انقلابی قائد

منگل ستمبر

Syed Hassnain Shah

سید حسنین شاہ

حالیہ اے پی سی میں میاں نواز شریف کی تقریر سننے کے بعد بہت سے لوگوں کو انقلاب کا شوق چڑھ گیا۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے کہا کہ وہ میاں صاحب سے اتفاق کرتے ہیں۔ اس ملک میں جمہوری نظام کی اصل روح میں بحالی ہونی چاہئے۔ میاں صاحب کی تقریر سے تو شاید ہی کوئی اختلاف کر سکے۔مگر خود میاں صاحب ہی اس تقریر میں بیان کردہ اصولوں پر پورا نہیں اترتے۔

میاں صاحب کی انقلابی باتیں سن کر مجھے تحریک آزادی ہند کے نوجوان رہنما بھگت سنگھ یاد آگئے۔ بھگت سنگھ بھی خود کو انقلابی کہتے ہے۔ مگر میاں صاحب اور بھگت سنگھ کے انقلاب میں ذرا فرق ہے۔ جب بھگت سنگھ کو انگریزوں نے سزائے موت سنائی۔تو ہندوستان میں کافی شور مچا۔ انگریزوں نے کہا کہ اگر بھگت سنگھ معافی مانگ لیں۔

(جاری ہے)

تو انگریز اُنہیں رہا کر دیں گے۔

بھگت سنگھ نے خاندانی اور عوامی دباؤ کے باجود معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے انگریز حکومت کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے لکھا کہ میں ایک سیاسی قیدی ہوں۔اس لیے انگریز قانوناً مجھے پھانسی نہیں دے سکتے۔ انہوں نے لکھا کہ ان کے ساتھ سیاسی قیدیوں والا سلوک کیا جائے اور اُنہیں موت کی سزا فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جائے۔

بھگت سنگھ نے دنیا کو دیکھا دیا کہ انقلاب کیا ہوتا ہے اور نظریہ کیا چیز ہوتی ہے۔ یہاں ہمارے نئے انقلابی لیڈر جسے موت کی سزا کا خطرہ بھی نہیں تھا۔وہ صحت کا ڈونگ رچا کر لندن چلا گیا۔
میاں صاحب کی اپنی زندگی میں اصول نام کی کوئی چیز کبھی رہی ہی نہیں۔ 1999 میں جب انکی حکومت غیر آئینی طریقے سے ختم کی گئی۔ تو اس وقت بھی اُنہیں انقلابی بننے کا شوق چڑھا۔

اس وقت بھی اپنے مفاد کے لیے انہوں نے اپوزیشن کو اکھٹا کرنے کی کوشش کی۔ بینظیر بھٹو اس وقت جلا وطن تھی۔ پاکستان میں انکی پارٹی کی زمہ داریاں سینئر سیاست دان نصیر اللہ بابر کے ہاتھوں میں تھی۔ نصیر اللہ بابر نے بینظیر بھٹو سے کہا کہ ہمیں جمہوریت کی خاطر میاں صاحب کا ساتھ دینا چائیے۔ بینظیر بھٹو نے نصیر اللہ بابر سے کہا کہ وہ میاں صاحب پر اعتبار نہیں کر سکتی۔

نصیر اللہ بابر نے کہا کہ آپ میری خاطر اس بار اعتبار کر لیں۔ بینظیر بھٹو کو راضی کرنے کے بعد نصیر اللہ بابر ملک میں اپوزیشن کو متحد کرنے میں سرگرم ہوگئے اور وہاں میاں صاحب ڈیل کر کے سعودی عرب چلے گئے۔ جب نصیر اللہ بابر سے پوچھا گیا کہ آپ نے ان کی زمہ داری لی تھی۔یہ کیسے چلے گئے۔تو نصیر اللہ بابر نے اپنے مشہور الفاظ میں جواب دیا کہ آج تک میں معاملات سیاست دانوں کے ساتھ طے کرتا تھامگر اس مرتبہ میں ایک بزنس مین کے ہتھے چڑھ گیا۔


2007 میں بینظیر بھٹو کے ساتھ چارٹر آف ڈیموکریسی کرنے کے بعد بہت سے لوگوں کو یہ یقین ہوگیا کہ شاید اب کوئی تبدیلی آئے گی۔اور میاں صاحب انقلابی بن جائیں گے لیکن اس چارٹر کا جو حال مسلم لیگ نواز نے کیا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ چارٹر کے مطابق دونوں بڑی پارٹیاں پابند تھیں کہ وہ ایک دوسرے کی حکومتیں نہیں گرا یئنگی۔ مگر پھر خود میاں صاحب کالا کوٹ پہن کر یوسف رضا گیلانی کی حکومتِ گرانے سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے۔


چارٹر آف ڈیموکریسی کے ساتھ ساتھ میاں صاحب نے 2007 میں پاکستانی کی اپوزیشن جماعتیں جن میں جماعت اسلامی سرفہرست ہے۔ان کے ساتھ مل کر اعلان کیا کہ وہ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تمام اپوزیشن کی جماعتوں کو بائیکاٹ کروا کر خود میاں صاحب اپنی کمٹمنٹ سے پیچھے ہٹ گئے۔ اس واقعے پر جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا تھا۔


میاں صاحب کے انقلاب کی کونسی کونسی کہانی بیان کی جائے۔ کونسی کہانی بیان کرنا بہتر ہے۔یہ انتخاب کرنا بھی مشکل ہے۔ یہ بات کہ شاید اب میاں صاحب اپنی سوچ بدل کر مکمل انقلابی ہو جائیں۔ اب بھی اگر میاں صاحب انقلابی بنتے ہیں۔تو اس کا فائدہ جمہوریت ہی کو ہوگا۔مگر اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ پہلے میاں صاحب اپنی غلطیوں کی معافی مانگیں۔ اور تمام تر حقائق عوام کے سامنے رکھیں۔ ماضی سے سبق سیکھنا کوئی غلط بات نہیں ہے۔ میاں صاحب اگر واقعی ہی سوچ کے تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں ملک واپس آکر لڑنا ہوگا۔ لندن میں بیٹھ کر تقریریں کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Inqelabi Quaid Column By Syed Hassnain Shah, the column was published on 22 September 2020. Syed Hassnain Shah has written 14 columns on Urdu Point. Read all columns written by Syed Hassnain Shah on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.