سعودی وژن 2030ء سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا عزم

پاکستان علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن تعاون کرے گا

جمعرات 11 نومبر 2021

Saudi Vision 2030
امیر محمد خان
وزیر اعظم عمران خان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر ”مڈمل ایسٹ گرین انیشیٹو“ MGI کے سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچے،معاشی طور پر بدحال ملک کا وزیر اعظم جب کسی دوست اور امیر ملک کا دورہ کرتا ہے تو اس کی عوام کو امیدیں وابستہ ہو جاتی ہیں کہ معاشی ریلیف کیلئے کوئی امداد آئے گی،خاص طور پر سعودی عرب کی لازوال دوستی سے پاکستانی عوام کو بہت امیدیں وابستہ ہوتی ہیں اور سعودی عرب ہمیشہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی امیدوں پر بڑے بھائی کی حیثیت میں پورا بھی اُترتا ہے۔

پاکستان کے عوام کی امیدوں اور پاکستان کے معاشی حالات کے پیش نظر سعودی حکومت نے ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب سے پاکستان واپسی کے دوسرے روز ایک مرتبہ پھر 4.2 billion $ کے امدادی پیکج کا اعلان کیا جس میں 1.2 billion $ موٴخر ادائیگی پر تیل اور 3 billion $ پاکستان کی ادائیگیوں کو بہتر بنانے کیلئے بنک ڈپازٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔

(جاری ہے)

سعودی عرب نے موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی دیگر ممالک کی طرح بنک ڈپازٹ دیئے تھے۔


سمجھدار لوگوں کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ جب دوست ممالک معیشت کو سہارہ دینے کیلئے مالی تعاون کریں تو ہماری پوری توجہ معیشت کی بحالی پر ہونا چاہئے مگر بدقسمتی سے ہماری معیشت جہاں 3 سال قبل کھڑی تھی آج اس سے بدتر حالت میں ہے۔3 سال کے دوران 3 وزیر خزانہ تبدیل ہونے کے بعد بھی کوئی اللہ دین کا چراغ نہ لا سکا۔یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ اب اللہ دین کا چراغ کا زمانہ نہیں عمل کا زمانہ ہے۔

وزراء خزانہ نے بھی ہر آنے والی حکومت کی طرح معیشت کو مثبت ہو جانے کے دعوے کئے اور اپنی تعیناتی کے چند ماہ بعد ڈھیر ہو کر آئی ایم ایف کا شکار ہو گئے،بقول موجودہ حکومت کے سابقہ حکومتیں تو کرپٹ تھیں لہٰذا معیشت کو سدھارنے کیلئے بہت وقت ہے۔معیشت کے سدھارے والوں کا جب یہ حال ہو کہ ایک ذمہ دار شخص مضحکہ خیز بیان دیتا ہے۔ڈالر مہنگا ہونے اور روپے سستا ہونے پر بیرون ملک پاکستانیوں کو فائدہ ہوتا ہے تو کیا کہا جائے؟
روپے سستا ہونے پر پاکستانی روپے کی بوری بھر کر مارکیٹ میں روزمرہ کی اشیاء خریدنے کیلئے 20 روپے کا انڈا،دو ہزار روپے کلو گوشت اور کئی گناء بڑھی قیمت پر آٹا،چینی، دال خریدے گا،تو بوری میں بھرے بے قیمت روپے کی کیا حیثیت ہے۔

اس پر بے روزگاری اپنی جگہ وزیر اعظم عمران خان اپنے ملک میں سرمایہ کاری کیلئے بیرون ملک سرمایہ کاروں کو ہمیشہ ترغیب دی ہے،بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو جہاں سفارتکاروں کی ذمہ داری ہے وہیں ملک کے اندرونی حالات،غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سرمایہ کا تحفظ اور اپنی پالیسیوں سے بیرون ملک سرمایہ کار کو فائدہ پہنچانا تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کار پاکستان کا رُخ کریں اس کے حکومتی سرمایہ کاروں کیلئے بہترین مثبت پالیسیوں کے ساتھ ساتھ اندرون ملک امن و امان کی صورتحال اور حکومتی رٹ کی اشد ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ گہرے برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے خادم الحرمین الشریفین کی کے لئے پاکستانیوں کی عقیدت اور ہر موڑ پر سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون پر اظہار تشکر کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی،خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو لاحق کسی بھی خطرے کے خلاف ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

وزیر اعظم نے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے نجی شعبے کو شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے تجارت،کاروبار اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں ناقابل استعمال صلاحیتوں کا ادراک کرنے کے لئے قریبی اور خوشگوار دو طرفہ تعلقات سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں گے۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے 220 ملین سے زیادہ کی ایک مضبوط اور بڑی کنزیومر مارکیٹ کی پیشکش کی ہے جس میں مسلسل توسیع ہوتی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے حکومت پاکستان کی لبرل اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالی دوران دورہ سعودی عرب مڈل ایسٹ گرین MGI کے دوران وزیر اعظم عمران خان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود سے ملاقات کی۔وزیر اعظم نے مملکت کی ترقی و پیشرفت میں خادم الحرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔


انہوں نے سعودی وژن 2030ء کے لئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تعریف کی جس کا مقصد 21 ویں صدی میں مملکت کی سماجی و اقتصادی ترقی کو تبدیل کرنا ہے۔وزیر اعظم کے دورہ کے دوران پاکستان کے ماسٹر میڈیا میں اپنی اپنی مرضی کی افواہیں بھی جنم لیتی رہیں جبکہ وزیر اعظم کی بیرون ملک سعودی عرب جیسے اہم ملک کے دورے کے دوران میڈیا ان چیزوں پر روشنی ڈالے جس میں وزیر اعظم کے ہاتھ مضبوط ہوں،بیرون ملک دورے کے دوران میزبان ملک اس بات پر فخر کرے کہ وہ ایک مضبوط شخص سے بات کر رہا ہے(حکومت،وزیر اعظم کوئی بھی ہو) وزیر اعظم کی نمائندگی پاکستان اور 22 کروڑ عوام کی نمائندگی ہوتی ہے دیگر خبروں کے علاوہ سفیر کی تبدیلی پر قیاس آرائیوں کی چاہے خبریں صحیح بھی ہوں اگر وزارت خارجہ یا وزارت اطلاعات فوری طور پر صحیح بات میڈیا کے سامنے رکھ دے تو میڈیا کو بھی صرف مثبت خبر چلانے کا وقت ملے مگر افسوسناک حد تک وزارت خارجہ اس کے پاکستان اور بیرون ملک سفراء،قونصل جنرلز،وزارت اطلاعات سے منسلک لوگ خبروں کو ایسے دبا کر رکھتے ہیں جیسے کوئی مسئلہ سفیر کی تبدیلی کا نہیں بلکہ کوئی ایٹمی مسئلہ ہے یہ صورتحال افواہیں اور تحفظات کو جنم لیتی ہیں۔


ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Saudi Vision 2030 is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 11 November 2021 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.