معرکہِ حق: مودی کے فوجی بالادستی اور علاقائی برتری کے خواب ریزہ ریزہ

بدھ 29 اپریل 2026 21:25

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اپریل2026ء) پاکستان نے گزشتہ سال 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پنجاب اور آزاد کشمیر پر بھارتی جارحیت کے بعد اپنے سے تین گنا بڑے دشمن کو عبرتناک شکست سے دوچار کرکے نریندر مودی کے فوجی بالادستی اور علاقائی برتری کے پُرفریب نظریے کو پاش پاش کر دیا۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کے نو مقامات پر بھارت کے بلا اشتعال میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہری شہید ہوئے تھے۔

پاکستانی افواج نے 10 مئی 2025 کو دن کے وقت آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز کرتے ہوئے دشمن کو بہادری سے جواب دیا اور دشمن کی اہم فوجی تنصیبات تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ انتہائی جدید ’’رافیل‘‘ سمیت دشمن کے متعدد جنگی طیارے مار گرائے۔انتہائی مہارت اور درستگی کے ساتھ، پاک فوج اور پاک فضائیہ نے بھارت کے دفاعی حصار پر بجلی بن کر وار کیا اور دشمن کی توپوں کو خاموش کر دیا۔

(جاری ہے)

پاکستانی افواج نے محض ایک دن کی ناقابلِ تسخیر کارروائی میں نہ صرف بھارتی فوج کو مفلوج کیا بلکہ صورت گڑھ، سرسا، سرینگر، جموں اور پٹھان کوٹ میں ان کے فضائی اڈے بھی تباہ کر دیے جبکہ بیاس اور نگروٹہ میں ’’برہموس‘‘ میزائل سائٹس کو نیست و نابود کر دیا گیا جبکہ آدم پور اور بھوج میں نصب بھارت کے نام نہاد ’’ایس-400‘‘ سسٹمز کو بھی تباہ کر کے بھارت کی دفاعی ڈھال کو بے اثر کر دیا گیا۔

پاکستان کی اس تاریخی فتح کے جشن میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 10 مئی کو یومِ معرکہِ حق کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔وزیراعظم کی اپیل پر خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں معرکہِ حق بھرپور طریقے سے منایا جا رہا ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عدنان سرور خان نے بدھ کو ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معرکہِ حق میں پاکستان نے مودی کے نام نہاد سیاسی بالادستی اور فوجی و علاقائی برتری کے دعوے کو خاک میں ملا دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ نے اپنی عظیم طاقت، عزم اور جنگی مہارت کا فیصلہ کن مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کو منہ توڑ جواب دیا اور ان کے رافیل طیاروں سمیت کئی طیارے گرانے کے ساتھ ساتھ دشمن کے اہم اڈوں پر درست نشانے لگا کر انہیں تباہ کیا۔ ڈاکٹر عدنان سرور خان نے کہا کہ اس شاندار کامیابی نے نہ صرف فضاؤں میں پاکستان کی دھاک بٹھا دی بلکہ خطے میں مودی کی فوجی ناقابلِ تسخیریت کے مصنوعی بت کو بھی پاش پاش کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب اور آزاد کشمیر پر بھارت کے بلا جواز حملوں کے بعد پاکستان کے پاس بھرپور جوابی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ ڈاکٹر عدنان سرور خان کے مطابق معرکہِ حق نے بھارتی میڈیا کے پاکستان مخالف منفی پروپیگنڈے کو غلط ثابت کر دیا۔ دشمن کے میڈیا چینلز، جو قوم پرستی کے نشے میں پاکستان کو ایک کمزور حریف بنا کر پیش کر رہے تھے، معرکہِ حق میں بھارتی فوج کی عبرتناک شکست کے بعد خود مودی پر تنقید کرنے لگے۔

پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ ہلالی نے کہا کہ معرکہِ حق کی کامیابی نے عالمی سطح پر مودی کے امیج کو شدید نقصان پہنچا دیا۔ بھارت عالمی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ڈاکٹر ہلالی نے کہا کہ مودی جس نے اپنی سیاست کی بنیاد نفرت، اقلیتوں پر ظلم اور مصنوعی برتری پر رکھی تھی، پاکستان کی فوجی طاقت کا غلط اندازہ لگانے کے بعد دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر مودی حکومت وزیراعظم شہباز شریف کی پہلگام واقعے کی مشترکہ تحقیقات کی پیشکش قبول کر لیتی، تو آج دنیا اس ہندوتوا حکومت کا مذاق نہ اڑاتی۔ ڈاکٹر ہلالی نے واضح کیا کہ 36 رافیل طیاروں اور پانچ ایس-400 سسٹمز پر بھارت کی بھاری سرمایہ کاری کا مقصد فضائی برتری حاصل کرنا تھا مگر پاکستان کے جدید فضائی دفاعی نظام کے سامنے یہ مہنگا ترین اسلحہ اور ٹیکنالوجی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی۔

سابقہ فاٹا کے سابق سیکرٹری امن و امان بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کے مطابق پاکستان کے مربوط دفاعی طریقہ کار نے بھارت کے مہنگے ہتھیاروں کو مات دے دی۔ انہوں نے کہا کہ جے 10 سی کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ریڈار اور میزائل سسٹم نے پاکستانی پائلٹوں کو 200 کلومیٹر دور سے رافیل طیاروں کو نشانہ بنانے کے قابل بنایا، جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ بہترین حکمت عملی، ہم آہنگی اور جذبہِ شجاعت سے جیتی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ معرکہِ حق میں پاکستان کے ڈرونز (یو اے ویز) نے سرحد پار کسی بھی رکاوٹ کے بغیر اپنے مشن مکمل کیے۔ ایس-400 سسٹم کی تباہی کے بعد بھارتی فضائی حدود میں ان کی بلا خوف و خطر نقل و حرکت نے ثابت کیا کہ کامیاب ڈرون آپریشنز بہترین جنگی حکمت عملی اور تزویراتی نظریے کے مرہونِ منت ہوتے ہیں۔ میدانِ جنگ کے علاوہ بھارت کے اندرونی حالات بھی معرکہِ حق کے بعد بگڑ گئے ہیں اور جنگ میں ناکامی کے بعد مودی کا سیاسی گراف تیزی سے نیچے گرا۔

انہوں نے کہا کہ سکھوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں سمیت دیگر پسماندہ طبقات نے سوشل میڈیا پر اپنی محرومیوں کا اظہار شروع کر دیا ہے۔ بھارت کے مختلف شہروں میں ہندوتوا کارکنوں اور اقلیتوں کے درمیان جھڑپوں نے بھارت کے نام نہاد سیکولر اور ترقی پسند چہرے کے پیچھے چھپی گہری دراڑوں کو عیاں کر دیا ہے۔ چار روز تک جاری رہنے والا یہ تنازعہ 10 مئی کو امریکا کی ثالثی میں جنگ بندی پر ختم ہوا اور یہ بھارت کی کسی فتح کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہوا کیونکہ پاکستان کی عسکری اور تکنیکی برتری کے سامنے بھارت کے پاس آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

بھارتی عوام اور سول سوسائٹی، جو پہلے اندھی قوم پرستی میں مبتلا تھے، اب اس مئی کے تنازعے اور اپنے میڈیا کے جھوٹے بیانیے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عسکری کامیابی نے پاکستان میں قومی اتحاد کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے جہاں تمام سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی افواجِ پاکستان کی حمایت میں متحد ہیں۔ سوشل میڈیا نے بھی اس عوامی تائید کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس نے اس بحران کو پاکستان کےلیے قومی یکجہتی کے ایک یادگار لمحے میں بدل دیا۔

مودی کی بلا اشتعال جارحیت نے پاکستانی قیادت کو یہ موقع دیا کہ وہ دشمن کے خلاف متحد ہو کر کام کرنے کے عہد کو دہرائیں۔پاکستانی قوم میں ایک نیا اتحاد، استقامت اور سفارتی وقار پیدا ہوا ہے۔ عسکری، سماجی اور سیاسی ہر لحاظ سے پاکستان ایک مضبوط اور خود اعتماد ریاست کے طور پر ابھرا ہے۔ اس کے برعکس مودی کی ساکھ خاک میں مل چکی ہے۔بھارت کے فوجی غلبے اور علاقائی تسلط کا خواب چکنا چور ہو گیا ہے اور وہ انتہا پسندانہ جنون جو کبھی مودی کی طاقت تھا، اب ان کےلیے ایک سیاسی بوجھ بنتا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر عدنان سرور خان کے مطابق 10 مئی کو جنوبی ایشیا کی فضاؤں نے حق کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ مودی جسے اپنی طاقت کا مظاہرہ بنانا چاہتے تھے، وہ اسلام آباد کی برتری اور ایک توانا پاکستان کے عروج کا تاریخی سنگِ میل بن گیا۔ معرکہِ حق نے نہ صرف روایتی جنگ میں فضائی قوت کی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ خطے میں برتری کا فیصلہ جہازوں کی تعداد چاہے وہ انسان بردار ہوں یا ڈرونز سے نہیں ہوتا بلکہ یہ معیاری جنگی پلیٹ فارمز اور بصیرت انگیز قیادت ہے جو حتمی فتح دلاتی ہے۔

بلا شبہ اب ایک نئی قیادت کا تعین ہو چکا ہے، جہاں پاکستان عالمی سطح پر خطے میں استحکام لانے والی ایک ایسی ریاست بن کر ابھرا ہے جو تحمل کا مظاہرہ بھی کرتی ہے لیکن امن کی بحالی اور دشمن کے ناپاک عزائم کو پوری قوت سے خاک میں ملانے کے لیے ہر لمحہ تیار رہتی ہے۔