سالہا سال سے زیر التواء مقدمات کا فیصلہ کب ہو گا؟

مہنگائی کا اژدھام،غریب عوام اور حکومتی ترجیحات! لیبرکورٹس میں مزدوروں لکا کوئی بھی پر سان حال نہیں

پیر اپریل

Saal ha Saal Se Zair Eltawa Muqadmaat Ka Faisla Kab Ho Ga
 غازی احمد حسن کھوکھر
وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے 72برس ہو چکے ہیں مگر قیام پاکستا ن کے مقاصد تاحال پورے نہیں ہو سکے۔پاکستان کیوں بنا اور اس کے کیا مقاصد تھے؟۔ترقیاتی کام تو برطانوی دور میں بھی ہوئے تھے ۔
ریلوے ،دریائی ونہری نظام ،عدالتی نظام، ہسپتال ،پہاڑوں کے سینے چیر کر طویل غاروں کے ذریعے دشوار راستے آسان بنائے گئے تھے ،عام آدمی کے تنازعہ میں انصاف ہوتا تھا جبکہ بڑوں کوکوئی سزا نہیں دی جاتی تھی ۔

پاکستان بننے سے آج تک بھی وہی طریقہ رائج ہے ۔
اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست میں تمام غیر اسلامی طور طریقے جاہ وجلال کے ساتھ اپنی
”ہیبت“قائم کئے ہوئے ہیں۔ ملاوٹ ،جھوٹ ،بے انصافی ،لوٹ مار،غیر مساوی نظام ،اقرباء پروری ،
رشوت ،کمیشن خوری ،ظلم وزیادتی ،ذخیرہ اندوزی سمیت مہنگائی کا عروج ہے ۔

(جاری ہے)

پاکستان میں آج بھی مزدور ،کسان ،مزارع،بیوہ ،یتیموں ،معذوروں کو حقوق نہیں مل سکے تو اس کا ذمہ دارکون ہے ۔

؟
عوام کو ہمیشہ جھوٹے نعروں ،جھوٹے دعوؤں پر ”طفل تسلیاں “دی گئیں جبکہ سیاستدانوں ،صنعتکاروں ،جاگیر داروں ،بیوروکریسی اور ان کے چہیتے رفقاء نے کروڑوں اربوں روپے لوٹے ،مزدوروں ،غریبوں کے حصے میں بھوک افلاس ،ظلم وزیادتی ،بے انصافی آئی ،بے روزگاری کے اژدھا نے جہاں تعلیم یافتہ وہنر مند نوجون نسل کو اپنے خونخوارجبڑوں کے ذریعے دبوچ کر نگلنا شروع کر رکھا ہے وہاں مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان مسلسل سفید پوش طبقہ کو پریشان کئے ہوئے ہے۔


سونے ،چاندی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے غریب کی بیٹیو ں کے تو خواب چکنا چور ہو ہی چکے تھے کہ کوئی غریب مزدور ،بیوہ اپنی بیٹیوں کی تولہ، دو تولہ زیوردے سکے ،اب سفید پوش اور مڈل کلاس طبقہ کو بھی محروم کر کے ان کے خواب بھی چھین لئے گئے ہیں ۔انسانی ادویات کی قیمتوں میں کئی گناہ اضافہ پھر خودرومہنگائی نے عوام کا جینا محال کرکے رکھ دیا ہے ،اب عام اور سفید پوش طبقے کیلئے موجودہ ہوشرباء مہنگائی کے دور میں جسم وروح کا رشتہ بر قرار رکھنا ناممکن ہو گیا ہے ۔


حکومت نے ”لچھے دار“تقاریروں پر فریب نعروں کے ذریعے عوام کے دل لبھاتے ہوئے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور پھر وزیرا عظم نے بلا خوف وخطر اور شرم محسوس کئے بغیر ”یوٹرن“لینے کا برملا اظہار کر دیا اور اپنی غیر سنجیدگی ،غیر ذمہ دارانہ، ناتجربہ کاری کی بناپر عوام پر مہنگائی مسلط کردی ۔پٹرول ،ڈیزل اور دیگر اشیاء ضروری کی قیمتوں میں آئے روز ہی نہیں ہر لمحہ مہنگائی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے غریبوں ،
دیہاڑی داروں ،گھروں میں کام کرنے والے بالغ اور نابالغ بچوں ،بوڑھوں اور صنعتی اداروں میں قلیل اُجرت پر جان توڑ محنت کرنے والوں کا کیا حشر ہورہا ہے ،ان کے شب وروز کس طرح بسر ہورہے ہیں ؟۔


اس وقت غریب طبقہ سخت پریشان ہے موجودہ حکومت نے مہنگائی کی دوڑ میں 70سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے کسی عام شہری کیلئے مکان بنانا یا خرید ناناممکن ہوتا جارہا ہے ۔صنعتی اداروں میں مزدوروں کا استحصال ہورہا ہے ۔12سے14گھنٹے کام کرنے والے کو مقررہ تنخواہ 15ہزار روپے پر عمل آمد نہیں ہورہا،اب وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے مزدور کی بنیادی تنخواہ 15سے16500روپے مقرر کی ہے جو کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے جس سے مزدور مکان کا کرایہ،بچوں کی تعلیم ،بجلی ،گیس ،واسا کے واجبات ،
طبی سہولیات حاصل کر سکے اور روزانہ بچوں کو تین وقت کا کھانا اور تن ڈھانپنے کیلئے کپڑے ،جوتے خرید سکے ۔

حکمرانوں اور عوامی نمائندوں کو عوامی مسائل اور مشکلات کا ادر اک نہیں ہے ؟حالانکہ یہ عوام میں ہی رہتے ہیں اور اشیائے ضروری اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں بارے انہیں علم نہیں ہے جب تک عدل وانصاف کا معاملہ ہے پولیس ودیگر اداروں میں عام آدمی کے ساتھ منصفانہ رویہ اپنا یا جاتا ہے ؟ہر گزنہیں۔
عدالتوں میں غریب مزدور کے ساتھ حقیرانہ رویہ اپنایاجاتا ہے ۔

عدالتی اہلکاروں بارے جج حضرات سمیت عوامی رائے منفی قائم ہو چکی ہے ۔کیا جج صاحبان انصاف کررہے ہیں ؟لیبر کورٹس کے جج صاحبان کو بھاری تنخواہیں ،مراعات ،ٹی اے ڈی اے دےئے جارہے ہیں ۔لگژری گاڑیاں اور ان کی مرمت وفیول سمیت قومی خزانہ سے ملتا ہے جبکہ جن مزدوروں کیلئے لیبر کورٹس اور لیبر ادارے قائم ہیں ان کو صنعتی وسرکاری اداروں سے حقوق ومراعات نہیں ملتے۔

ٹھیکیداری نظام کے تحت مزدوروں کو مستقل مزدور کے حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
لیبر عدالتوں میں سالہا سال مقدمات چلتے ہیں ۔مزدور تھک ہار کر مایوس ہو جاتے ہیں ۔لیبر عدالتوں میں پریذائیڈنگ آفیسرز کا مزدوروں اور مزدورنمائندوں کے ساتھ نفرت وحقارت انگیز رویہ ہوتا ہے جبکہ صنعتکاروں اور سرکاری اداروں کے افسران کو مظلوم سمجھاجاتا ہے ،اس وقت آٹے میں نمک برابر ہی مزدور اپنے حقوق کی خاطر عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں انہیں بھی دھکے ملتے ہیں جو سراسر ظلم وزیادتی ہے ،مزدور طبقہ موجودہ حکومت سے بھی مایوس ہو چکا ہے ۔


افسوس کی بات ہے کہ گریڈ 17اور اس سے اوپر کے افسران جن میں ڈائریکٹرز ،انجینئر ز ،پروفیسرز شامل ہیں ہڑ تالیں کرکے قانون کی دھجیاں بکھیررہے ہیں جنہیں پاکستان میں انسانی وقانونی حقوق باقاعدگی سے ملتے ہیں اور مراعات کی بھر مار بھی انہی پر ہے جبکہ درجہ چہارم کے ملازمین پر پیڈاایکٹ2006ء استعمال ہورہا ہے یہ اعلیٰ گریڈ کے افسران جوسول سرونٹ ہیں ان پرپیڈاایکٹ کا استعمال نہیں کیا جاتا جو خود بر ملا احتجاج وہڑ تال کرنے کا اعتراف بھی کرتے ہیں اور الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا پر ان کے جلسے ،
جلوس ،مظاہرے اور ہڑتالیں رپورٹ ہوتی ہیں ۔


کیا عدالت عظمیٰ ،عدالت عالیہ اور ذمہ دار اداروں کے سر براہان ان کے احتجاج اور ہڑتالوں سے بے خبر ہیں ؟اور سارے قانون اور قواعد وضوابط درجہ چہارم کے ملازمین کیلئے ہیں ؟،موجودہ حکومت معاملات کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے اور حکومت میں کوئی ایسا قابل ذکر سیاسی رہنما نہیں جو بگڑے حالت کو سنبھالادے سکے،سابقہ حکومت پر الزام لگانا پر اناوطیرہ ہے جانے والا کہتا ہے میں خزانہ چھوڑ کر جارہا ہوں جبکہ نیا حکمران کہتا ہے سابقہ حکمران خزانہ خالی کر گئے ہیں جو بھی ہو ذمہ داری موجودہ حکومت کی ہوتی ہے تمام حالت کی خرابی کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے جسے حالات کو سدھار نے کیلئے سنجیدہ کوشش کرنی چاہئے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Saal ha Saal Se Zair Eltawa Muqadmaat Ka Faisla Kab Ho Ga is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 22 April 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.