گزشتہ سال جنوبی ایشیا میں صحافی اور میڈیا کارکن ہلاک ہوئے

بدھ جنوری 12:46

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔2جنوری۔2008ء) ساوتھ ایشیا میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق سال2007 جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے لیے خونی سال ثابت ہوا۔اس سال خطے سے تعلق رکھنے والے کل25 صحافی اور میڈیا کارکن فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہوئے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستا ن ،سر ی لنکا، اور پاکستان میں ہونے والے تنازعات کے باعث جنوبی ایشیائی صحافیوں کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔

اس سال پاکستان میں سب سے زیادہ صحافی ہلاک ہوئے جن کی تعداد سات ہے ۔ ان میں محبوب خان، اے آروائی کے عارف خان،روزنامہ پاکستان کے نور حکیم خان ،روزنامہ مرکز کے جاوید خان ،روزنامہ جنگ کے زبیر احمد مجاہد،سندھ ڈیلی ٹائمز کے نثار احمد سولنگی، ایک نجی چینل کے سید کمال مشہدی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جبکہ حکومت اور فوجیوں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں اور حملوں میں سری لنکا کے 6،بھارت اور نیپال کے 3اورافغانستان کے 5 صحافی ہلاک ہوئے ,جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں میڈیا کی آزادی کاحوالہ دیتے ہوئے روپوٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر مشرف کی حکومت میں سب سے زیادہ نجی چینلز کھولنے کے اجازت نامے ملے لیکن عدالت عظمی کے چیف جسٹس کی بر طرفی کے دوران میڈیا کی کوریج اور ملک میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کے باعث ملک کے پرنٹ میڈیا سمیت تمام نیوز چینلز پر الیکشن اور بحث و مباحثے کی براہ راست نشریات پر پابندی عائد کر دی گئی۔ادھر بھارت میں بھی برقیاتی زرائع ابلاغ کو سرکاری ایجنسی کے زریعے چلانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔

متعلقہ عنوان :