پارلیمنٹ کہاں کھڑی ہیں، ریاست کے باقی 3ستون کہاں ہیں۔نوازشریف

نواز شریف اور مریم نواز کی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد نواز شریف ہی لندن فلیٹس کے اصل مالک ہیں آف شور کمپنی کے ذریعے ملکیت چھپائی ۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات جون 15:37

پارلیمنٹ کہاں کھڑی ہیں، ریاست کے باقی 3ستون کہاں ہیں۔نوازشریف
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 جون۔2018ء) اسلام آباداحتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف نے پوچھا کہ پارلیمنٹ کہاں کھڑی ہیں،آج ریاست کے باقی 3ستون کہاں ہیں۔جمعرات کو سابق وزیراعظم نوازشریف احتساب عدالت آئے لیکن آج صحافیوں سے کوئی بات نہ کی۔مسلم لیگ نون کے قائد نوازشریف احتساب عدالت پہنچے ان کے ہمراہ مریم نوازنہیں آئیں،صحافی نے نیب کی ایل این جی انکوائری سے متعلق سوال کیا تونوازشریف کی جگہ پرویز رشید بولے کہ اختیارات کاغلط استعمال ہواجس کے باعث اب سی این جی کی لائنیں نہیں لگتیں،کام کرنا جرم بن گیا ہے۔

نوازشریف نے کاغذات نامزدگی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پرردعمل میں لیگی وکلاءسے پوچھا کہ پارلیمنٹ کہاں کھڑی ہے آج ریاست کے باقی 3ستون کہاں ہیں۔

(جاری ہے)

سماعت کے آغازپرمریم نوازکے وکیل نے آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی جسے منظورکرلیا گیاجبکہ نوازشریف اورمریم نوازکی جانب سے کلثوم نوازکی نئی میڈیکل رپورٹ کےساتھ 11سے 15جون تک حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائرکی گئیں  بعدازاں عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کی عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائر کی گئیں۔جس میں 11 سے 15 جون تک حاضری سے استثنیٰ مانگا گیا تھا۔درخواست کے ساتھ نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی نئی میڈیکل رپورٹ بھی منسلک کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کلثوم نواز کی عیادت کے لیے حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔۔دوران سماعت لیگی راہنماﺅں نے نوازشریف سے گفتگو کی تو جج محمد بشیرنے سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جس نے گفتگوکرنی ہے وہ برآمدے میں جا کرکرے۔

دریں اثناءشریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں قومی احتساب بیوروکے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے حتمی دلائل کے دوران کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف ہی لندن فلیٹس کے اصل مالک ہیں۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ نواز شریف ہی لندن فلیٹس کے اصل مالک ہیں جبکہ آف شور کمپنی کے ذریعے اصل ملکیت چھپائی گئی۔سردار مظفر عباسی نے کہا کہ قطری شہزادے کا بیان غیر متعلقہ ہے لیکن پھر بھی جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے کی کوشش کی جس کے لیے 24 مئی 2017 کو اسے بیان ریکارڈ کرانے کے لئے بلایا۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ جے آئی ٹی کے نوٹس قطری شہزادے کو موصول ہوئے مگر وہ پیش نہ ہوئے جب کہ 11 جولائی 2017 کو قطری شہزادے کا دوسرا جواب آیا لیکن پھر اس نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے اجتناب کیا۔سردار مظفر عباسی نے دلائل کے دوران کہا کہ 22 جون 2017 کو قطری شہزادے کو پھر بلایا گیا اور جے آئی ٹی نے کہا آپ نہیں آتے تو ہم دوحا کے پاکستانی سفارخانے میں آجاتے ہیں۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ قطری نے شرائط رکھیں کہ وہ نہ تو پاکستانی سفارت خانے میں آئیں گے اور نہ عدالت میں پیش ہوں گے جب کہ جرح میں کہا گیا کہ قطری شہزادے کو دھمکی لگائی گئی یہ درست نہیں ہے۔ریفرنس میں نامزد سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے وکلا کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں دائر کی گئیں جس میں استدعا کی گئی ہے کہ کلثوم نواز کی عیادت کے لیے لندن جانا ہے اس لیے 11 تا 15 جون تک حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

درخواستوں کے ساتھ کلثوم نواز کی نئی میڈیکل رپورٹ بھی لگائی گئی ہے۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ استثنیٰ کی درخواست پر 11 جون کو بحث کرلی جائے جس پر عدالت نے فاضل جج محمد بشیر نے کہا کہ نواز شریف پانچ دس منٹ بیٹھ کر جا سکتے ہیں۔دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں حتمی دلائل موخر کرنے کی درخواست مسترد کئے جانے کے احتساب عدالت کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

سابق وزیراعظم نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ہمیں لندن فلیٹ ریفرنس میں دفاع پہلے ظاہر کرنے پر مجبور کیا گیا جبکہ تینوں ریفرنسز میں اثاثے بنانے کا ایک ہی الزام لگایا گیا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب کے اہم گواہ واجد ضیاءکا بیان بھی تینوں ریفرنسز میں ایک ساتھ اور تینوں ریفرنسز کو یکجا ہونا چاہیے تھا، واجد ضیاءالعزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس میں بھی اپنا بیان مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

نواز شریف کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت نے ہماری درخواست مسترد کر کے خلاف قانون فیصلہ جاری کیا، واجد ضیاءکا تینوں ریفرنسز میں ایک ساتھ بیان ریکارڈ نہ کرنے کا حکم نامہ کالعدم قرار دیا جائے۔سابق وزیراعظم نے اپنی درخواست میں قومی احتساب بیورو کو فریق بنایا جبکہ انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے احتساب عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی بھی استدعا کی۔