نیپال کے بعد سری لنکا بھی بھارت کے ہاتھ سے نکل گیا

وزیراعظم عمران خان کا دورہ کولمبو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے

جمعہ مارچ

Nepal Ke baad Sri Lanka bhi india ke hath se nikaal giya
رابعہ عظمت
موجودہ عالمی سیاسی و اقتصادی تناظر میں وزیراعظم عمران خان کا دورہ سری لنکا دور رس و مثبت نتائج کا حامل ہے بلاشبہ یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے اور بھارت کے برعکس دنیا کے سامنے پاکستان کا خطے میں ایک متوازن کردار ابھر کر سامنے آرہا ہے جس کے لئے وزیراعظم عمران خان کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کا عکس وزیراعظم کے استقبال اور سری لنکا میں مختلف تقریبات سے خطاب کے دوران دیکھا گیا۔سری لنکا اور پاکستان سارک تنظیم کے اہم اراکین ہیں‘دونوں نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے،دونوں کو بھارت کی سازشوں کا سامنا رہا‘دونوں چین کے تعاون سے خطے میں تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کا نیا ڈیزائن ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔

(جاری ہے)

یہ امر بھی اہم ہے کہ دونوں ممالک کے باہمی دفاعی تعلقات میں بہتری کے امکانات پر نئے سرے سے کام شروع کر دیا گیا ہے۔دو روزہ دورے کے دوسرے روز مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے سلسلے میں پاکستانی کوششوں کا ذکر کیا۔دونوں ملکوں نے تجارت،سرمایہ کاری،سائنس اینڈ ٹیکنالوجی،ٹورازم اور کلچر کے شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کا فروغ دینے کا عزم کیا ہے اور اس حوالے سے سمجھوتے کی پانچ یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔


اس حقیقت کو نظر انداز کرنا دونوں ملکوں کے حق میں نہیں کہ ایک ہی خطے میں واقع ہونے اور باہمی قریبی تعلقات کے باوجود پاکستان اور سری لنکا کے مابین تجارت کا حجم وہ نہیں،جو دو دوست ملکوں کے درمیان ہونا چاہیے،حالانکہ اشیاء کی ایک پوری فہرست بنائی جا سکتی ہے جو دونوں ملک ایک دوسرے کے ہاں سے منگوا سکتے ہیں۔خطے میں عوام کو غربت کے دلدل سے نکالنے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے تجارتی تعلقات ناگزیر ہیں جبکہ اس حقیقت سے سبھی آگاہ ہیں کہ تجارتی معاملات سرمایہ کاری سے وابستہ ہیں۔

دونوں ملکوں میں ٹیکسٹائل، تعمیراتی مواد،زری پروسیسنگ اور دوا سازی کی صنعت سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تجارت،سرمایہ کاری اور شراکت کی خاصی گنجائش موجود ہے‘جس سے فائدہ اٹھانا وقت کا تقاضا ہے۔دونوں ممالک کے پاس ایک دوسرے کی بنیادی مصنوعات کیلئے مارکیٹیں موجود ہیں۔چائے کی مصنوعات کیلئے پاکستان ایک اہم مارکیٹ ہے،جہاں ہر سال اربوں روپے کی چائے درآمد اور استعمال کی جاتی ہے۔


 2005ء میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تجارت 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھی جو 2018ء میں بڑھ کر 50 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہو گئی۔تجارت کے توازن کی بات کی جائے تو یہ ہمیشہ پاکستان کے حق میں رہا ہے۔پاکستان سری لنکا کو بنیادی چھوٹے ہتھیار سپلائی کرتا رہا ہے۔دونوں ممالک کی مشترکہ فوجی مشقیں ہوتی رہی ہیں۔پاکستان اور سری لنکا کے عسکری تعلقات لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلم (ایل ٹی ٹی ای) کے ساتھ جنگ کے دوران مضبوط ہوئے۔

اس وقت پاکستان نے ایل ٹی ٹی ای سے مقابلہ کرنے کے لئے سری لنکا کی فوج کو اسلحہ فراہم کیا۔1971ء کے دنوں میں بھارت نے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں جھگڑوں کے دوران اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی۔اس وقت سری لنکا نے مغربی پاکستان کو فضائی راستہ فراہم کیا۔جو دہلی سرکار کو سخت ناگوار گزرا کہ پاکستان کو چھوٹا سا ہمسایہ ملک یہ سہولت دے بھارت کو کیسے پسند آتا اسی لئے اس نے سری لنکا کو سبق دینے کے لئے تاملوں کی سرپرستی شروع کر دی اور گوریلا کارروائیوں کے لئے تامل قوم کی تربیت کرنے کے سلسلے کا آغاز کیا تاکہ تامل ناڈو کو سری لنکا سے جدا کیا جا سکے۔

مقصد سری لنکا کو پاکستان کے ساتھ پر سزا دینا تھا۔اندرا گاندھی نے پاکستان کو دولخت کرنے کے بعد یقین کر لیا کہ اب جنوبی ایشیا میں بھارت کا مقابلہ کرنے کی کسی ملک میں سکت نہیں اس لئے بالادست بھارت خطے کے تمام ممالک کو تسلیم کرنا ہو گا مگر اس سوچ کا یہ نتیجہ نکلا کہ ابھی تک بنگلہ دیش کے سوا خطے کے کسی ملک سے اچھے تعلقات نہیں۔
مارچ 2009ء میں لاہور میں کرکٹ ٹیسٹ میچ کے دوران سری لنکن ٹیم کی بس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاکستان میں طویل عرصہ تک بین الاقوامی میچز نہ ہو سکے۔

بعد ازاں سری لنکن کرکٹ بورڈ نے پاکستان جانے کا فیصلہ کھلاڑیوں کی ایما پر چھوڑ دیا تھا۔رپورٹس بتاتی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے دورے کے موقع پر سری لنکن میڈیا پر پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے چرچے رہیں۔سری لنکا کے موجودہ صدر راجا پکسے نے بطور فوجی افسر پاکستان میں تربیت حاصل کی۔انہوں نے صدر بننے کے بعد بھی پاکستان سے انتہائی قریبی تعلقات استوار رکھے۔

خانہ جنگی کے دوران پابندیوں کے باوجود پاکستان نے سری لنکا کی مدد کی۔پاکستان نے انٹیلی جنس اور جدید جنگی سازو سامان کی فراہمی جاری رکھی۔سری لنکن میڈیا میں پاکستان کی دیرینہ دوستی کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) نے سری لنکن فضائیہ کے پائلٹوں کو جدید خطوط پر تربیت دی ہے۔سری لنکا کے فوجی افسران اب بھی پاکستانی اداروں سے تربیت حاصل کرتے ہیں جبکہ سی پیک اور گوادر تجارتی دنیا کو پاکستان سے جوڑنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

سری لنکا کے ساتھ تعلقات میں گہرائی سے پاکستان کے تزویراتی اور معاشی مفادات کا حصول آسان ہو سکتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں سری لنکا اور نیپال وہ دو ممالک ہیں جن کے ساتھ پاکستان نے پچھلی چند دہائیوں کے دوران نسبتاً متوازن اور تعاون پر مبنی تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔سری لنکا کا جغرافیائی مقام اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔پاکستان اور چین کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے سے سری لنکا کو خارجہ پالیسی میں اپنی خود مختیاری برقرار رکھنے اور معاشی مواقعے کو وسیع کرتے ہوئے اضافی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

سری لنکا کے جنوبی سرے میں واقع ہمبنٹوٹا کی اسٹرٹیجک بندرگاہ اگلے 100 برس کے لئے چین کے حوالے کی گئی ہے اور یہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی ایک اہم کڑی ہے۔چین کے ساتھ ان مضبوط روابط نے ہندوستان کو مشتعل کر دیا ہے۔اس معاہدے نے امریکہ کو بھی بے چین کر دیا ہے جس کو ”اسٹرنگ آف پرل“ حکمت عملی کا ایک حصہ سمجھا جاتا ہے۔ جس کے تحت چین بحیرہ جنوبی چین میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔

پاکستان اور سری لنکا کے مابین تعلقات بین الاقوامی سفارت کاری کے تسلیم شدہ اصولوں پر مبنی ہیں۔پاکستان اور سری لنکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے اور ان پر عمل درآمد مستقبل کی راہیں متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے اور خطے میں ترقی کے ایک نئے عہد کا آغاز ہو گا۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ سری لنکا خطے کا اہم ملک بن چکا ہے۔یہ کہنا غلط نہیں کہ نیپال کے بعد سری لنکا بھی بھارت کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے اور یہاں سے بھی ہندوستان کی چھٹی ہو گئی ہے۔

نہ صرف بھارت بلکہ امریکہ کی بھی یہی خواہش ہے کہ کولمبو ان کے ہی ہاتھ میں رہے۔سی پیک خطے کا اہم ترین منصوبہ ہے اور پاکستان سی پیک کا اہم جزو ہے اور سری لنکا کا ون بیلٹ روڈ کا حصہ بننے کے بعد بلاشبہ یہ منصوبہ علاقائی روابط کے فروغ کی نئی راہیں کھولنے کا سبب بنے گا۔زمینی حقائق یہ ہیں کہ سارک تنظیم ،جو جنوبی ایشیائی ریاستوں کی ترقی و خوشحالی میں موٴثر کردار ادا کر سکتی تھی،بھارتی حکمرانوں کی عدم دلچسپی اور ہمسایہ ملکوں کے معاملات میں مداخلت کے طور طریقوں کے باعث علاقائی تعاون و ترقی کے حوالے سے سر دست غیر فعال نظر آتی ہے جبکہ کرونا کے باعث ان ملکوں کے معاشی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ ایسی کیفیت ہے جس میں خطے کے ممالک دو طرفہ رابطوں اور معاہدوں کی صورت میں تعاون و ترقی کی کاوشیں امکانی حد تک جاری رکھ کر سارک کی عملی بحالی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس کی مدیر نیرو پما سبرا منیم کا کہنا ہے کہ ’سری لنکا کے آزاد ہونے کے بعد سے ہی پاکستان اور سری لنکا کے مابین تعلقات رہے ہیں۔ان دونوں کے درمیان کاروباری،عسکری،دفاعی اور ثقافتی ہر سطح پر اچھے تعلقات رہے ہیں۔

عسکری تعلقات زیادہ مضبوط ہیں۔جس طرح انڈیا اور سری لنکا کے مابین تعلقات ہیں اسی طرح سری لنکا اور پاکستان کے بارے میں بھی کہہ سکتے ہیں۔ تاہم نروپما سبرا منیم کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں پاکستان کا اتنا کردار نہیں ہے جتنا انڈیا کا ہے۔اس معاملے میں چین اور بھارت مد مقابل ہیں۔اگر پاکستان اور سری لنکا کی عوام کے درمیان تعلقات کی بات کریں تو نروپما سبرا منیم کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی عوام کا پاکستان میں خیر مقدم کیا جاتا ہے۔

سری لنکا کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انھیں بہت پیار اور احترام ملتا ہے۔عمران خان کا یہ دورہ خارجہ تعلقات کو بہتر بنانے کی ایک کوشش ہے۔وزیراعظم عمران خان کے اس دورے کی ایک بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ سری لنکا میں کرونا کے باعث انتقال کر جانے والے مسلمانوں کی نعشوں کو 2 نذ کے پس منظر میں آتش کیا جا رہا تھا مگر عمران خان صاحب نے سری لنکا کے صدر اور وزیراعظم کو قائل کیا کہ آپ مسلمانوں کی لاشوں کو جلانے کی بجائے انہیں مذہبی روایات کے مطابق دفنانے کی اجازت دیں اور اسلام آباد واپسی سے پہلے سری لنکن حکومت کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہو گیا کہ آج سے کرونا سے انتقال کرنے والے کسی مسلمان کی میت کو جلایا نہیں جائے گا بلکہ ان کی مذہبی رسومات کے مطابق باقاعدہ تدفین کی جائے گی۔


وزیراعظم عمران خان نے اس فوری اور عملی پیش رفت پر سری لنکن حکومت کا شکریہ ادا کیا۔کئے گئے ٹویٹ میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ کووڈ 19 سے جاں بحق ہونے والوں کی تدفین کی اجازت دینے کے حوالے سے سری لنکا کی حکومت کے سرکاری نوٹیفکیشن کے اجرا کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس پر سری لنکا کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق وزیراعظم پاکستان سری لنکا کا دورہ کر کے بھارت کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ان کا ملک اب خطے میں تنہا نہیں ہے اور مستقبل میں علاقائی طاقت کے طور پر اہم کردار ادا کرے گا۔

بلاشبہ پہلے افغانستان اور اب سری لنکا وزیراعظم کئی محاذ پر ملکی ساکھ کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی سیاست میں جنوبی ایشیا کی دوسری جوہری طاقت کو سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی طرف گامزن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاہم وزیراعظم کے اس دور کو بین الاقوامی بحری مشقیں”میں دیکھا جا سکتا ہے۔ان فوجی مشقوں میں سری لنکا بھی شامل تھا۔

پاکستان نے علاقائی اور بین الاقوامی بحری افواج کے ساتھ مل کر ان مشقو ں کا جو انعقاد کیا وہ دراصل “بھارت کے لئے ایک سبق تھا کہ پاکستان علاقائی سطح پر اب الگ تھلگ نہیں ہے۔سری لنکا کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش نے بھی ان مشقوں میں حصہ لیا اور اس طرح بھارت کا جو مذموم ایجنڈا ہے کہ پاکستان کو علاقائی سطح پر تنہا کر دیا ہے،اس زہریلے پروپیگنڈہ کے تاثر کو زائل کرنے میں مدد ملی ہے۔

بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان وزیراعظم کے سری لنکا کی پارلیمان سے خطاب کی منسوخی کے پیچھے نئی دہلی کے خدشات تھے کہ کہیں عمران خان دیرینہ تنازعہ کشمیر نہ اُٹھا دیں۔سری لنکا کو بھی اس بات کی فکر تھی کہ پاکستانی وزیراعظم اپنے خطاب میں سری لنکا میں مسلم اقلیت کے حقوق کے حوالے سے بھی بات کر سکتے ہیں مگر بھارت کو اس معاملے میں منہ کی کھانا پڑی جب سری لنکا حکومت نے عمران خان کے پارلیمان سے خطاب کی منسوخی کے علان کی وضاحت کرتے ہوئے بیان دیا کہ خطاب کی منسوخی کی وجہ سے کووڈ 19 کی پابندیاں اور ضوابط تھے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Nepal Ke baad Sri Lanka bhi india ke hath se nikaal giya is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 05 March 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.