صحافت کو اسٹیٹ اور نان اسٹیٹ ایکٹرز سیزیادہ غیر مرئی طاقتوں سے خطرہ ہے،فرحت اللہ بابر

اس وقت پاکستان میں ایک طرف سکیورٹی کے نام پر تو دوسری طرف نظریے کی بنیاد پر آواز کو دبایا جارہاہے،رہنما پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات میں تمام جماعتیں منشور میں صحافیوں کے تحفظ کیلے نکات شامل کریں،ایبٹ آباد کمیشن ،سانحہ اے پی ایس رپورٹس کو پبلک کیا جائے، تقریب سے خطاب

اتوار مئی 19:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) سابق سنیٹر و رہنما پاکستان پیپلز پارٹی فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کپ صحافت کو اسٹیت اور نان سٹیٹ ایکٹرز سے خطرہ ہے ہی مگرسب سے زیادہ خطرہ غیر مرئی طاقتوں سے ہیں، صحافت پرپابندیاں پہلے بھی تھی ،اب بھی ہے مگر نوعیت بدل گئی،گزشتہ دس سالوں میں بہت سے صحافی شہیدہوئے صرف دو کے ملزمان کو سزائیں دی گیئں،انتخابات قریب ہے تمام جماعتوں کو اپنے منشور میں صحافیوں کے تحفظ اور آزادی صحافت کیلے نکات شامل کرنے چاہیے، پیپلز پارٹی کی انتخابی منشور میں صحافیوں کے تحفظ کیلے خصوصی نکات شامل ہوں گے۔

اتوار کو نیشنل پریس کلب میں ضیائ الحق آمریت کے خلاف جد وجہد پیش کرنے والے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلے منعقدہ "پرعزم"تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں ایک طرف سکیورٹی کے نام پر تو دوسری طرف نظریے کی بنیاد پر آواز کو دبایا جارہاہے ، ان دونوں میں رشتہ ہیں،تاریخ میں آمریت نے عدلیہ کو جبکہ عدلیہ نے آمریت کو سپورٹ کیا ہے، اس وقت ملک میں سٹیٹ آف ڈینائل اور پیرانایل ہے،،لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرنا ،ریاست کو سٹیٹ آف ڈینائل سے نکلنا ہو گا،لوگوں کو عدالتوں میں پیش کرانے کا مطالبہ جائز ہیں، تاریخ بنتے اور پھلتے دیکھا،16دسمبر کے اخبارات میں جنرل نیازی نے دعوی کیا تا کہ اسلام آباد سے مدد لیے بغیر چھ ماہ تک جنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر اس کے کچھ گھنٹوں بعد ہی ہتھیار ڈال دئیے،ریاست کو متبادل بیانیہ کو رد کرنے کی بجائے ان کو کو جانچنا چاہیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایبٹ کمیشن ، لاپتہ افراد کمیشن 2010، حامد میر کیس رپورٹ ،آرمی پبلک سکول سانحہ ،،فاٹا کے صحافی حیات اللہ کے رپورٹس کو پبلک کی جائے۔انہوں نے کہا کہ آزادی صحافت کو سرخیل بخشنے والوں کو عزت دینا اچھی بات ہے ،چالیس سال بہت گٹھن گزرے،وہ جھوٹ وہ مکرو فریب کا دور تھا،ضیاء الحق نے آئین کے ابتدایہ میں سے اقلیتوں سے متعلق آزادانہ مذہبی امور کی ادائیگی کی اجازت کونکال کر صرف اجازت ہے درج کیا،جس کو بعد میں دوبارہ شامل کرایاگیا،اس دور میں ایک اورجھوٹ قائد اعظم کی ڈائری کو چوری کر کے اس میں تبدیلیاں کی گئی کہ قائد اعظم پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام کے حامی تھے درج کیا،ناصر زیدی جیسے لوگوں نے نہ صرف مزاحمتی صحافت کی بنیاد رکی بلکہ فروغ دیا ہے،آج مزاحمتی صحافت ختم ہوتی جارہی ہے۔