حکومتی دعوے اور چور ،چور ، چور کا شور

جمعرات مارچ

Khalil Ur Rehman Alvi

خلیل الرحمن علوی

قیام پاکستان سے لیکر موجودہ دور کئی حکمران آئے اور چلے گئے ۔ سب نے اپنی بھانت بھانت کی بولیوں میں عوام کو بیوقوف بنایا۔ کبھی کسی نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا ،تو کبھی کسی نے صوبائی تعصب کی ہوا دی، سب کا مقصداور منزل صرف اور صرف اقتدار حاصل کرنا تھا ، جب بھی الیکشن نزدیک آتے ہیں تو چربہ ساز سیاستدانوں کے دلوں میں عوام کا دکھ درد جاگ جاتا ہے، حتیٰ کہ کئی لیڈران ایسے بھی دیکھے ہیں جو لوگوں کو سلام و دعا کر کے راضی نہیں ہوتے وہ ان لوگوں کی شادیوں میں بن بلائے مہمان بن کر چلے جاتے ہیں اور اپنی محبت کے ڈونگرے بجاتے ہیں۔


عوام نے 73سالوں میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے ۔ کبھی ایوب کی آمریت کا دور تو کبھی پیپلز پارٹی کی عوامی حکومت جس کو جمہوریت کا نام دیا گیا کبھی پاکستان دولخت ہو ا تو بھی دوسروں کی جنگ میں کود کر اپنے ملک کا امن اور قوم کا سکون سیاستدانوں نے برپا کر دیا۔

(جاری ہے)

دہشتگردی کی لہر نے کئی گھرانوں کا اجاڑ دیا۔نائن الیون کے بعد فوجی حکمران نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاکر امریکہ کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر اپنا پیارومحبت جتانے کی کوشش کی لیکن اس کے بدلے میں امریکی سرکا ر نے پاکستان میں ڈرون حملوں کا تحفہ دیا، جس میں اگر قربانی کے بکرے بنے تو صرف عوام ۔


تمام بڑی سیاسی پارٹیوں اور فوجی حکمرانوں کا آزما کر عوام شش و پنج میں مبتلاتھے کہ عمران خان نے کرکٹ ورلڈ کپ 1992ء جیت کر لوگو ں کے دلوں میں جگہ بنا لی، پھر عمران خان کینسر ہسپتال بنانے کیلئے چندہ مانگاتو عوام نے ان کی جھولیاں بھر دیں ۔ پھر اس عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے نئی عمرانی پارٹی ”پاکستان تحریک انصاف“ کے نام سے بنا لی اور لوگوں کی تبدیلی کا بھاشن دینے لگے ۔

وقت کے ساتھ ساتھ عوام کو خوشحالی کے خواب دکھانے لگے اور چوروں اور ڈاکوؤں کا احتساب کر کے ملکی دولت واپس قومی خزانے میں جمع کروانے کے راگ الاپنے لگے، عوام نے ان پر اعتبار کیا کہ پہلے کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے کا وعدہ پورا کیا ۔ پھر ملک میں کینسر ہسپتال بنایا۔عوام اپنا مسیحا سمجھ کر اپنی تقدیر بدلنے کے خواب دیکھنے لگے۔
عمران خان نے بجلی کے بل بھی جلائے اور عوام کو سول نافرمانی کی تحریک چلا کر جیلیں بھرنے کا بھی کہا، عوام کے زور پر چار ماہ مسلسل دھرنا بھی دیا۔

عوام پھر سے ان کے تبدیلی کے خوش کن نعروں میں آگئے۔ ان کا ہر مقام پر بھرپور ساتھ دیا۔ عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے کچھ بے پیندے کے لوٹے گھوم گھما کر تحریک انصاف میں عمران خان کے اردگرد جمع ہو گئے۔ 2018ء کے الیکشن میں تبدیلی کے خوشگوار نعرے کی بنیاد پر عوامی اکثریت نے انہیں مسند اقتدار پر لا بٹھایا۔پہلے خطاب میں وزیر اعظم نے ملک کو مدینہ کی ریاست بنانے کا عزم ظاہر کیا۔

نوکریاں اور گھر دینے کے دعوے کئے۔ اربوں درخت لگا کر ملک کو جنت کا نمونہ بنا کر پیش کیا گیا۔ پہلی خوش کن تقریرمیں دعویٰ کیا گیا کہ ملک کے لاکھوں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں، ان کیلئے بہت کچھ کریں گے تو بھوک سے نڈھا ل بچوں کو امید کی کرن نظر آنے لگی کہ شاید رب العالمین نے ہماری التجائیں سن لیں ہیں اور کوئی عمر  جیسا لیڈر آگیا ہے جنہوں نے فرمایا تھا کہ”دریائے فرات کے کنارے کتا بھی پیاسا مر گیا تو روز ِقیامت اللہ اس کا حساب مجھ سے لے گا“۔

بوڑھی خاتون کے گھر اپنی کمر پر لاد کر اشیائے خوردونوش لے گئے۔اگر نوکر نے کہا میں لے جاتا ہوں تو جواب دیا کہ قیامت کے روز میر ا بوجھ تم نہیں اٹھاؤ گے۔
لیکن سب دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ سب امیدیں خاک میں مل گئیں۔اب تو عوام کی آنکھوں کی بینائی بھی اندھیرے میں تبدیل ہونے کو ہے، تبدیلی سرکار نے غربت ختم کرنے کی بجائے غریبوں کو ہی ختم کر نے کی ٹھان لی، تمام مافیاز ان کے اردگرد جمع ہیں ۔

سرمایہ دار آٹا ، چینی، گھی ، کھادیں اور پٹرول ذخیرہ کر کے مارکیٹ میں اسکی کمی پیدا کر دیتے ہیں اور پھر ایک ہی جھٹکے میں اربوں روپے کماتے ہیں لیکن اس سے حکمرانوں کو کوئی سروکار نہیں ، اگر حکومت کو کوئی کام ہے تو صرف اپوزیشن کے خلاف چور چور اور ڈاکو ڈاکو کی آوازیں لگانے منہ پر ہاتھ پھیر کر یہ کہنے کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا ،سب کو دیکھ لوں گا۔


عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے بعد پہلی تقریر میں یہ کہا تھا کہ ہم بھوکے مر جائیں گے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، اپنے وسائل پر گزارہ کریں گے لیکن کچھ ہی دنوں بعد سابقہ حکمرانوں کی طرح کا مسئلہ گدائی لیکر آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر قرضہ لے لیا۔
آئی ایم ایف کی شرائط نے عوام کا کچومر نکال دیا۔ پہلی حکومتوں میں ہر ماہ بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی تھیں۔

تبدیلی سرکار میں جب چاہا پٹرول کی قیمت بڑھا دی ، ڈالر کو پر لگ گئے، جی ڈی پی گِر کر منفی پوزیشن میں چلا گیا ۔ بجلی ،گیس کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا لیکن وزیر اعظم کو اس سے کوئی غرض نہیں ۔ وہ جلسہ عام،ٹی وی شوز اور ہر پلیٹ فارم پر اپوزیشن کو چور اور ڈاکو کہہ کر ان کو نشان ِعبرت بنانے کا کہتے رہتے ہیں ۔ انہیں عوامی مشکلات سے کوئی غرض نہیں۔

اس کے نتائج یہ نکلے کہ ملک کی تقریباً 80فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے گِر گئی۔غریب بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے بلکہ اچھاخاصامتوسط طبقہ بھی اب اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر سکتا۔علاج معالجے اور ادویات کا یہ حال ہے کہ ایک روپے والی عام سر درد کی گولی چار سے پانچ روپے کی ہو گئی یعنی مہنگائی 5سو فیصد بڑھنے سے عوام کی قوت خریدختم ہو گئی غریب بیچا رے جائیں تو جائیں کہاں ؟پورے مہینے کا راشن لینا بھی ان کی دسترس میں نہیں۔

لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا خوش کن نعرہ سننے میں اچھا لگا لیکن اس کا رزلٹ یہ نکلا ”کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے“ کے مصداق وصولی کچھ نہیں ہوئی برا ڈ شیٹ کیس میں قوم کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگا دیا گیا۔حکومت چاہے چور ڈاکو کا شور مچائے یا اپوزیشن رہنماوؤں سے جیلیں بھر دے ،عوام کو اس سے کوئی سر و کار نہیں ،عوام صرف بنیادی ضروریات ِزندگی سستی ،ادویات کی فراہمی اور سستی تعلیم چاہتے ہیں ۔

مہنگائی ، بے روز گاری نے عوام کو دماغی امراض اور نفسیاتی مسائل میں جکڑ لیا ہے۔وزیر اعظم اپنے اردگر د نظر دوڑائیں اُنکوایسے کئی خوبصورت ہشاش بشاش چہر ے نظر آئیں گے جو دنوں میں ارب پتی بن گئے۔اُن کو پکڑیں ، مہنگائی اور بے روز گاری کو کنٹرول کریں۔بلکتے ، سسکتے عوام کو ریلیف دیں اور اُن کو جینے کا حق دیں ورنہ آپ چور ڈاکو کا شور مچاتے رہیں گے اور پھر عوام کا سونا می آپ کو بہا لے جائے گا۔ ابھی بھی وقت ہے۔اللہ نے ملک کو بے پناہ وسائل سے نوازا۔ اِن کو بروئے کا لائیں اور ملک سے غربت ختم کریں۔لوگوں کو ریلیف دیں۔یہ نہ ہو کہ آپکا چور چورچور اور ڈاکو ڈاکو ڈاکو کا شور مجبور لوگ ووٹ میں دبا کر خاموش کر دیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Hakomati Daawee Aur Choor Choor Ka Shour Column By Khalil Ur Rehman Alvi, the column was published on 04 March 2021. Khalil Ur Rehman Alvi has written 5 columns on Urdu Point. Read all columns written by Khalil Ur Rehman Alvi on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.