پانچ سال کومے میں رہنے والا پیپلزپارٹی کا رکن جب ہوش میں آیا تو اس نے کیا کام کیا؛ معروف کالم نگار نے دلچسپ کہانی سنا دی

پیپلز پارٹی کے جیالے نے کومے سے ہوش میں آنے کے بعد ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ندیم افضل چن اور بابر اعوان کو دیکھا تو فرط جذبات میں ‘جئے بھٹو’ کے نعرے مارنے شروع کر دیے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ مئی 12:43

پانچ سال کومے میں رہنے والا پیپلزپارٹی کا رکن جب ہوش میں آیا تو اس نے ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔30مئی 2018ء) معروف کالم نگار اور بلاگر خرم آزاد نے ا پنے ایک کالم ’ سیاسی موسم اور لوٹوں کی نقل وحرکت ‘ میں ایک پیپلز پارٹی کے جیالے کی دلچسپ خیالی کہانی سنا دی۔اپنے کالم میں خرم آزاد کا کہنا تھا کہ میں آپ کو ایک دلچسپ کہانی سناتا ہوں۔ ایک شخص شدت مرض سے کوما میں چلا گیا اور پانچ سال کوما میں رہا۔ کوما میں جانے سے پہلے وہ پیپلزپارٹی کا جذباتی کارکن تھا۔

کوما سے ہوش آنے کے چند دن بعد وہ مکمل صحت یاب ہوگیا اور نارمل زندگی گزارنے لگا۔ اس کے علاقے میں ایک سیاسی جلسہ تھا، اسے پتہ چلا تو اس کے جذبات کی انتہا نہ رہی اور وہ خوشی خوشی جلسہ میں شرکت کےلیے چلا گیا۔ جب اس نے اپنے رہنماؤں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان،، ندیم افضل چن اور بابر اعوان کو دیکھا تو فرط جذبات میں ‘جئے بھٹو’ کے نعرے مارنے شروع کر دیے۔

(جاری ہے)

لوگوں نے اس کی طرف حیرانی سے دیکھا اور کہا کہ یہ پی پی کا نہیں بلکہ پی ٹی آئی کا جلسہ ہے، اور یہ لوگ اب پی پی سے پی ٹی آئی میں شامل ہوچکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے جیالوں نے اسے پاگل سمجھا اور دھکے دینے شروع کردیے۔ اس نے کہا کہ یہ تو وہ پی پی رہنما ہیں جنہوں نے بی بی کے ساتھ مرنے جینے کی قسمیں کھائی تھیں؛ اور ان کا منشور روٹی، کپڑا، مکان تھا۔

خرم آزاد کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے بڑوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ندیم افضل چن، جسے پی پی نے نام و شہرت دی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اور وزیر بنایا، وہ اگر پی پی کا نہیں رہا تو تحریک انصاف کا بھی نہیں رہے گا۔ ہمارے ہاں الیکٹیبلز کا کوئی نظریہ نہیں، وہ صرف اپنا مفاد دیکھتے ہیں اور مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔یاد رہے کہ عام انتخابات کا وقت قریب آ گیا ہے اور اس سے قبل سیاسی جوڑ توڑ بھی جاری ہے۔اگلے انتخابات میں تحریک انصاف کے جیتنے کے چانسز دیکھ کر بہت سارے رہنما تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔۔پاکستان پیپلز پارٹی کے بھی کئی سیاسی رہنماؤں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔جس میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ندیم افضل چن شامل ہیں۔