فیصلوں کو بھی مسترد کر دیا۔2012ء میں ڈیمو کریٹس کی نیشنل کانفرنس میں دبنگ خطاب سے انہوں نے سیاسی طور پر مقبولیت حاصل کی تھی۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Jeo biden ki cabinet mein khawateen ka izafa is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 19 February 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.