پاکستان میں جمہوریت کو درپیش مشکلات

بنیادی طور پر جمہوریت ایک ایسی حکومت کا نام ہے جسے سادہ زبان میں عوام کی حکومت بھی کہا جا سکتا ہے۔ آمریت کے برخلاف اس طرزِ حکومت میں تمام فیصلے عوامی نمائندے کرتے ہیں۔

عدینہ الٰہی پیر جون

Pakistan Main Jamhoriyat Ko Dar
بنیادی طور پر جمہوریت ایک ایسی حکومت کا نام ہے جسے سادہ زبان میں عوام کی حکومت بھی کہا جا سکتا ہے۔ آمریت کے برخلاف اس طرزِ حکومت میں تمام فیصلے عوامی نمائندے کرتے ہیں۔ اس نظامِ حکومت میں محکوم اپنے حکمرانوں کو اور ووٹر اپنے نمائندوں کے فیصلوں پر عبور رکھتے ہیں، اور ووٹر کا اپنے منتخب کردہ  نمائندوں پر اختیار ہوتا ہے۔

جمہوریت کا خلاصہ اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو عوام کے لئے ،عوام کے ذریعے، عوام کی حکومت جمہوریت کہلاتی ہے۔ جمہوری نظام میں عوامی عہدہ رکھنے والے صدر، وزیر اعظم، گورنر، وزیر اعلیٰ، ایم این اے، ایم پی اے اوردیگر  جملہ افسران کے مفادات کی بجائے آئین طاقت ور ہوتاہے۔ ساری دنیا میں حکمرانی کا کوئی ایسا قابل ذکر نمونہ  نہیں جو جمہوریت کا مقابلہ کرسکے،کیونکہ یہ آج کے زمانے میں سب سے زیادہ پسندیدہ اور کامیاب طرز حکومت ہے۔

(جاری ہے)

جمہوریت کی جامع تعریف میں علمائے سیاست کا بڑا اختلاف ہے، لیکن بحیثیت مجموعی اس سے ایسا نظام حکومت مراد ہے جس میں عوام کی رائے کو کسی نا کسی شکل میں حکومت کی پالیسیاں طے کرنے کے لیے بنیاد بنایا جاتا ہے ۔
جمہوریت اک طرزِحکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

اگر پاکستان میں جمہوریت کے سفر اور اس کے ثمرات کی بات کی جائے تو قیام پاکستان سے اب تک71 سالوں میں جمہوریت مستحکم نہیں ہو سکی۔

جمہوریت کو ہمیشہ خطرات لاحق رہے ہیں، غیر جمہوری قوتوں نے متعدد بار جمہوریت کو نشانہ بنایا ہے۔ جہاں جمہوریت سینہ سپر ہے وہاں کلیدی کارکردگی کے پیمانے عوام کے حالات میں بہتری لانے میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔جمہوری ملکوں میں بھی عوام کے حقوق سلب کرنے والے افراد کی کمی نہیں ہے۔ تاریخ پر نظر ثانی کریں تو پتا چلتا ہے کہ لفظ ’’جمہوریت‘‘ ایک دلکش کہاوت کے طور پرعوام کو سبز باغ دکھانے کے طور پر بھی استعمال ہوتاآیا ہے۔

ایسی جمہوریت میں طاقتور طبقات سیاست پر قابض ہوجاتے ہیں اور ایسی پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں جن کا فائدہ صرف اور صرف  اشرافیہ کو پہنچتا ہے۔ ملک کے وسائل امیر طبقات کے درمیان ہی  گردش کرتے رہتے ہیں ۔ایسے میں امیر امیر تر اور عوام غریب سے غریب تر ہوتے رہتے ہیں۔بالکل یہی صورتحال ہمارے ملک پاکستان میں بھی نظر آتی ہے۔پاکستان بھر میں الیکشن کے دنوں میں تمام سیاسی پارٹیاں جمہوریت کی بالا دستی کا نعرہ لگاتی ہیں، قوم کو جمہوریت کے فروغ کا درس دیتی ہیں اور بعض اوقات تو  برسرِ اقتدار  حکمرانوں کے غیر جمہوری افعال اور آمرانہ روش کا واویلا کرتی نظر آتی ہیں۔

اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں اقتدار کے مزے لوٹتی رہی ہیں اور خود ان کے افعال میں جمہوریت کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دیتی ۔
اگر سیاست سے نکل کر ملکی حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ملکی معیشت کو اس سلسلے میں بہت نقصان پہنچا۔ ڈیزل کی قیمت ڈبل کر دی گئی جس کی وجہ سے تیل کے بجلی گھر ،جو نصف سے زائد بجلی پیدا کرتے تھے ،ان کی پیداواری قیمت بھی دوگنا ہو گئی۔

روپے کی قیمت میں اچانک ہونے والی  کمی نے بھی معیشت پر برا اثر ڈالا۔ تیل سے چلنے والی زرعی مشینری اور اس پر آنے والے اخراجات میں اس قدر اضافہ ہوا تو زراعت کو بھی دھچکا لگا۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ سے صنعتوں کی پیداواری صلاحیت نے دم توڑ دیا۔ برآمدات کا گراف گرا اور درآمدات کے اضافہ سےملکی قرضوں  میں اضافہ ہونے لگا۔
پاکستان میں جمہوری اداروں میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے اسمبلیوں میں اہل افراد کی ہمیشہ کمی رہی ہے۔

اسکی بڑی وجہ سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت بھی ہے۔ اپنا عرصہ حکومت  پورا نہ کرنے کے بعد مظلوم بن جانا، تمام سیاستدانوں کا نعرہ بن جاتا ہے۔ اس طرح قومی ترقی کی سوچ رکھنے والے سیاستدانوں اور ملکی دولت لوٹنے والے سیاستدانوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ اگر عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا جائے، جو اپنی مدت انتخاب پوری کرے، تو اگلے الیکشن میں قوم خود اپنے انتخاب پر نظر ثانی کرتی ہے۔


یہ بات طے ہے کہ جمہوریت ایک ایسا سیاسی نظام ہے جس میں گڈ گورننس بنیادی تقاضہ ہے، جس جمہوریت میں گڈ گورننس نہ ہو اسے جمہوریت نہیں کہا جاسکتا۔ پاکستان کے قانون کے مطابق تو ملت کے تمام افرادکو معاشرتی اور معاشی حقوق حاصل ہیں ۔ جمہوری نظام کے باوجودہمیشہ  امراء ہی اقتدار پر قابض نظر آتےہیں اور امراء کی اس حکمرانی میں غریب عوام کے ساتھ  جس طرح کا سلوک رواء رکھا جاتا رہا ہے اس کی کسی جمہوری ملک میں مثال نہیں ملتی۔

پاکستان میں جمہوریت کے جس ماڈل پر عمل کیا جاتا رہا ہے اس کا نہ تو علامہ اقبال کے جمہوری تصور سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی قائد اعظم ایسا پاکستان چاہتے تھے جہاں امیر و غریب میں امتیاز برتا جائےیا  جس نظام میں شہریوں کو مساوی حقوق و مواقع میسر نہ ہوں۔
پاکستان کی جمہوریت یقیناً نقائص سے پاک نہیں اورغیرمنظم بھی ہے لیکن آخری تجزیے میں یہ ایک مزاحمتی عمل ہے ۔

یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسکا سہرہ  سیاستدانوں کے  نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کے سر  جاتا ہے۔دوسری بات یہ کہ اگرچہ فوج کا ملکی تحفظ کے لیے رات دن کام کرناداد طلب ہے  لیکن اب اس سے بھی انکار ممکن نہیں رہا کہ محض فوجی طاقت پاکستان کے مسائل حل کرنے کے لیے کافی نہیں۔ پاکستان کے کئی بڑے مسائل مثلا غربت،ماحولیاتی تبدیلی، خواتین کی ترقی وغیرہ یہ وہ مسائل ہیں جنہیں ملکی افواج حل نہیں کر سکتیں۔

ان مسائل کے حل کے لیے عوام اور عوامی نمائندوں کی خصوصی توجہ درکار ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ جمہوریت محض انتخابات کا نام نہیں ہے ۔ یقیناً انتخابات کو آزادانہ اور شفاف ہونا چاہیے لیکن نتائج آنے اور نئی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد بنیادی توجہ شفاف اور موثر حکمرانی پر ہونی چاہیے۔ اکیسویں صدی کی پائیدار جمہوریت مضبوط ارادوں  پر قائم  ہے جس میں منتخب نمائندوں کے پاس عملی طور پراور پالیسی سطح پرحقیقی اختیار ہونا چاہیے ۔

دوسری طرف جمہوریت ایسے سیاست دانوں کا تقاضا کرتی ہے جوعوام کے مفادات کو اپنے ذاتی مفادپر ترجیح دیں  اور ملکی قوانین کا احترام کرنے پر تیار ہوں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جمہوریت کے تسلسل کا جشن منائیں اور قومی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر ووٹ ڈالیں لیکن اس بات کو ہر گز فراموش نہ کریں کہ جمہوریت کوئی ایسا احسان نہیں جو حکمران اپنی رعایا پر کرتے ہیں۔

تمام دنیا کی طرح پاکستان میں بھی جمہوریت سیاست دانوں کی بازپرس کرنے، آزاد میڈیا کا تحفظ کرنے، طاقت کے سامنے کلمہ حق کہنے اور خواتین، نوجوانوں اور  اقلیتوں سمیت ہر کسی کو مساوی حقوق دینے کا نام ہے۔اور ایک بہترین سیاسی نظام بنانے کے لیے تمام افراد کو ایک قوم کی صورت میں یکجا ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ اور صرف اسی صورت میں  ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صحیح شکل سامنے آسکتی ہے۔
 جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Pakistan Main Jamhoriyat Ko Dar is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 10 June 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.