ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے خوراک میں خود کفالت ناگزیر

کسانوں کا معاشی استحصال بند کرکے پانی کی تقسیم منصفانہ کرنا ہو گی

جمعرات 25 نومبر 2021

Mulki Taraqi O Khushhali Ke Liye Khoraak Mein khud Kifalat Naguzeer
رحمت خان وردگ
زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور زراعت سے پاکستان کو سالانہ کھربوں روپے آمدن ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے کسان اور زراعت پر حکومت بہت ہی کم رقم خرچ کرتی ہے اسی لئے گزرتے وقت کے ساتھ پاکستان کی دیہی آبادی بڑے شہروں کی جانب منتقل ہو رہی ہے اور بڑے شہروں پر آبادی کے بے پناہ دباؤ کے باعث بڑے شہروں کی حالت زار خراب سے خراب تر ہوتی چلی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں اس وجہ سے مسلسل تیزی آ رہی ہے کیونکہ زراعت پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں رہی اور کسان اپنی زمینوں سے مناسب روزگار نہ ملنے کے باعث اپنا یہ پیشہ ترک کرکے شہروں کو منتقل ہو رہے ہیں جبکہ ہر حکومت آئی ایم ایف‘ورلڈ بینک اور اسلامی ممالک سے قرض لے کر قومی خزانے میں بڑھتے ڈالرز پر فخر محسوس کرتی رہی ہے۔

(جاری ہے)

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرض لینے کا سلسلہ تبھی رک سکتا ہے جب ہم کسان کی حالت زار بہتر بنانے کو اولین ترجیح دیں۔
گندم‘کپاس اور گنے کی قیمتوں کا مناسب تعین اور سرکاری ریٹ پر مکمل فصل کی خریداری یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت کسانوں کو فصل بوائی کے وقت معیاری کھاد‘بیج‘زرعی ادویات اور زرعی مشینری آسان شرائط پر فراہم کرے اور وافر پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جانا چاہئے اور فصل آنے پر کسانوں سے ان چیزوں کی مناسب قیمت لی جائے کسی بھی سیاسی جماعت کا یہ دعویٰ سراسر غلط ہے کہ ہماری حکومت میں پاکستان خوراک میں خود کفیل ہوا حقیقت یہ ہے کہ جنرل مشرف کی حکومت سے قبل تمام حکومتیں بیرون ملک سے غیر معیاری گندم درآمد کرتی تھیں اور گندم کی بیرون ملک خریداری‘شپمنٹ‘اسٹوریج‘ٹرانسپورٹ غرض ہر ہر مرحلے پر کمیشن مافیا اپنے پیٹ بھرتی تھی اور پاکستان میں ایسا مافیا موجود ہے جس کا یہاں مقامی لوٹ مار سے پیٹ نہیں بھرتا بلکہ بیرون ملک سے چیزوں کی خریداری کرکے اپنا پیٹ بھرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور جنرل مشرف کے دور سے قبل پاکستان خوراک میں خود کفیل نہیں تھا اور بیرون ملک سے ہر سال غیر معیاری گندم درآمد کی جاتی تھی۔

بیرون ملک سے آئی ہوئی 3 کلو چینی اور 3 کلو گندم مقامی ایک ایک کلو چینی اور گندم کے برابر ہوتی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنی پارٹی کے پنجاب کے کسانوں کی کانفرنس طلب کی جو مناسب نہیں۔ملک بھر کے تمام کسانوں کو مدعو کرکے کسان کانفرنس ہونی چاہئے جس طرح جنرل مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسلام آباد میں کسان کانفرنس طلب کی اور کسانوں سے تجاویز طلب کی گئیں اور کانفرنس میں پیش کی گئی کسانوں کی تقریباً تمام تجاویز جنرل مشرف نے منظور کرکے فوری طور پر گنا 350 روپے فی من ‘گندم 1000-1200 روپے من اور کپاس 3000 روپے من مقرر کی اور سرکاری ریٹ پر تمام فصلوں کی خریداری کو یقینی بنایا اور پھر ملک خوراک میں خود کفیل ہو گیا۔

حکومت باقاعدگی سے سال میں 2 بار بھل صفائی کرائے اور اس کا آغاز ابھی سے ہونا چاہئے۔پانی کی تقسیم بھی منصفانہ ہونی چاہئے۔جنرل مشرف نے 1999-2000ء میں گنا 350 روپے من مقرر کیا تھا تو 20 سال گزرنے کے بعد اب موجودہ حکومت زیادہ نہیں تو 500 روپے من گنے کی قیمت مقرر کرے۔کپاس کی قیمت کم از کم 4 ہزار روپے من اور گندم کم از کم 2500 روپے من ہونی چاہئے۔
بھارت کی آبادی ایک ارب 26 کروڑ ہے اور اتنی بڑی آبادی کے لئے بھی بھارت خوراک میں خود کفیل ہے اور بھارتی پنجاب میں فی ایکڑ پیداوار پاکستان کی نسبت بہت زیادہ ہے کیونکہ وہاں کھاد‘بیج اور زرعی ادویات معیاری بھی ہیں اور پاکستان کی نسبت ان چیزوں کی قیمتیں بھارت میں بہت کم ہیں اور وہاں کی حکومت کی زراعت پر خصوصی توجہ ہے اور کسان کو ہر سطح پر سبسڈی دی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں نہ تو کھاد معیاری ملتی ہے اور نہ ہی بیج اور زرعی ادویات کا معیار درست ہے اور غیر معیاری چیزوں کی بھی قیمتیں بہت زیادہ ہیں لیکن حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی برائے نام ہے جبکہ زراعت کا شعبہ ملک کو سالانہ کھربوں روپے دیتا ہے لیکن حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔


زراعت کی ترقی اور خوراک میں خود کفالت کے لئے کسان کو وافر پانی کی دستیابی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور نہری علاقوں کے علاوہ ٹیوب ویل سے آبپاشی والے علاقوں کے زمیندار اسی وقت خوشحال ہو کر بھرپور محنت کر سکتے ہیں جب انہیں ٹیوب ویل چلانے کے لئے ماہانہ فکس بجلی بل ادا کرنا ہو یا بہت کم قیمت میں فی یونٹ ادائیگی کا نظام رائج کیا جائے تو زراعت ترقی کرے گا اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے باعث ڈیزل سے ٹیوب ویل چلا کر کاشتکاری کرنے والے زمینداروں کو تو فصل میں سراسر نقصان کا سامنا ہے اور کئی لوگوں نے سال میں 2-3 فصلیں لینے کے بجائے صرف گندم کی فصل کاشت کرنے کا طریقہ کار اپنا رکھا ہے کیونکہ ڈیزل سے ٹیوب ویل چلا کر فصل نقصان میں جاتی ہے اور کسان کو اپنی محنت بھی نہیں مل پاتی اس سلسلے میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کو خصوصی توجہ دیکر زراعت کے لئے موٴثر پالیسیاں تشکیل دینی ہوں گی اور بہتر تو یہ ہے کہ جنرل مشرف کی طرح موجودہ حکومتیں بھی کسان کانفرنس طلب کریں اور کسانوں کے اپنے مطالبات اور چارٹر آف ڈیمانڈ کے عین مطابق پالیسیاں تشکیل دے کر اس پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں تو ملک میں موجود آٹا اور چینی مافیا کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خوراک میں خود کفالت کے باوجود حکومت کی غلط پالیسیاں اور ذخیرہ اندوز مافیا کی کارستانیاں بھی عام آدمی کے لئے مشکلات اور مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔جب تک اپنے ملک کی ضرورت کی وافر گندم اور چینی موجود نہ ہو‘ دوسرے کسی بھی ملک کو دینا سراسر اپنی عوام سے زیادتی ہے۔ایسے لوگوں کو اختیارات دینا جو خود آٹا اور چینی کے بحران کے ذمہ دار ہیں سراسر غلط طریقہ کار ہے اور اس سلسلے میں حکومت کو مناسب فیصلے کرکے ذخیرہ اندوز مافیا کے خلاف سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Mulki Taraqi O Khushhali Ke Liye Khoraak Mein khud Kifalat Naguzeer is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 25 November 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.