عمران خان کس نے تمہارے کان میں یہ بات ڈالی انتخابات آگے جا سکتے ہیں ، ایک گھڑی آگے نہیں جانے دینگے ‘ نواز شریف

ہم لڑیں گے پاکستان کے عوام اس کیلئے کھڑے ہو جائینگے ،یہاں ایک شخص پیش بھی نہیں ہوا، اس پر فرد جرم عائد نہیں ہوئی اور وہ بری ہو گیا جس کے پاس (ن) کی ٹکٹ ہوگی اللہ تعالیٰ اس کو الیکٹ ایبل بنائے گا ،ْاب باری سیاستدانوں کی نہیں کسی اور کی ہو گی عمران ،زرداری خیبر پختوانخواہ اور سندھ کا پنجاب سے موازنہ کرلیں، سینیٹ کا چیئرمین اس شخص کو بنا دیا گیا جسے اپنا ہمسایہ بھی نہیں جا نتا مسلم لیگ (ن) کے قائد کا لاہور، ساہیوال، اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے اراکین اسمبلی ،سینیٹر پارٹی رہنمائوں ،ٹکٹ ہولڈرز ،بلدیاتی نمائندوں،پارٹی عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب

جمعہ مئی 21:18

عمران خان کس نے تمہارے کان میں یہ بات ڈالی انتخابات آگے جا سکتے ہیں ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 مئی2018ء) سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان بتائو کس نے تمہارے کان میں یہ بات ڈالی ہے کہ انتخابات مہینہ ،ڈیڑھ مہینہ آگے جا سکتے ہیں ،قوم سے وعدہ کرتا ہوں مہینہ ، ڈیڑھ مہینہ تو دور کی بات ہے ایک دن بلکہ ایک گھڑی انتخابات کو آگے نہیں جانے دینگے ، ہم لڑیں گے پاکستان کے عوام اس کیلئے کھڑے ہو جائیں گے ،یہاں ایک شخص پیش بھی نہیں ہوا، اس پر فرد جرم عائد نہیں ہوئی لیکن وہ بری ہو گیا اور جنہیں بری ہونا چاہیے تھا انہیں نا اہل کر دیا گیا ،یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ،جس کے پاس مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ ہوگی ،ْ اللہ تعالیٰ اس کو الیکٹ ایبل بنائیگا،اب باری سیاستدانوں کی نہیں کسی اور کی ہو گی ، عمران خان اور آصف علی زرداری آئیں اور خیبر پختوانخواہ اور سندھ کا پنجاب سے موازنہ کریں کہ کون آگے ہے ، سینیٹ ملک کا سب سے معتبر ادارہ ہے لیکن اس شخص کو چیئرمین سینیٹ بنا دیاگیا جسے اپنا ہمسایہ بھی نہیں جا نتا ،،عمران خان نے کہا کہ بڑی وکٹ گرنے والی ہے اور خواجہ آصف کی وکٹ گر گئی بلکہ گرائی گئی ، یہ سب کس نے کیا تھا ، یہ سوالات پوچھنے والے ہیں جب تک ان کا جواب نہیں ملتا ہم نے آ پ کا پیچھا نہیں چھوڑنا اور اور آپ کو جواب دینا پڑے گا، جس نے آپ کو کہا تھا وہ بھی جواب دے گا ہم ایسے نہیں جانے دیں گے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور،، ساہیوال، اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے اراکین اسمبلی ،سینیٹر پارٹی رہنمائوں ،ٹکٹ ہولڈرز ،،بلدیاتی نمائندوں،پارٹی عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ، مریم نواز،، حمزہ شہباز ،برجیس طاہر،،خواجہ سعد رفیق،، رانا تنویر حسین ، اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال، وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان، ڈپٹی اسپیکر سردار شیر علی گورچانی، پرویز رشید،، پرویز ملک ،راجہ اشفاق سرور، ملک ندیم کامران، رانا ارشد سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔

اس موقع پر شرکاء نے اپنی قیادت کے حق میں نعرے بھی لگائے ۔مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے کہا کہ ہم سچ کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ،ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ، ہم نے 28جولائی کا فیصلہ سن لیا ہے ،عملدرآمد بھی کر دیا ہے ،اس کے آگے سر نگوںکردیں ، سر تسلیم خم کر دیں ، ایسے فیصلے تسلیم نہیں کرنے چاہئیں ، اگر ضمیرکہہ رہا ہے تو پھر ڈٹ کر کھڑے ہو جانا چاہیے اور جھکنا نہیں چاہیے ۔

انہوں نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کھڑے ہوں گے تو آپ کا مقدر آپ کا ساتھ دے گا ، ہمیں سچ پر کھڑے ہونا ہے ، اگر میں اپنے ضمیر کی آواز کے برعکس فیصلہ کرتا تو میں انصاف نہ کرتا بلکہ یہ سخت نا انصافی ہوتی ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دل و جان سے ملک کی خدمت کی ہے اور اس پر ناز ہے،مخالفین جو مرضی تنقید کریں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پرتا ۔

ہمارا ٹریک سب کے سامنے ہے اور بہت اچھا ہے ۔ پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا موصوف داخل ہو گیا ہے جس نے دھرنوں، منافقت، جھوٹ ، پگڑیاں اچھالنے ، اوئے توئے کے سوا کچھ نہیں کیا ۔ اگر آپ نے کام کیا ہوتا تو خیبر پختوانخواہ اپنے منہ سے بول رہا ہوتا ، آپ نے خیبر پختوانخواہ والوں کاسر بھی شرم سے جھکا دیا ہے ، ہم نے خیبر پختوانخواہ میں جلسے کئے ہیں اگر آپ نے کچھ کیا ہوتا او ر لوگوں کو مایوس نہ کیا ہوتا تو وہ لوگ ہمارے جلسوں میں نہ آتے ، لوگ الحمد اللہ مسلم لیگ (ن) کی تلاش میں جلسوں میں آرہے ہیں او رمیں یقین سے کہتا ہوں کہ اللہ کے کرم سے آئندہ مسلم لیگ (ن) خیبر پختوانخواہ میں بھی کامیاب ہو گی ۔

موازنہ معیار ہوتا ہے آئو پشاور کا لاہور سے موازنہ کرو ، خیبر پختوانخواہ کا پنجاب سے موازنہ کرو کہ کون آگے ہے ۔ تم نیا پاکستان بنانا جارہے تھے لیکن پہلے کا بھی برا حال کر دیا ۔ پیپلز پارٹی والے آئیں دیکھیں کراچی اور لاہور میں سے کون آگے ہے ، سندھ کا پنجاب سے موازنہ کر لیں ۔ ہم بلوچستان میں کام کرنا چاہتے تھے لیکن ہمیںکام نہیں کرنے دیا گیا۔

وہاںجو تبدیلی آئی ہے وہ ان نیچرل ہے کوئی بھی پاکستانی اس تبدیلی کی تعریف نہیں کرتا۔ ایک ایسے شخص کو چیئرمین سینیٹ بنا دیا گیا جسے اس کا ہمسایہ بھی نہیں جانتا ۔ سینیٹ پاکستان کی سب سے بڑی باڈی ہے ، پاکستان کے سب سے بڑے اور معتبر ادارے کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ، کس نے آپ کو یہ مت دی ہے ۔ اس سوال کے اندر جانا چاہیے ۔ سپریم کورٹ اور معاملات میں تو سو مو ٹو نوٹس لیتی ہے اس پر کیوں سو موٹونہیں لیا ۔

سینیٹ کے انتخابات میں اربوں روپے چلے ہیں ، عمران خان کے اپنے لوگ بکے ہیں اور پھر تیر کے نشان پر مہر لگائی گئی ۔۔عمران خان تمہیں قوم کو جواب دینا پڑے گا ، بتائو تمہیں کس نے کہا تھا انہیں ووٹ دو ۔ تم تو کہتے تھے کہ میں زرداری سے ہاتھ نہیں ملائوں گا ، شکل نہیں دیکھوں گا ۔ جہاںزرداری آئے گا میں وہاں نہیں بیٹھوں گا لیکن پھر سب نے دیکھا کہ مال روڈ پر تم دنوں ایک اسٹیج پر بیٹھے ، یہ الگ بات ہے کہ کوئی گھنٹہ پہلے او رکوئی گھنٹہ بعد میں آیا لیکن یہ سب باہمی مشاورت سے طے ہوا ۔

عمران خان اور آصف زرداری نے ایک ہی مقام پر شرکاء سے خطاب کیا ۔ یہ کیا منافقت ہے ، قوم کو کیا دھوکہ دے رہے ہو ، قوم اب تمہارے دھوکے میں نہیں آئے گی ۔ تم تو اصول لے کر نکلے تھے لیکن تم نے ملک کو نیا کلچر دیا ہے ، وہ کلچر دیا ہے جسے دیکھ کر شرم آتی ہے ، پاکستانی قوم نے تمہارا کردار دیکھا ہے اس پر پاکستانی قوم کو شرم آتی ہے ۔ تم پھر امپائر کی بات کر رہے ہو اور انگوٹھے سے ڈر رہے ہو ۔

تم کہہ رہے ہوکہ انتخابات مہینہ ، ڈیڑھ مہینے آگے جا سکتے ہیں ، تم تو جمہوریت کی بات کرتے ہو پھر تمہیں یہ کس نے کہا ہے ، کس نے تمہارے کان میں یہ بات ڈالی ہے ، بتائو تمہیں کس نے یہ درس دیا ہے ۔ تم تو کہتے تھے کہ میں ڈٹ جائوں گا کہاں گیا تمہارا ڈٹ جانا ۔ اگر کوئی ڈٹا ہوا ہے تو وہ لوگ میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں ، ہم مقابلہ کریںگے ۔ عمران خان اللہ کا شکر ہے ، میں اللہ سے ڈر کر بات کرتا ہوں کہ مقابلہ تمہارے ساتھ نہیں ہے ، زرداری صاحب سے بھی نہیں بلکہ کسی اور کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں ضرور فتح سے ہمکنار کریگا ۔

انہوں نے کہا کہ چند دن پہلے عمرا ن خان لاہور میں محلے محلے پھر رہا تھا ، اندرون شہر بھی جانا تھا لیکن وہاں سے اطلاع ملی کہ وہاں آپ کے لئے کچھ نہیں ہے اور کوئی چکر چلائیں اور یہاں سے نکلیں ۔ آپ نے کہہ دیا کہ کہ اسلام آباد میں بڑی وکٹ گرنے والی ہے ، خواجہ آصف کی وکٹ گر گئی بلکہ گرائی گئی ۔ یہ سب کس نے کیا تھا ۔ یہ سوالات پوچھنے والے ہیں جب تک ان کا جواب نہیں ملتا ہم نے آ پ کا پیچھا نہیں چھوڑنا اور اور آپ کو جواب دینا پڑے گا۔

جس نے آپ کو کہا تھا وہ بھی جواب دے گا ہم ایسے نہیں جانے دیں گے ۔ نواز شریف نے کہا کہ ستر سالوںمیں بہت کچھ ہو چکا ہے ،ہم آئندہ نہیں ہونے دیں گے ۔ میں آپ کے ساتھ اور آپ میر ے ساتھ وعدہ کریں ہم اپنے اللہ کے سامنے قوم کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں کہ ایک دن تو دور ایک گھڑی بھی انتخابات کو آگے نہیں جانے دیں گے ، لڑیں گے ، پاکستان کے عوام جس جذبے میں ہیں وہ کھڑے ہو جائیں گے ۔

انہوں نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دوبارہ منتخب کرے گا ، آپ نے نوجوانوں اور پاکستانی قوم کی خدمت کرنی ہے ، ستر سالوں میں قوم کو بہت مایوس کیا گیا ہے ۔ اچھے لوگوں کو یہا ں کب رہنے دیا گیا ،انہیں اٹھا کر باہر پھینک دیا جاتا رہا ہے ۔ انہیں کبھی ہتھکڑی لگا کر جیل میں ڈال دیا گیا، کبھی کال کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا ، کبھی پھانسی پر چڑھادیا گیا تو کبھی ملک بدر کر دیا گیا ۔

انہو ں نے کہا کہ پہلے بھی اکثریت کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا گیا تو مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا ۔ آج بنگلہ دیش کی کرنسی کی ہمارے روپیہ سے زیادہ اہمیت ہے ، اس کی معیشت بھی ہم سے آگے جارہی ہے ، اگر یہ دونوں اکٹھے ہوتے تو پاکستان مضبوط طاقت بن گیا ہوتا ، دشمن ہم سے ڈر رہے ہوتے ، اگر ہم اچھی تاریخ بناتے تو آج کہاں کھڑے ہوتے اور دنیا ہمیں سپر پاور سمجھتی ۔

پاکستان اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہوتا اور پھر کیا منظر ہوتا ۔ جو نہیں سمجھ رہے انہیںسمجھانا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی نعمت دی تھی لیکن اس کا کیا حشر ہو گیا اس کے باوجوداس سے سبق نہیں سیکھا گیا ۔ نظریہ ضرورت سامنے آتا رہا ۔ جج صاحبان اپنے حلف کو چھوڑ کر مشرف کا حلف لیتے رہے اور اسے یہاں تک اختیار دیدیا آئین میں جو چاہیے تبدیلی کرو ، اسے پھاڑ کر پھینک دو ۔

یہ بہت افسوسناک حقائق ہیں ، اگر ہم انہیں فراموش کر دیں گے تو ہم اندھیروں میں گم ہو جائیں گے اور پھر داستان بھی نہ رہے گی داستانوں میں۔ انہوں نے کہا کہ جب میں وزیر اعظم تھا تو میں نے کہا تھاکہ اپنے گھر کو سنبھالو ، اس کی خبر لو ، ہم نے دہشتگردی ہر لحاظ سے ختم کرنی ہے لیکن ڈان لیکس بنا دیا گیا ، کیا وجہ ہے کہ دنیا ہماری بات سننے کو تیار نہیں ۔

ہماری فوج کے افسران ،جوان ، پولیس کے افسران ،جوان ، عوام ، انتظامیہ کے لوگوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں لیکن پھر بھی دنیا کیوں ہماری نہیں سنتی ۔ چین ہمارا آزمایا ہوا دوست ہے اس نے بھی کہا کہ اپنے گھر کو ٹھیک کریں ، اس کی بات سننی چاہیے ۔ انہوںنے کہا کہ کیا میٹرو ٹرین حکومت یا مسلم لیگ (ن) کی ذاتی ٹرین ہے ، ایک حکم کی وجہ سے پہلے اس پر کام بند رہا ، پھر کہا گیا کہ اس پر کام بند کر دیں گے آپ کام بند کر لیں ۔

نواز شریف نے کہا کہ ایک شخص کا کیس تھا وہ پیش بھی نہیں ہوا ، اس پر فرد جرم بھی عائد نہیں ہوئی لیکن وہ بری ہو گیا ۔ جن کو نہیں ہونا چاہیے تھا وہ بری ہو گئے اور جنہیں بری ہونا چاہیے تھا انہیں نا اہل کر دیا گیا ، یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ۔ پاکستان کو ایٹمی ملک بنانے، موٹر ویز کا جال بچھانے والے شخص کو نا اہل کر دیا گیا ۔۔کراچی والے کہتے ہیں کہ ہم (ن) لیگ والوں کو ووٹ دینا چاہتے ہیں کیونکہ اس نے امن قائم کیا ۔

پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے اس کا فائدہ نہیں اٹھایاوہاں ویسے ہی گند ہے ، دھول اڑتی ہے او رلوگ پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں استحکام ہونا چاہیے اور لوگوں کو اعتماد ہونا چاہیے کہ ملک نظریہ ضرورت کے تحت نہیں بلکہ آئین و قانون کے راستے پر چل رہا ہے ،ْپی سی او جج نہیں ہوں گے ۔ اگر (ن) لیگ جیتتی ہے یا کوئی اور جماعت کامیاب ہوتی ہے ہر کوئی اپنے دائرے کے اندر رہے گاکوئی اپنی حد سے تجاوز نہیں کریگا پھر لوگ آنکھیں بند کر کے سرمایہ کاری کرتے ہیں ۔

لیکن جب نظر بندی اور زبان بندی ہو گی ،ایسے کام نہیں چلے گا کہ میڈیا نے یہ بات دکھانی ہے یہ بات نہیں دکھانی ،ْ یہ گزری ہوئی دہائیاں نہیں ہیں آج 2018ء ہے، صرف پی ٹی وی نہیں بلکہ اور بھی چینلز ہیں ، سوشل میڈیا ہے ۔ ایک ٹی وی چینل کو بند کر دیا جاتا ہے کیا اس پر سو موٹو لیا گیاہے ، کون کہتا ہے کہ اسے بند کر دو کب تک ایسا چلتا رہے گا ، یہ سب مصنوعی ہے ، ملک کو خراب مت کرو ۔

اس سے ہماری کوئی بات نہیں سنتا، کوئی عزت نہیں ۔ چین اور بھارت دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں ۔ ہم آج بھی پیسے کے لئے کشکول لے کر چلے جاتے ہیں ۔ آج ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر 20،25ارب ڈالر سے کم ہو کر 11ارب ڈالرتک آ گئے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمیںنواز رہا ہے ، تین مہینے باقی ہیں اللہ ہمیں اور بھی نواز یگا جس کے پاس (ن) کی ٹکٹ ہو گی اللہ کا کرم اس کے ساتھ ہوگاجس کے پاس (ن) کی ٹکٹ ہو گی ،ْ اللہ تعالیٰ اس کو الیکٹ ایبل بنائے گا ۔

انہوںنے کہا کہ میرے ساتھ جو گزر رہی ہے وہ تو گزر ہی رہی ہے میں برداشت کر رہا ہوں ، زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں لیکن میں سر نہیں جھکائوں گا ۔انہوں نے کہا کہ میں ایک روز وزیر اعظم تھا ور اگلے روز ہائی جیکر بنا دیا گیا ، یہاںسزا کی توثیق کرنے والے سپریم کورٹ کے جج بنا دئیے گئے لیکن اب باری سیاستدانوں کی نہیں کسی اور کی ہو گی ۔انہوںنے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے حلقے کے لوگوں کو حقائق سے آگاہ کریں ۔

میں ، شہباز شریف ، حمزہ ، مریم سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختوانخواہ جائیں گے ، پنجاب کے مختلف مقامات پر بھی جائیں گے۔ عوام کے اندر جذبہ پیدا ہو رہا ہے ،2018ء میں عوام (ن) لیگ کے ٹکٹ ہولڈرز کو ووٹ دیں گے۔ انہوںنے کہا کہ عمران خان قلا بازیاں کھا رہا ہے ، عوام جھوٹ اور منافقت کو آئندہ ووٹ نہیں دیں گے۔ منافقت ، جھوٹ اور مفاد پرستی کی سیاست نے ستر سال گنوا دئیے ہم نے اس تاریخ کو ختم کر کے اگلی تاریخ بنانی ہے ۔